سائنسدانوں نے ایک ایسے جین کو دریافت کیا ہے جو کووڈ 19 سے بہت زیادہ بیمار ہونے یا موت کا خطرہ بڑھاتا ہے۔
پولینڈ کے طبی ماہرین نے اس جین کو دریافت کیا اور وہاں کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس پیشرفت سے ان افراد کو شناخت کرنے میں مدد مل سکے گی جن کو بیماری سے سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
پولینڈ میں کووڈ 19 کی وبا سے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ماپرین کی جانب سے جون 2022 کے آخر تک ایسے جینیاتی ٹیسٹوں کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے تاکہ کووڈ سے زیادہ خطرے سے دوچار افراد کی شناخت کی جاسکے۔
میڈیکل یونیورسٹی آف بائیلسٹوک کی تحقیق کے تخمینے کے مطابق خطرہ بڑھانے والا جین 14 فیصد پولش آبادی میں موجود ہے جبکہ یورپ میں یہ 9 فیصد اور بھارت میں 27 فیصد افراد میں پایا جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق عمر، وزن اور جنس کے ساتھ بیماری کی شدت کے تعین میں مددگار چوتھا اہم ترین عنصر ہے۔
محققین نے بتایا کہ ایک جینیاتی ٹیسٹ سے ان افراد کی شناخت میں ممکنہ مدد مل سکے گی جن میں بیماری کا خطرہ ہوگا اور ایسا ان کے بیمار ہونے سے پہلے جاننا ممکن ہوسکے گا۔
اس تحقیق میں لگ بھگ ڈیڑھ ہزار افراد کو شامل کیا گیا تھا۔
اس دریافت یہ ممکنہ وضاحت ہوتی ہے کہ ویکسینیشن کرانے سے ہچکچاہٹ سے ہٹ کر بھی پولینڈ میں کووڈ سے اموات کی شرح زیادہ کیوں ہے۔
پولینڈ یورپ میں کووڈ سے شرح اموات کے لحاظ سے سب سے اوپر ہے جو 20 فیصد سے زیادہ ہے۔
پولش وزارت صحت نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس نئی تحقیق کے نتائج کسی طبی جریدے میں شائع ہوئے ہیں یا نہیں۔
اس سے قبل نومبر 2021 میں برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں کووڈ کے مریضوں میں موت اور پھیپھڑوں کے افعال فیل ہونے کا خطرہ بڑھانے والے ایک جین کو دریافت کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ جین کا یہ ورژن کروموسوم کے خطے میں ہوتا ہے جس کو ماہرین نے 60 سال سے کم عمر کووڈ مریضوں میں موت کا خطرہ دگنا بڑھا دیتا ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ مخصوص جین ایل زی ٹی ایف ایل 1 دیگر جینز کی سرگرمیوں کو ریگولیٹ کرنے کا کام کرتا ہے اور وائرسز کے خلاف پھیپھڑوں کے خلیات کے ردعمل کے عمل کا بھی حصہ ہوتا ہے۔
جین کی یہ قسم سانس کی نالی اور پھیپھڑوں کے خلیات میں وائرس کو جکڑنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔
محققین کا کہنا تھا کہ مگر یہ جین مدافعتی نظام پر اثرات مرتب نہیں کرتا جو بیماریوں سے لڑنے کے لیے اینٹی باڈیز بنانے کا کام کرتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جن افراد میں جین کی یہ قسم ہوتی ہے ان میں ویکسینز کا ردعمل معمول کا ہوتا ہے۔
اومیکرون سے ہونے والی بیماری کی شدت کے بارے میں نیا ڈیٹا جاری
کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون دنیا بھر میں بہت زیادہ افراد کو بیمار تو کررہی ہے مگر اس سے بیماری کی سنگین پیچیدگیوں، ہسپتال میں داخلے اور موت کا خطرہ دیگر اقسام کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔
درحقیقت ویکسینیشن نہ کرانے والے افراد میں بھی اومیکرون سے بہت زیادہ بیمار ہونے یا موت کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
یہ بات جنوبی افریقہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
نیشنل انسٹیوٹ آف کمیونیکیبل ڈیزیز (این آئی سی ڈی) کی اس تحقیق میں جنوبی افریقہ میں کورونا کی اولین 3 لہروں میں بیمار ہونے والے 11 ہزار 600 مریضوں کا موازنہ اومیکرون سے متاثر ہونے والے 5 ہزار 100 افراد سے کیا گیا۔
خیال رہے کہ عالمی سطح پر اومیکرون کے کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے مگر سنگین شدت کے کیسز کی شرح کم ہے جبکہ ہسپتال میں داخلے اور اموات کی تعداد بھی سابقہ اقسام کے مقابلے میں کم ہے۔
سائنسدانوں کی جانب سے یہ تعین کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ بیماری کی کم شدت کی وجہ ویکسینیشن یا سابقہ بیماری تو نہیں یا کورونا کی نئی قسم بذات خود دیگر کے مقابلے میں زیادہ جان لیوا نہیں۔
اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اومیکرون سے بیمار ہونے پر سنگین بیماری کا خطرہ ایک چوتھائی حد تک کم ہونے کی وجہ ممکنہ طور پر وائرس خود ہے۔
تحقیق کے مطابق اومیکرون کی لہر میں سنگین نتائج کی شرح میں کمی یقیناً ویکسینیشن یا سابقہ بیماری نے کردار ادا کیا مگر وائرس کی جان لیوا صلاحیت میں بھی ڈیلٹا کے مقابلے میں 25 فیصد کمی آئی۔
اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے تو ان کو حتمی قرار نہیں دیا جاسکتا، مگر یہ سابقہ تحقیقی رپورٹس سے مطابقت رکھتے ہیں۔
23 دسمبر کو برطانیہ کی جانب سے جاری ڈیٹا میں بتایا گیا تھا کہ اومیکرون سے مریضوں کے زیادہ بیمار ہونے کا خطرہ ڈیلٹا قسم کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔
ڈیٹا کے مطابق اومیکرون قسم کی شدت ڈیلٹا کے مقابلے میں زیادہ کم نظر آتی ہے جبکہ ہسپتال میں داخلے کا خطرہ 40 فیصد تک کم ہوتا ہے۔
مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ انتباہ بھی کیا گیا کہ اگرچہ بیماری کی شدت معمولی ہوسکتی ہے مگر اس کے زیادہ تیزی سے پھیلنے کے باعث طبی نظام پر دباؤ بہت زیادہ بڑھ سکتا ہے۔
اس ڈیٹا میں یکم سے 14 دسمبر کے دوران برطانیہ میں پی سی آر ٹیسٹوں سے مصدقہ کووڈ کیسز کے ریکارڈ کو دیکھا گیا جس میں 56 ہزار کیسز اومیکرون جبکہ 2 لاکھ 69 ہزار ڈیلٹا کے تھے۔
ماہرین نے دریافت کیا کہ اومیکرون سے متاثر افراد میں ہسپتال جانے کا خطرہ ڈیلٹا کے مقابلے میں 20 سے 25 فیصد تک کم ہوتا ہے جبکہ کم از کم ایک رات کے لیے ہسپتال میں قیام کا امکان 40 سے 45 فیصد تک کم ہوتا ہے۔
اسی طرح یہ بھی دریافت کیا گیا کہ ایسے افراد جو پہلے کووڈ سے متاثر نہ ہوئے ہوں یا ویکسینیشن کے عمل سے نہ گزرے ہوں، ان میں اومیکرون سے بیمار ہونے پر ہسپتال میں داخلے کا خطرہ ڈیلٹا کے مقابلے میں 11 فیصد تک کم ہوتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ اگرچہ اومیکرون سے ہسپتال میں داخلے کا خطرہ ڈیلٹا سے کم نظر آتا ہے مگر یہ بھی عندیہ ملتا ہے کہ کورونا کی یہ نئی قسم ویکسینز کی افادیت میں کمی لاتی ہے۔
منبع: ڈان نیوز
The post سائنسدانوں نے کورونا سے زیادہ بیمار اور موت کا خطرہ بڑھانے والا جین دریافت کرلیا appeared first on شفقنا اردو نیوز.
