English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

افغانستان میں زلزلے سے 26 افراد ہلاک، 800 گھر تباہ ہو گئے

اقوام متحدہ نے منگل کے روز بتایا ہے کہ افغانستان کے مغربی حصے میں ایک روز قبل آنے والے زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 26 ہو گئی ہے۔ اس زلزلے سے تین دیہاتوں میں تقریباً 800 مکانوں کو نقصان پہنچا۔

مکانوں کے گرنے سے کم از کم چار افراد زخمی بھی ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے امور سے متعلق دفتر نے بتایا ہے کہ زلزلے کے دوسرے روز بھی متاثرہ علاقوں میں لوگ گر جانے والے مکانوں کے ملبے کو ہٹا کر اپنے لاپتا عزیزوں اور بچ جانے والے سامان کو ڈھونڈ رہے تھے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ کچی اینٹوں اور مٹی گارے سے بنے ہوئے مکانوں کو اس سے قبل علاقے میں ہونے والی شدید بارشوں سے پہلے ہی بہت نقصان پہنچ چکا تھا اور وہ زلزلے کے جھٹکے برداشت کرنے کے قابل نہیں رہے تھے۔

زلزلے کے بعد بہت سے لوگوں نے سردی سے بچنے کے لیے اپنے ان عزیزوں اور رشتے داروں کے گھروں میں پناہ لی جن کے گھر گرنے سے محفوظ رہے تھے جب کہ باقی ماندہ اپنے گھروں کے کھنڈروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

امریکہ کے جیالوجیکل سروے کے مطابق مغربی افغانستان میں پہلا زلزلہ پیر کی رات مقامی وقت کے مطابق دو بجے آیا تھا جس کی شدت ریکٹر سکیل پر پانچ اعشاریہ تین تھی؛ جب کہ دوسرا زلزلہ دو گھنٹوں کے بعد صبح چار بجے آیا جس کی شدت چار اعشاریہ نو تھی۔

زلزلے کا مرکز صوبہ بادغس کے صدر مقام قلعہ نو سے 50 کلومیٹر جنوب مشرق میں تھا۔ یہ صوبہ ترکمانستان کی سرحد کے ساتھ واقع ہے اور اس کا شمار ملک کے سب سے غریب اور پس ماندہ علاقوں میں ہوتا ہے۔

افغانستان میں بہت سے لوگوں کو موسم کی شدت سے بچنے کے لیے چھت میسر نہیں ہے۔


افغانستان میں بہت سے لوگوں کو موسم کی شدت سے بچنے کے لیے چھت میسر نہیں ہے۔

زلزلے کے جھٹکے تین مغربی صوبوں بادغس، گوہر اور ہرات میں بھی محسوس کیے گئے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ” جن لوگوں کے گھروں کو نقصان پہنچا ہے وہ اپنے رشتے داروں یا علاقے کے دوسرے لوگوں کے پاس پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق انہیں خوراک، چھت اور روزمرہ ضرورت کی دیگر اشیا کی اشد ضرورت ہے”۔

طالبان نے، جنہوں نے گزشتہ سال اگست کے وسط میں اقتدار سنبھالا تھا، بین الاقوامی امدادی اداروں سے اپیل کی ہے کہ زلزلے سے متاثرہ افراد کو فوری مدد فراہم کی جائے جس میں خیمے، ضروریات زندگی اور دوائیں شامل ہیں۔

طالبان نے اس سے قبل زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 22 بتائی تھی۔

(خبر کا مواد ایسوسی ایٹڈ پریس سے لیا گیا ہے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے