English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اومیکرون کے خلاف مخصوص موڈرنا ویکسین کا ڈیٹا مارچ تک سامنے آسکتا ہے

القمر

موڈرنا کی کورونا وائرس کی قسم اومیکرون کے لیے مخصوص کووڈ ویکسین کی کلینکل ٹرائل آئندہ چند ہفتوں میں شروع ہوجائے گا جبکہ ڈیٹا مارچ تک سامنے آسکتا ہے۔

یہ بات موڈرنا کے سی ای او **اسٹیفن بینسل **نے بتائی۔

انہوں نے بتایا کہ کلینکل ٹرائل کے آغاز کے بعد توقع ہے کہ کمپنی ریگولیٹرز کے ساتھ ڈیٹا کو مارچ تک شیئر کرسکے گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ویکسین مکمل ہوچکی ہے اور آنے والے ہفتوں میں کلینکل مرحلے میں داخل ہوجائے گی، ہمیں توقع ہے کہ مارچ تک ہمارے پاس اس کا ڈیٹا ہوگا جو ریگولیٹرز سے شیئر کیا جائے گا تاکہ اگلے مراحل کا تعین کیا جاسکے۔

موڈرنا کی جانب سے ایک اور سنگل ڈوز ویکسین تیار کی جارہی ہے جو کووڈ 19 کے بوسٹر ڈوز اور تجرباتی فلو ویکسین کا امتزاج ہے۔

موڈرنا کے سی ای او نے بتایا کہ بہترین منظرنامے میں کم از کم کچھ ممالک میں کووڈ اور فلو کی مشترکہ ویکسین 2023 کے موسم خزاں میں دستیاب ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد سالانہ ایک بوسٹر ویکسین کی دستیای ہے تاکہ ہمیں کچھ افراد کی جانب س موسم سرما میں 2 سے 3 ڈوز لگوانے سے گریز جیسے مسائل کا سامنا نہ ہو۔

متعدد ممالک میں شہریوں کو ویکسین کی تیسری خوراک فراہم کی جارہی ہے بالخصوص معمر اور کمزور مدافعتی نظام کے مالک افراد کو، جبکہ اسرائیل میں تو شہریوں کو چوتھی خوراک کی پیشکش بھی کی جارہی ہے۔

جنوری 2022 کے آغاز میں موڈرنا کے سی ای او نے کہا تھا کہ لوگوں کو شاید موسم سرما میں ویکسین کی چوتھی خوراک کی ضرورت ہوسکتی ہے کیونکہ کووڈ 19 کے خلاف بوسٹر ڈوز کی افادیت آئندہ چند ماہ میں گھٹ سکتی ہے۔

مگر بوسٹر پروگرامز پر کچھ طبی ماہرین بشمول یورپی یونین کے ڈرگ ریگولیٹر نے مختلف سوالات کیے ہیں جیسے کب اور کتنے بڑے پیمانے پر اضافی خوراکوں کی ضرورت ہوگی۔

ان کی جانب سے ویکسین کی چوتھی خوراک کی ضرورت پر بھی شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے۔

کچھ ایونٹس میں امریکا کے ممتاز وبائی امراض کے ماہر انتھونی فاؤچی نے کہا کہ ایسے کوئی شواہد نہیں کہ بوسٹر ڈوز کا بار بار استعمال مدافعتی نظام کو مضبوط بناسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مختلف اوقات میں بوسٹر ڈوز کے استعمال کے حوالے سے ایسے کوئی شواہد نہیں کہ اس سے مدافعتی ردعمل پیدا ہوگا۔

خیال رہے کہ فائزر کی جانب سے کورونا وائرس کی قسم اومیکرون کے لیے مخصوص ویکسین کی انسانوں پر آزمائش جنوری 2021 کے آخر تک شروع کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

10 جنوری 2022 کو فائزر کے چیف سائنٹیفک آفیسر (سی ایس او) مائیکل ڈولسٹن نے بتایا کہ ہم جنوری کے آخر میں نئی کووڈ ویکسین کی آزمائش شروع کررہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد کلینکل ٹرائلز ہوں گے تاکہ نئی ویکسین کے اومیکرون کے خلاف افادیت کا موازنہ موجودہ ویکسین سے کیا جاسکے۔

مائیکل ڈولسٹن نے بتایا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ اومیکرون کے لیے مخصوص ویکسین کی ضرورت پڑے گی یا نہیں۔

مگر کمپنی اس اپ ڈیٹڈ ویکسین کو مارچ کے آخر تک تیار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

فائزر کے سی ای او البرٹ بورلا نے سی این بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ویکسین مارچ تک تیار ہوجائے گی۔

انہوں نے کہا ‘میں نہیں جانتا کہ ہمیں اس کی ضرورت ہوگی یا نہیں، میں نہیں جانتا کہ اسے استعمال کیا جائے گا یا نہیں، مگر وہ تیار ہوجائے گی’۔

کووڈ کو پھیلنے سے روکنے کیلئے فیس ماسک کی افادیت کے مزید شواہد

فیس ماسک کو کووڈ 19 کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے ایک بنیادی ٹول مانا جاتا ہے اور ایک نئی تحقیق میں اس کی افادیت کے مزید ثبوت فراہم کیے گئے ہیں۔

امریکی سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ فیس ماسک ہوا میں پھیلنے والے جراثیموں جیسے کورونا وائرس کے ذرات کا فاصلہ 50 فیصد سے زیادہ کم کردیتے ہیں۔

سینٹرل فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں عندیہ دیا گیا کہ سماجی دوری کی کچھ گائیڈلائنز کو اس صورت میں ترک کیا جاسکتا ہے جب تمام افراد فیس ماسک کا استعمال کریں۔

تحقیق کے مطابق نتائج سے واضح شواہد ملتے ہیں کہ بغیر فیس ماسک کے 6 فٹ کی دوری سے چہرہ ڈھانپ کر 3 میٹر کی دوری بہتر ہے۔

اس تحقیق میں 21 سے 31 سال کی عمر کے 14 افراد کو شامل کیا گیا تھا اور بولنے اور کھانسی کے دوران فیس ماسک یا بغیر فیس ماسک ہر سمت سفر کرنے والے ننھے ذرات اور ایروسولز (بڑے ذرات) کے فاصلے کی جانچ پڑتال کے لیے خصوصی آلات کا استعمال کیا گیا۔

ہر رضاکار کو چہرہ ڈھانپے بغیر، کپڑے کے فیس ماسک اور 3 تہوں والے سرجیکل ماسکس پہن کر 5 منٹ تک ایک جملے دہرانے اور کھانسنے کی ہدایت کی گئی۔

فیس ماسک کے بغیر بات کرنے یا کھانسنے سے ہوا میں خارج ہونے والے ذرات ہر سمت 4 فٹ دور تک پھیلتے ہیں جبکہ کپڑے کے ماسک سے چہرہ ڈھانپنے سے یہ ذرات 2 میٹر اور سرجیکل ماسک کے استعمال سے 6 انچ دور تک جاتے ہیں۔

محققین نے بتایا کہ وبائی امراض کے ہوا سے پھیلنے کی شرح میں کمی لانے سے لوگوں کو محفوظ رکھنے اور کووڈ و دیگر امراض کے خلاف مؤثر ردعمل میں مدد مل سکے گی۔

انہیں اس تحقیق پر کام کرنے کا خیال جیٹ propulsion پر تحقیقی کام کے باعث آیا۔

انہوں نے بتایا کہ اصول یکساں ہیں، کھانسی اور گفتگو سے خارج ہونے والے ذرات جیٹ propulsion کی طرح پھیلتے ہیں۔

اب یہ محققین تحقیق کو آگے بڑھاتے ہوئے زیادہ افراد کو اس کا حصہ بنانے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف انفیکشیز ڈیزیز میں شائع ہوئے۔

منبع: ڈان نیوز

The post اومیکرون کے خلاف مخصوص موڈرنا ویکسین کا ڈیٹا مارچ تک سامنے آسکتا ہے appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے