English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

یہ تاثر غلط ہے کہ وزیراعظم کی مقبولیت میں مہنگائی کی وجہ سے کمی آئی، فواد چوہدری

القمر

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے عمران خان کی مقبولیت میں کمی آئی ہے، عمران خان کا ووٹ بینک ملک کے ہر حصے میں موجود ہے اور ان کے علاوہ کوئی قومی لیڈر موجود ہی نہیں ہے۔

لاہور پریس کلب میں صحافیوں کو ہیلتھ کارڈ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے علاوہ اور کوئی پارٹی اس پوزیشن میں ہی نہیں ہے کہ آئندہ انتخابات میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ کھڑے کرسکے، پیپلز پارٹی صرف اندرون سندھ کی جماعت ہے، مسلم لیگ(ن) صرف سینٹرل پنجاب کی پارٹی ہے اور جمعیت علمائے اسلام(ف) صرف خیبر پختونخوا کے چند علاقوں تک محدود ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ الیکشن میں ہم دکھائیں گے کہ الیکشن کس طرح لڑا جاتا ہے، 2023 کے بعد اگلے 5 سال بھی ہم کہیں نہیں جارہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے 2011 سے 2017 تک گیس اسکیموں کی توسیع روک کر درست فیصلہ کیا تھا کیونکہ ملک میں گیس کم ہوتی جارہی تھی، جب پیپلزپارٹی کی حکومت گئی تب گیس کے اوپر ایک روپیہ بھی گردشی قرض نہیں تھا لیکن شاہد خاقان عباسی گیس پر 157 ارب روپے کا گردشی قرض چھوڑ کر گئے تھے، جو اسکیمیں انہوں نے شروع کیں انہیں مکمل کرنے کے لیے ہرسال 90 ارب روپے چاہئیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا مسئلہ نہیں چھوڑ سکتے کیونکہ ان کا مسئلہ مہنگائی سے جڑا ہوا ہے، 1947 سے 2008 تک 6 ہزار ٹریلین کا قرضہ لیا گیا، جبکہ 2008 سے 2018 تک 23 ٹریلین قرضہ لیا گیا، پانچ سالوں میں 55 ارب ڈالر قرضہ واپس کرنا ہے، تحریک انصاف حکومت اب تک 32 ارب ڈالر قرضہ واپس کرچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریٹنگ کے چکر میں ہماری گفتگو کا معیار گرتا چلا جارہا ہے، میڈیا پر گیس بحران کی وجوہات کو موضوع بنانے کے بجائے حماد اظہر اور پرویز خٹک کے درمیان تلخ کلامی پر بحث کی جانے لگی جو ہوئی ہی نہیں تھی۔

انہوں نے بتایا کہ جنوبی بلوچستان کے پیکج کے لیے 700ارب روپے خرچ کررہے ہیں اور اگلے 6 مہینوں میں گوادر کے اہم ترین مسئلے حل ہوجائیں گے۔

‘صحافیوں کو ہاؤسنگ اسکیم میں شامل کرلیا’

وزیراطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ صحت کارڈ سے صحت کے مسائل حل ہوں گے جس سے ہر خاندان 10 لاکھ روپے تک کا علاج کروا سکے گا، نجی ہسپتال جائیں تو علاج کا خرچہ حکومت اٹھائے گی، حادثے میں زخمی شخص کا بھی صحت کارڈ کے تحت فوری علاج ہو سکے گا۔

انہوں نےکہا کہ لاہور کے بعد اسلام آباد اور پھر پاکستان بھر میں موجود پریس کلبز کے صحافیوں کو یہ سہولت دینے جا رہے ہیں جس سے وہ اور ان کی فیمیلیز 10لاکھ روپے تک کا علاج کروا سکیں گی۔

انہوں نے کہا کہ صحت کارڈ ایک منفرد پروگرام ہے، اس منصوبے سے سب سے بڑا فائدہ سفید پوش طبقے کو ہو گا، سب سے زیادہ مسائل مڈل کلاس کے ہیں، وہ اچھے علاج بھی چاہتے ہیں لیکن کسی کے آگے ہاتھ بھی نہیں پھیلا سکتے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت سے بھی درخواست ہے کہ اس پروگرام میں حصہ ڈالیں۔

انہوں نے بتایا کہ صرف لاہور شہر میں اب تک 5 ہزار 669 لوگ صحت کارڈ سے مستفید ہوچکے ہیں۔وقت کے ساتھ صحت کارڈ کی سہولیات میں اضافہ ہوتا جائےگا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ پرائم منسٹر ہاوسنگ پروگرام میں صحافیوں کو شامل کرالیا ہے، تمام صحافی اس ہاونسنگ اسکیم کا فائدہ اٹھا سکیں گے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پانچ مرلہ کے گھر کے لیے 30 لاکھ قرضہ دیا جائے گا جس میں سے تین لاکھ روپیہ حکومت کی طرف سے ہوگا اور 27 لاکھ کا قرضہ کم ترین سود پر ہوگا، ایک کنال کے گھروں کے لیے بھی سستے منصوبے متعارف کروائے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں 2018 سے یہ بات کررہا ہوں کی پرنٹ میڈیا کو ڈیجیٹلائزیشن کی طرف آنا پڑے گا، جیسے جسے انٹرنیٹ کی اسپیڈ تیز ہوتی جائے گی وہ ریگولر میڈیا کی جگہ لے لے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ تین سالوں میں 12 ارب کی ایڈورٹائزمنٹ ریگولر میڈیا سے ڈیجیٹل میڈیا کی طرف شفٹ ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 3 سے 5 سالوں میں انٹرنیٹ کی اسپیڈ 4 جی سے 5 جی پر چلی جائے گی تو ہمیں ایک اور بڑے انقلاب کا سامنا ہوگا، فائیو جی خود بھی اتنا ہی بڑا انقلاب ہوگا جتنا بڑا خود انٹرنیٹ تھا، ہمارے موجودہ میڈیا کو اس انقلاب کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وزرات انفارمیشن ٹیکنالوجی نے کراچی پریس کلب میں ڈیجیٹل میڈیا لیب بناکر دی ہے، انشا اللہ لاہور پریس کلب میں بھی ڈیجیٹل میڈیا لیب بنائیں گے جہاں صحافیوں کو اپنے یوٹیوب چینلز کے لیے ایڈیٹنگ اور ٹریننگ کی سہولت دستیاب ہوں گی۔

‘کیمرا مین کی 7 سال سے تنخواہ نہیں بڑھی’

انہوں نے کہا کہ اس سال پاکستان کی سو بڑی کمپنیوں نے اسٹاک ایکسچینج میں 929 ارب روپے کا منافع کمایا ہے اور ہر میڈیا ہاؤس 35 سے 40 فیصد منافع میں گیا ہے، میڈیا مالکان کو کہتا رہتا ہوں کہ ورکنگ جرنلسٹس کا بھی کچھ خیال کریں، کل ایک کیمرا مین نے بتایا کہ ان کی 7سال سے تنخواہ نہیں بڑھی، ورکنگ جرنلسٹ کا خوشحال ہونا بڑا ضروری ہے۔

وزیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ زراعت میں 11 سو ارب کی اضافی آمدن ہوئی جس سے گروتھ سائیکل بڑھا ہے اور کسان منافع میں گیا ہے، ہماری گروتھ 5 فیصد پر ہورہی ہے لیکن سب سے زیادہ مشکل میں ہمارا تنخواہ دار طبقہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اب اخباروں کے لیے موجود امپلی منٹیشن ٹربیونل میں الیکٹرانک میڈیا کے ملازمین کو بھی یہ اختیار دے رہی ہے کہ اگر ان کا معاہدہ پورا نہیں کیا جاتا تو وہ بھی عدالت میں اپنا کیس فائل کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صحافی تنظیمیں مالکان کے حقوق کے لیے پارلیمنٹ کے باہر تک پہنچ جاتی ہیں لیکن ورکرز کے حقوق کے لیے آواز نہیں اٹھاتیں، ورکرز کو چاہیے کہ اپنی تنظیموں کا احتساب کریں۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر بورس جانسن کو وہاں کے میڈیا نے آڑھے ہاتھوں لے لیا اور ان کی کرسی خطرے میں پڑ گئی لیکن پاکستان میں اسحاق ڈار چینلز پر بھی نظر آرہے ہیں اور ان کے کالمز بھی چھپ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری اخلاقیات اس حدتک گرچکی ہیں کہ پاکستان کو لوٹ کر باہر بھاگنے والے میڈیا پر آکر معیشت پر ہمیں لیکچر دیتے ہیں اور پوری قوم کو انہیں سننا پڑتا ہے۔

قومی سلامتی پالیسی پارلیمان میں پیش کی جاسکتی ہے، معید یوسف

قومی سلامتی پالیسی (این ایس پی) ایک ‘ارتقا پذیر دستاویز’ ہے اور اس کے لیے ریاست کے تمام ستونوں کی جانب سے فکری بحث اور تعمیری دلائل کی ضرورت ہے تاکہ اتفاق رائے پیدا ہو جس سے اس کی پائیداری میں اضافہ ہو۔

اگرچہ اپوزیشن نے گزشتہ ماہ کے اوائل میں نیشنل سیکیورٹی ڈویژن کی جانب سے پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کو پالیسی پر دی گئی بریفنگ کا بائیکاٹ کیا تھا لیکن مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے کہا کہ وہ وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے پالیسی کو پارلیمنٹ یا ایوان کی کمیٹیوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہیں گے۔

تاہم گزشتہ سال دو مرتبہ کمیٹی کا اجلاس بہت اچھا رہا جب آرمی چیف نے قومی سلامتی کے امور پر بریفنگ دی تھی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ اپوزیشن کو قومی سلامتی کے معاملے پر سیاست نہیں کرنی چاہیے، اسے تمام اختلافات سے بالاتر رہنا چاہیے۔

انہوں نے کہا تھا کہ اگر اپوزیشن قومی سلامتی پالیسی کے بارے میں باضابطہ بریفنگ حاصل کرنا اور اپنی تجاویز فراہم نہیں کرنا چاہتی تو کیا وہ اس اہم پالیسی کو مؤخر کرنا چاہتی ہے جس میں پہلے ہی سات سال لگ چکے ہیں؟

اس حوالے سے معید یوسف نے گورنر ہاؤس میں سینئر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پالیسی کے بہتر عملدرآمد کے لیے اس کی منظوری سے قبل وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) سے گزرنے کے بعد سول ملٹری اتفاق رائے ہوچکا ہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ فوج نے اس پالیسی کو تسلیم کیا ہے اور اس کی حمایت کی ہے۔

مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما مشاہد حسین سید کی سربراہی میں سینیٹ کی کمیٹی برائے دفاع نے انہیں 7 جنوری کو ان کیمرہ بریفنگ کے لیے بلایا اور پالیسی کو سراہا، ساتھ ہی واضح کیا کہ ‘یہ کہنا غیر منصفانہ ہے کہ حکومت اپوزیشن کو بحث کرنے اور اپنی رائے دینے کا کوئی موقع نہ دے کر اتفاق رائے نہیں چاہتی’۔

تاہم انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں پالیسی سازی، کسی بھی دوسرے ملک کی طرح، ایک انتظامی کام اور موجودہ حکومت کا اختیار ہے، ریاست کے تمام ستون اپنی تجاویز دے سکتے ہیں لیکن منظوری کا عمل حکومت کا دائرہ کار ہے۔

معید یوسف نے کہا کہ چونکہ قومی سلامتی پالیسی ایک ارتقا پذیر دستاویز ہے لہٰذا حکومت نے اس میں اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ایک لازمی سالانہ جائزہ لیا جائے کیونکہ ہر روز بنیادی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح جب بھی کوئی نئی حکومت اقتدار سنبھالتی ہے اس کے پاس اس کا جائزہ لینے کے اختیارات ہوں گے۔

مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ یہ دستاویز تمام پالیسیوں کے لیے ایک چھتری کا کام کرے گی جن کا قومی سلامتی سے کوئی تعلق ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پالیسی کی کلیدی سمت کو کبھی پلٹا نہیں جائے گا۔

معید یوسف نے مزید کہا کہ قومی سلامتی ڈویژن پالیسی کے نفاذ کی نگرانی کرے گا اور وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی نفاذ کے مرحلے میں اس سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لیے ہر ماہ اپنی پیش رفت رپورٹ کا جائزہ لے گی۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس پالیسی دستاویز میں ترجیحی اقدامات کی نشاندہی کی گئی ہے وہ عوام کو جاری نہیں کی گئی، پالیسی کا صرف 60 صفحات پر مشتمل جاری کردہ ورژن ہی پبلک ڈومین میں رہے گا، تاہم ارکان پارلیمنٹ کو کلاسیفائیڈ ورژن پر بھی بریفنگ دی گئی تھی۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پالیسی ایک مخصوص بحران سے نکلنے کے بارے میں رہنما اصول پیش کرتی رہے گی۔

منبع: ڈان نیوز

The post یہ تاثر غلط ہے کہ وزیراعظم کی مقبولیت میں مہنگائی کی وجہ سے کمی آئی، فواد چوہدری appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے