مسلم لیگ(ن) کے رہنماﺅں نے دعویٰ کیا ہے کہ آئی ایم ایف سن لے سٹیٹ بینک بل سمیت بلڈوز کئے گئے تمام بلز واپس ہونگے ،کل عوام کا قتل نامہ تھا جس پر مہر لگائی گئی ،پہلے عوام کو مہنگائی کا کینسر لگایا اورپھر گلا ہی کاٹ دیا،وزیر خزانہ 1997 سے ہر حکومت میں رہے ہیں،6 ماہ پہلے وزیر خزانہ جنت کی تصویر دکھا رہے تھے ایسا کیا ہوا 6 ماہ میں اپکو عوام کے خون کا آخری قطرہ نچوڑنے کی ضرورت پڑ گئی ،آئی ایم ایف کے پاس جانا جرم نہیں بلکہ سرینڈر کرنا جرم ہے، حکومت فیل وزیروں کی سرکس ہے،ایک وزیر اپنی وزارت میں فیل ہو جائے تو اس کو اس سے بھی بڑی وزارت مل جاتی ہے،سٹیٹ بینک بل سب سے خطرناک ہے ، اپنی معیشت کی چابی ہم نے آئی ایم ایف کے حوالے کر دی ،رات کے اندھیرے میں بغیر کسی بحث ہوئے اسے پاس کروایا گیا ، منی بجٹ سے 25 ہزار فی گھرانہ اضافی بوجھ ڈالا گیا ، 23 مارچ کو عظیم الشان عوامی پریڈ ہوگی،حکومت اس پریڈ کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ (ن)کے رہنماﺅںشاہد خاقان عباسی،احسن اقبال ،مفتاح اسماعیل اور خرم دستگیر خان نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔مسلم لیگ(ن)کے سینئر نائب صدر اورسابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ کل پارلیمان کا سیاہ ترین دن تھا پاکستان کے عوام پر 7 سو ارب روپے سے زیادہ کا بوجھ ڈالا جارہا ہے ،اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر نے کوشش کی ایوان میں ووٹنگ بھی نہ ہوسکے، اسکی کوئی تاریخ میں مثال نہیں کہ ایوان میں بحث بھی نہ ہوسکی، عجلت میں بلز پاس کروائے گئے، وہ عجلت کیا تھی بتانے سے قاصر تھے ،سب سے خطرناک بل ہے کہ اپنی معیشت کی چابی ہم آئی ایم ایف کے حوالے کررہے ہیں،رات کے اندھیرے میں بغیر کسی بحث ہوئے اسے پاس کروایا گیا ، ہم نے اسپیکر اورحکومت سے کہا حقائق تو سامنے رکھیں،نجی محفلوں میں وزراءکہتے ہیں ہم آئی ایم ایف کے ہاتھوں مجبور ہیں،آپ مجبور ہیں تو ایسے بل کا دفاع کیوں کررہے ہیں؟کوئی رولز، آئین اور روایات کی پرواہ نہیں کی گئی ،یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب وزیر اعظم ایوان میں موجود تھے ۔انہوں نے کہا کہ اعددی برتری تو ٹیلی فونز نے پوری کردی، کم از کم ایوان میں بحث تو ہوتی ۔شاہدخاقان عباسی نے کہاکہ آئی ایم ایف بھی بات سن لے یہ بلز واپس لئے جائیں گے ،یہ بل آئی ایم ایف کے حق میں ہوسکتا ہے پاکستان کے حق میں نہیں ہے،6 ارب کے قرضے لینے کے لئے آج ہم اپنی معیشت آئی ایم ایف کودینے کو تیار ہیں،وزیر خزانہ 1997 سے ہر حکومت میں رہے ہیں ،وزیر خزانہ کو آج سب باتیں یاد آئی ہیں، پہلے تو ان سے ایسی کوئی بات نہیں سنی تھی، کل جو بل پاس ہوا شائد اسکے بعد پاکستان کی معیشت نمبر ون پر آجائے کیونکہ وزیر اعظم اور انکے ہمنوا ایسے ہی عوام کے سامنے پیش کریں گے ،مہنگائی بڑھتی جارہی ہے اور بڑھے گی۔