کٹھ منڈو (انٹرنیشنل ڈیسک) نیپال نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرحد کے پاس دریائے کالی کے علاقے میں سڑکوں کی تعمیر اور توسیع کو روک دے۔ بھارتی وزیر اعظم نے گزشتہ ماہ لیپولیکھ کے علاقے میں سڑکوں کی توسیع کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔نیپال کی حکومت نے ان کے اعلان پر ردعمل کا اظہا کرتے ہوئے کہا کہ لمپیادھورا، لیپولیکھ اور کالا پانی جیسے علاقے اس کے ملک کااٹوٹ حصہ ہیں ۔ بیان میں بھارت پر زور دیا گیا کہ وہ متنازع علاقوں میں اپنی تمام تعمیراتی سرگرمیاں فوری طور پر روک دے۔نیپال کے وزیر اطلاعات و نشریات گیانیندر بہادر کارکی نے کہا کہ دریائے کالی کے مشرق میں جاری تنازع کو سفارتی سطح پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ ان علاقوں میں تعینات اپنے فوجیوں کو فوری طور پر واپس بلا لے اور تاریخی حقائق اور شواہد کی بنیاد پر اعلیٰ سطحی بات چیت کے ذریعے سرحدی تنازع کو خوش اسلوبی سے حل کرے۔ دوسری جانب کٹھ منڈو میں بھارتی سفارت خانے کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ نیپال کے ساتھ اس کی سرحد پر بھارت کا موقف مستقل اور غیر مبہم ہے اور نیپال کی حکومت کو اس سے آگاہ بھی کیا جا چکا ہے۔ بھارت پہلے بھی یہ واضح کر چکا ہے کہ نیپال جن علاقوں پر اپنا دعویٰ کر رہا ہے وہ بھارت کا حصہ ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ نیپال کے ساتھ تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔ یاد رہے کہ 2020 ء کے وسط میں نیپال نے اس حوالے سے اپنا ایک نیا نقشہ منظور کیا تھا ، جس میں ان تمام علاقوں کو نیپال کا حصہ دکھایا گیا۔ بھارت ان علاقوں پر اپنا دعویٰ کرتا ہے ۔
The post نیپال کا بھارت سے متنازع علاقے میں تعمیرات بند کرنیکا مطالبہ appeared first on Daily Jasarat News.
