صدر رجب طیب ایردوان کی جانب سے روس اور یوکرین کے درمیان مسائل کے حل کے لیے روس کے صدر ولادیمیر پوتین اور یوکرائنی صدر ولادیمیر زیلنسکی کوترکی میں دعوت کا روس میں خیر مقدم کیا گیا ہے۔
روسی صدارتی محل (کریملن) کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافی کے سوال کا جواب دیا کہ صدر ایردوان کی جانب سے روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے پوتین اور زیلنسکی کو ترکی آنے کی دعوت دی گئی ہے۔
پیسکوف نے کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان بنیادی اختلاف کیف کی طرف سے منسک معاہدوں پر عمل درآمد روکنے کی وجہ سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ "ہم کسی بھی ایسے ملک کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں جو یوکرین کی صورت حال کو حل کرنے میں مدد کرسکتے ہیں ۔
پیسکوف نے کہا کہ یوکرین میں حالات کافی کشیدہ ہیں، انہوں نے اس ملک میں ہتھیاروں کی ترسیل، فوجی مشقیں اور نیٹو اور مغربی یورپی ممالک کے طیاروں کو پرواز کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "یہ سب کچھ یوکرین میں تناؤ کا باعث بن رہا ہے۔مزید برآں، پیسکوف نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ آنے والے دنوں میں سلامتی کی ضمانتوں پر امریکہ سے تحریری جواب موصول ہونے کی توقع ہے۔
صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے کہا کہ صدرایردوان نے روس اور یوکرین کے درمیان مسائل کے حل کے لیے پوٹن اور زیلنسکی دونوں سے بات چیت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ایردوان نے ان دونوں رہنماوں کو ترکی آنے کی دعوت بھی دی اور اگر وہ چاہیں تو اپنے مسائل اور اختلافات کو حل کرنے کے لیے ملاقات کرسکتے ہیں ۔ ترکی روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے جو بھی کردار ادا کر سکتا ہے ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ترکی روس اور یوکرین دونوں کا دوست ہے۔