پارلیمان بلڈنگ فتخ کرنے کو نہیں کہتے بلکہ آئین کے مطابق چلتا ہے جب حکومت بے شرم ہو جائے وزیراعظم جھوٹ بولے تو ایسا ہی ہوتا ہے، اپوزیشن کا کام ایوان میں عوام کی آواز کو پہنچانا ہے، جو کچھ کل آپ نے دیکھا یہ صرف کرسکتے ہیں، جو عوام کے منتخب نمائندے نہ ہوں مری میں 23 لوگ جان بحق ہوگئے اور کوئی پوچھنے والا نہیں، جب موسم بہتر ہوگیا تو مری کا راستہ بند کردیا، کیا مری جانا جرم ہے؟مری کی عوام نے لوگوں کی گاڑیوں سے برف ہتاکر لاشیں نکالیں۔انہوں نے کہا کہ ایران ایل این جی نہیں بناتا،ایل پی جی منگوائی ہوگی اور اس میں بھی گھپلا ہی ہوگا،وزراء سچ بولنے سے قاصر ہیں ،کل جو جھگڑا ہوا وہ بھی گیس کی کمی کی وجہ سے ہوا،اگر ملک میں گیس کی کمی ہے تو کیوں کمی ہے کیونکہ آپ نے ایل این جی نہیں خریدی،چار روپے 60 پیسے فی یونٹ بجلی مہنگی بنانے پر ہر پاکستانی پیسے دے رہا ہے،آپ جھوٹ بول رہے ہیں سفید جھوٹ تو نہ بولیں،آپ ایل این جی خرید نہ سکے اور بوجھ عوام پر ڈال دیا ،کل پرویز خٹک سے کہا کہ میں 5 سال وزیر رہا کیا خیبر پختون کو ایک بھی تکلیف ہوئی؟کیا اس وقت خیبر پختون خواہ میں سی این جی نہیں چلتا تھا،آج خیبر پختون خواہ کے پاس اس سے بھی زیادہ گیس ہے ،کیوں پورے پاکستان میں گیس کی کمی ہے ،جو وزیر آتا ہے وہ الف بے سے شروع کرتا ہے اور نکال دیا جاتا ہے ،کہتے ایل این جی ٹرمنل مہنگے ہیں تو شکایت کرو نا نیب میں ،تم لگا لو سستا ساڑھے 3 سال میں کوئی ٹرمینل لگا ہے؟اس ملک کو تباہ نہ کریں عوام پر بوجھ مت ڈالیں۔رکن قومی اسمبلی خرم دستگیر نے کہاکہ کل عوام کا قتل نامہ تھا جس پر مہر لگائی گئی پہلے عوام کو مہنگائی کا کینسر لگایا اور کل گلا ہی کاٹ دیا،حساس قیمتوں کا انڈیکس جمعرات تک 22 فیصد تھامہنگائی کی بیماری کا علاج اس فنانس بل میں نہیں تھا اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں 10 فیصد اضافہ کیا گیافنانس بل کا تمام فوکس مہنگائی میں اضافہ پر تھاعمران خان نے پہلے غریبوں کا گلہ کاٹا اور اب سرنج سے خون نکالا جارہا ہے آئی ایم ایف کی تابعداری میں بل بھی پاس کیا گیااسٹیٹ بنک کانام اب سلیو بنک یعنی غلام بنک رکھ دینا چاہے عمران خان اور انکے حواری سمجھتے ہیں انہوں نے بل پاس کروایا ہے یہ بل پاس نہیں حقیقت میں انہوں نے اپنی خود کشی کے کاغذ پر دستخط کئے ہیں کروڑوں پاکستانیوں کا استحقاق مجروح ہوا جنھوں نے ہمیں منتخب کیا ہے عوام کے پوچھنے کا حق بھی غصب کیا گیا ہے۔سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہاکہ سالانہ کے حساب سے 7 سو ارب روپے کا بوجھ ڈالا گیا ہے ،348 ارب روپے کہاں سے آرہے ہیں؟کیا ضرورت پڑی؟ آئی ایم ایف تو کہتا ہے بجٹ خسارہ کو کم کروآپ اخراجات کم کرلیتے، آپ نے ٹیکس لگا دیاکسی بھی حکومت نے سن فلاور اور کنولا سیڈ پر ٹیکس نہیں لگایا تھا ،انہوں نے لگا دیا،عمران خان کی اے ٹی ایمز کو ریلیف دیا ہوا ہے، اس پرآئی ایم ایف کچھ نہیں کہتی چکن ہچری،مرغی کی خوراک پر ٹیکس لگا دیا ہے کیااس سے قیمتیں بڑھیں گی یا نہیں؟ڈبل روٹی پر ٹیکس واپس لیا اور دکاندار پر ٹیکس لگا دیا،آپ نے تمام مشنری پر ٹیکس لگا دیا ہے، سرمایہ کار پر بھی ٹیکس لگا دیا ہے ،آپ نے فرما سوٹیکلز پر 140 فیصد ٹیکس لگا دیا،دوائیاں پہلے مہنگی کی اور اب ان کر ٹیکس لگا دیا ہے، آپ کے پاس پہلے سے ڈاکومنٹیشن موجود ہے، عمران خان بات کرتے ہیں بچوں میں غذائی قلت ہوگئی ہے ،بچوں کی غذائی قلت والی دوائی کر بھی ٹیکس لگا دیا گیا ہے، اس حکومت نے گذشتہ ماہ ساڑھے گیارہ فیصد پر بینکوں سے قرض لیاآپ نے ڈرپ ایری گیشن پر بھی ٹیکس لگا دیا ہے۔ سابق وزیرداخلہ اور مسلم لیگ(ن)کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہاکہ 13 جنوری پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے، پاکستان کی مالیاتی خود مختاری کا اسٹیٹ بینک بل بلدوز کیا گیا، کل اسپیکر صاحب سے منت کی کہ یہ پاکستان مخالف بل ہے، بلز پر ایک چوتھائی وقت تو ملتا کہ شق وار بحث کی جاسکتی ،قومی اسمبلی میں اسٹیٹ بینک بل کو قواعد و ضوابط معطل کرکے بل بلڈوز کردیا، ساڑھے 3 سو ارب کے اضافی ٹیکس لگائے گئے ہیں،یہ وزیر خزانہ فرما رہے تھے پاکستان کی ٹیکسوں کی وصول تاریخی ہے ،6 ماہ پہلے وزیر خزانہ جنت کی تصویر دکھا رہے تھے ،ایسا کیا ہوا 6 ماہ میں اپکو عوام کے خون کا آخری قطرہ نچوڑنے کی ضرورت پڑ گئی، یہ قوم کے ساتھ ظلم ہے اور مصیبت ان پر ڈھائی جارہی ہے ،سی پیک کے منصوبہ کو تباہ کرنے کا یہ نسخہ ہے ،جب آپ ڈھائی سو ارب روپے کاٹ رہے ہیں تو آپ فنڈز فراہم نہیں کرسکتے ،ڈویلپمنٹ سیکٹر میں کٹوتی لگنے سے پاکستان کا پورا انفراسٹرکچر متاثر ہوگا ،کئی سو ارب روپے جرمانے کی صورت میں ملک برداشت کررہا ہے، ثاقب نثار کو مبارک اپکا صادق اور آمین ملک کو ایک سو ارب روپے کا پڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا جرم نہیں بلکہ سرینڈر کرنا جرم ہے،ماضی کی حکومتیں بھی آئی ایم ایف کے پاس گئیں لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا جو آب ہورہا ہے،یہ حکومت فیل وزیروں کی سرکس ہے،ایک وزیر اپنی وزارت میں فیل ہو جائے تو اس کو اس سے بھی بڑی وزارت مل جاتی ہے،23 مارچ کو عظیم الشان عوامی پریڈ ہوگی،حکومت اس پریڈ کا مقابلہ نہیں کرسکتی، منی بجٹ سے 25 ہزار فی گھرانہ اضافی بوجھ ڈالا گیا ۔

