English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سؤر کے دل کی انسان میں کامیاب پیوندکاری کیسے کامیابی سے عمل میں آئی: شفقنا خصوصی

القمر
1990 کے اوائل جب ڈاکٹر منصور محی الدین دل کی پیوندکاری کے سرجن بننے کے لیے کام کررہے تھے تو انہیں یہ نصیحت ہوئی کہ اگر وہ اپنے مریضوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے طریقہ کار کو تبدیل کرنا ہوگا۔ محی الدین کراچی میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے ۔ ڈاؤ میڈیکل کالج سے اپنی طب کی تعلیم پوری کرنے کے بعد انہیں فلاڈلفیا کی یونیورسٹی آف پینسلوانیا میڈیکل سنٹر میں فیلو شپ مل گئی۔ ایک دن وہ اپنے رہنما ڈاکٹر ورڈی جے ڈیسیسا سے ملے جو کہ دل کی پیوند کاری کے ایک ممتاز پیوندکار سرجن تھے جنہوں نے انہیں کہا کہ اگر وہ دل کی سرجری کے منتظر ہسپتالوں میں مرنے والے مریضوں کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو انہیں کچھ مختلف کرنا ہوگا۔
فہرست میں دل کی سرجری کے منتظر ہزاروں مریضوں کے لیے ڈونرز کی تعداد کافی نہیں تھی۔ صرف امریکہ میں 110،000 افراد دل اور گردے کی پیوند کاری کے لیے ڈونرز کے منتظر ہیں۔ ڈیسیسا نے کہا کہ اگر محی الدین یہ بات جان لیں کہ کس طرح کسی جانور کے اعضاء کو انسان میں لگایا جاسکتا ہے جسے طبی اصطلاح میں زینو ٹرانسپلانٹ کہتے ہیں تو وہ چند افراد کے مقابلے میں کئی ہزار لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں۔ اور اگلے تیس برس محی الدین نے بن مانسوں پر کئی تجربے کیا تاکہ ان کے اعضاء کو انسان میں لگایا جاسکتے۔ تاہم جنوری 7 کو ان کی کوششیں رنگ لائیں جب میری لینڈ سکول آف میڈیسین کی یونیورسٹی میں ان کی ٹیم نے جنیاتی طور پر تبدیل شدہ سؤر کے دل کی انسان میں کامیابی سے پیوندکاری کر لی۔
ڈاکٹر محی الدین کا کہنا تھا کہ یہ ان کا خواب تھا جو بالاخر سچ ہوگیا اور میں نے یہ کبھی خیال نہیں کیا تھا کہ یہ خواب میری زندگی میں حقیقت کا روپ دھار جائے گا۔ 57 سالہ مریض ڈیوڈ بینیٹ جن کو سؤر کے دل کی پیوند کاری کی گئی اب روبہ صحت ہیں۔ ڈاکٹر محی الدین کا کہنا تھاکہ انہیں نارمل زندگی میں واپسی کے لیے کم از کم دو ماہ ہسپتال میں رہنا ہوگا۔ اس فقید المثال سرجری کے دو قدم ہیں ، محی الدین نے سؤر کا دل نکال کر اسے محفوظ کرنے والے برتن میں رکھا۔ ان کے دوسرے ساتھ بارٹلے گرفتھ نے اس کو کامیاب سرجری کے ذریعے مریض میں ٹرانسپلانٹ کر دیا۔

سالوں کی محنت

سرجری کا یہ عمل کئی دہائیوں پر محیط تھا۔ اس سے قبل بن مانس اور سؤر کے دل کی پیوند کاری نے اس لیے کام نہیں کیا کہ انسانی جسم نے اسے مسترد کر دیا تھا اور بعض اوقات چند منٹوں میں ہی مسترد کر دیا اور اس کی وجہ مضبوط امنیتی رد عمل تھا ۔ حتیٰ کہ نارمل انسان سے انسان کے عضو کی پیوندکاری میں ڈاکٹرز امنیتی رد عمل کو دبانے کے لیے طاقتور دوائیں استعمال کرتے ہیں تاکہ مسترد ہونے کی شرح کو کم کیا جاسکے۔ کئی برسوں سے سانئسی پیش رفتوں جیسا کہ کرسپر کیس 9 جنیاتی ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی نے ان رکاوٹوں کو کم کیا ہے۔ سؤر کے جین کو تبدیل کرکے اس کے اعضاء کو انسانی اعضاء کے متشابہ بنایا جاسکتا ہے۔
سؤر کے اعضاء کو اس لیے منتخب کیا گیا کہ اس کی افزائش آسان ہے اور اس کے اعضاء کا حجم انسانی اعضاء کے حجم کے برابرہوتاہ ہے۔ جنیاتی طور پر تبدیل شدہ سؤر جس کو بینیٹ سرجری میں استعمال کیا گیا میں 10 تبدیل شدہ جین شامل تھے۔ یہ اسی طرح کا سؤر تھا جسے ڈاکٹر محی الدین نے اپنی تحقیق میں استعمال کیا۔ اب بھی ایک رکاوٹ یہ ہے کہ جانور کے عضو کی پیوندکاری کے لیے انسانی جسم کے امنیاتی ردعمل پر یسے قابو پایا جائے۔ امنیت کو دبانے والے ادویات امنیت کو اس درجہ تک کم کر دیتی ہیں کہ عضو کو حاصل کرنے والا فرد دیگر بیماریوں اور انفیکشنز کے لیے آسان شکار بن جاتا ہے۔
2014 میں ڈاکٹر محی الدین نے ایک نئی دوا کے پی ایل 404 کے ساتھ نئے تجربات کیے جس میں ایک مخصوص اینٹی باڈی کو استعمال کر کے انسانی جس میں سؤر کے اعضا کی بقا کے امکانات کوبڑھایا گیا۔ جین کی تبدیلی کے آلات کی اس کمبی نیشن یعنی کے پی ایل 404 اور سویڈش کمپنی کی جانب سے سؤر کے دل کو محفوظ رکھنے والے محلول کی مدد سے بینٹ پیوندکاری کا کامیاب تجربہ کر لیا گیا۔

ابھی طویل سفر باقی ہے

اگرچہ ایک سؤر کے دل کو کامیابی سے بن مانس کے جسم میں دواؤں کی مدد سے لگا دیا گیا ہے تاہم اس سے قبل اس کا تجربہ انسانوں پر نہیں کیا گیا۔ امریکہ کے ہیلتھ ریگولیٹر’ دی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے قانون کے مطابق کوئی بھی دوا یا طبی طریقہ انسانوں پر نافذ ہونے سے قبل سخت تجربات سے گزرتا ہے۔ اس لیے ایف ڈی اے کی جانب سے ایمرجنسی استعمال کی اجازت کے بعد ہی ڈیوڈ بینیٹ پر پیوندکاری کا تجربہ ممکن ہوسکا۔ ڈاکٹر محی الدین کا کہنا ہے کہ بینیٹ بہت بیمار مریض تھے اگر انہیں طبی امداد نہ دی جاتی تو شاید وہ چند دن سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتے تھے۔  بینیٹ دل اور پھیپھڑوں والی مشین سے زندہ تھے۔ ان کا اپنا دل حجم میں دوگنا بڑھ گیا تھا اور پیوندکاری سے قبل کئی مرتبہ سی پی آر ایس سے گزر چکا تھا۔
محی الدین نے ایف ڈی اے سٹاف کی تعریف کی کہ انہوں نے بینیٹ کے لیے ایمرجنسی استعمال کی اجازت دی۔ ڈاکٹر محی الدین کا کہنا تھا کہ ہم نے 20 دسمبر کو درخواست دی اور نئے سال کی آمد پر پراس کی اجازت حاصل کر لی اور ہم کرسمس کی چھٹیوں میں مسلسل اس پر کام کیا۔ پیوندکاری کے اس عمل کو بڑے پیمانے پر استعمال میں لانے کے لیے ابھی بہت سارے کلینکل ٹرائلز کی ضرورت ہے کیونکہ سؤر میں موجود بہت سارے وائرسز کی انسان میں منتقلی کے خدشات اپنی جگہ پر قائم ہیں۔ محی الدین جو کہ بین الاقوام زینو ٹرانسپلانٹ ایسوی ایشن کے صدر بھی ہیں کا کہنا ہے کہ جانور سے انسانوں میں پیوندکاری کے لیے مضبوط کنٹرول کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر محی الدین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے 30 سالہ زینوٹرانسپلانٹ کے کام  اور اپنی کامیابیوں پر مطمئن ہیں۔ مگر ابھی بہت سار سفر طے کرنا باقی ہے۔ میں چاہتا ہے کہ یہ عام طبی طریقہ کار بن جائے اور میں ایف ڈی اے کو قائل کرنے کی کوشش کروں گا کہ یہ صرف مسٹر بینیٹ تک محدود نہیں رہنا چاہیے مگر ہر وہ شخص جو اس کا مستحق ہے اسے اس کا موقع دینا چاہیے۔
ہفتہ، 15 جنوری 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post سؤر کے دل کی انسان میں کامیاب پیوندکاری کیسے کامیابی سے عمل میں آئی: شفقنا خصوصی appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے