English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

آئین سے متصادم غیر اسلامی فیصلے اور قوانین بن رہے ہیں ، ملی یکجہتی کونسل

اسلام آباد:نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ، صاحبزادہ ابولخیر زبیر و دیگر مرکزی مجلس عاملہ ملی یکجہتی کونسل کے اجلاس میں شریک ہیں

 

لاہور(نمائندہ جسارت)پاکستان اسلام کے نام پر بنا، اس کے آئین میں لکھا ہے کہ یہاں کوئی قانون اسلام کے خلاف نہیں ہوگا تاہم افسوس کے ساتھ یہاں اسلام کے خلاف قوانین بھی بن رہے ہیں اور فیصلے بھی ہو رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار ملی یکجہتی کونسل کے صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابو الخیر زبیر نے مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انھوں نے کہا کہ گھریلو تشدد بل کے حوالے سے وزیر اعظم نے یقین دہانی کرانے کے باوجود سیکولر بل پاس کرایا، لاہور کی عدالت نے فیصلہ کیا کہ عدت میں نکاح جائز ہے، کراچی میں اجازت کے ساتھ بننے والی مسجد کو ڈھانے کا فیصلہ کیا گیا۔یہ انتہائی تشویش ناک فیصلے اور اقدامات ہیں۔حکومت خود کہہ رہی ہے کہ بیرونی قرضے لے کر ہم غلام بن چکے ہیں، مہنگائی کو عالمی مسئلہ بنا کر پیش کیا جارہا ہے اس پر مستزاد منی بجٹ پیش کر کے عوام پر مزید بوجھ ڈالا جارہا ہے۔ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی کو آزادی کی جانب لے جانا چاہیے ورنہ مسائل کنڑول نہیں کیے جاسکیں گے۔کونسل کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل کے قیام کا مقصد فرقہ وارانہ ہم آہنگی، وحدت اور مثالی اسلامی ریاست کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ مری میں رونما ہونے والا سانحہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ ہمارے سماج، حکومتی اور ریاستی اداروں کا شیرازہ بکھرا ہوا ہے۔ بے حسی کی انتہا ہے کہ انسان مر رہے تھے اور حکومت گاڑیاں گن رہی تھی۔ انھوں نے کہا کہ قومی، سیاسی قیادت ملک کو سنبھالنے کے لیے سنجیدگی کا مظاہر ہ کرے۔ پی ٹی آئی نے ریاست مدینہ کے قیام کا اعلان کیا تھا لیکن پوری ڈھٹائی کے ساتھ سیکولرازم پھیلایا جارہا ہے، نظام تعلیم کو عملاً اغیار کے تابع کر دیا گیا ہے۔ مزاروں، خانقاہوں کے لیے مشکلات پیدا کی جارہی ہیں۔ جو حکومت آئین کی پابندی نہ کرے اسے حکومت میں رہنے کا حق نہیں ہے۔ ہمیں بیرونی قرضوں نہیں خودانحصاری کی ضرورت ہے، آئی ایم ایف کے بجائے اسلامی معاشی نظام لایا جانا چاہیے۔ مہنگائی سے تنگ عوام کو لچھے دار گفتگو کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے حل کیا جائے۔ اگر حالات بدستور جاری رہے تو حالات کو کنٹرول کرنا کسی کے اختیار میں نہیں ہوگا۔ ملی یکجہتی کونسل پاکستان پورے ملک میں کانفرنسوں اور سیمینار ز کا انعقاد کرے گی۔یاد رہے کہ ملی یکجہتی کونسل کی مرکزی مجلس عاملہ کے اس اجلاس میں دستور کمیٹی کی تجاویز کی اتفاق رائے سے منظوری دی گئی۔اس اجلاس میں کونسل کی تنظیم نو کے بعد ماہ اکتوبر سے ماہ دسمبر تک کی مرکز اور صوبوں کی کارکردگی رپورٹس پیش کی گئیں۔ اسی طرح کونسل کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے سہ سالہ پروگرام پیش کیا گیا۔ اجلاس میں علما و مشائخ کونسل کے سربراہ معین الدین کوریجہ،کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ثاقب اکبر،اسلامی تحریک کے نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی، تحریک خلافت کے سربراہ قاضی ظفر اللہ، جماعت اہل حرم کے سربراہ گلزار احمد نعیمی، جماعت ھدیۃ الہادی کے صدر رضیت باللہ، جمعیت علما پاکستا ن کے سیکرٹری جنرل پیر سید صفدر گیلانی،تحریک جوانان پاکستان کے سربراہ عبد اللہ گل ، مجلس وحدت مسلمین کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر شیرازی، جمعیت علما پاکستان کے مرکزی رہنما انجم عقیل نے اظہار خیال کیا۔ ان کے علاوہ شعبہ مالیات کے مسئول طاہر تنولی، صوبہ کشمیر کے صدر عبد الرشید ترابی، وسطی پنجاب کے صوبائی رہنما سید نثار علی ترمذی، شمالی پنجاب کے سیکرٹری جنرل سید جعفر نقوی، خیبر پختونخوا کے صدر عبد الواسع صوبائی،جنوبی پنجاب کے صوبائی مسئول آصف محمود اخوانی، مرکزی رابطہ سیکرٹری پیر لطیف الرحمن شاہ، میڈیا کوارڈینیٹر شاہد شمسی، حبیب الرحمن فریدی،جنوبی پنجاب کے صدر محمد ایوب مغل، عطا الرحمن، مرکزی رابطہ سیکرٹری سید اسد عباس اور دیگر شریک تھے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے