انڈین ریاست اتر پردیش میں اہم اسمبلی انتخابات سے قبل بی جے پی حکومت میں شامل بڑے لیڈر پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت میں شامل ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت کسانوں اور پسماندہ ذات کے لوگوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔ ایک کے بعد ایک استعفوں نے بی جے پی حکومت میں سیاسی اتھل پتھل پیدا کر دی ہے۔ گذشتہ 48 گھنٹوں میں اتر پردیش حکومت کے دو بڑے رہنماؤں نے استعفیٰ دیا ہے، پہلے سوامی پرساد موریہ اور دوسرے دارا سنگھ چوہان۔ جمعرات کو اتر پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک اور ایم ایل اے نے استعفیٰ دے دیا۔ شکوہ آباد سے بی جے پی ایم ایل اے مکیش ورما نے پارٹی چھوڑ دی ہے۔ مستعفی ہونے کے بعد مکیش ورما نے کہا کہ سوامی پرساد موریہ ان کے لیڈر ہیں، وہ جہاں بھی جائیں گے وہ ان کا ساتھ دیں گے۔
میڈیا میں ان کے علاوہ کئی ناموں کا ذکر ہے جن کے پارٹی چھوڑ کر جانے کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔یہ رائے شماری اس بات کا بھی امتحان لے گی کہ کیا اپوزیشن جماعتیں، جن کی تعداد نریندر مودی کے عروج سے چند انتخابات میں تیزی سے کم ہوئی ہے، 2024 سے پہلے انہیں چیلنج کرنے کے لیے ایک متحدہ محاذ تشکیل دے سکتی ہیں۔ سب سے زیادہ آبادی والی اترپردیش (یوپی)، اتراکھنڈ، گوا، منی پور اور احتجاج سے نمٹتے پنجاب سمیت پانچ ریاستوں میں آئندہ انتخابات میں 180 ملین سے زائد یعنی برطانیہ کی آبادی سے دوگنا زیادہ رائے دہندگان ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے۔ ان میں سے چار ریاستوں میں بی جے پی برسراقتدار ہے جب کہ پنجاب میں انڈین نیشنل کانگریس برسراقتدار ہے، جس نے 2014 میں اقتدار سے نکلنے سے پہلے اور بھارت کی آزادی کے بعد سے کئی دہائیوں تک ملک میں وقفے وقفے سے حکومت کی ہے۔
ریاست میں حزبِ اختلاف سماجوادی پارٹی کے ذرائع سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں اور صحافیوں کو ایسی اطلاعات دے رہے ہیں کہ اگلے کچھ دنوں میں بی جے پی کے متعدد رہنما سماجوادی پارٹی کا دامن تھام لیں گے۔ سماج وادی پارٹی کے ترجمان عبدالحفیظ گاندھی کا کہنا ہے کہ ’سماجوادی پارٹی بہت سے رہنماؤں سے رابطے میں ہے جو بی جے پی چھوڑنا چاہتے ہیں۔ ہم ان سب کا خیر مقدم کر رہے ہیں۔ اور بھی کئی ایسے نام ہیں جو بی جے پی چھوڑ کر سماجوادی پارٹی میں شامل ہوں گے۔‘ ایسے میں قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے کہ کیا بی جے پی سے بڑے رہنماؤں کے جانے کا سلسلہ ابھی جاری رہے گا اور کیا پارٹی میں اس بات پر کوئی تشویش ہے یا نہیں۔ اترپردیش میں 10 فروری سے سات مارچ کے درمیان سات مرحلوں میں الیکشن ہونے والے ہیں۔
مودی سرکار اپنی انتہا پسند پالیسیوں کی وجہ سے اقلیتوں میں اپنی مقبولیت تیزی سے کھو رہی ہے۔ مودی اور اب کی موجودہ بی جے پی واضح طور پر یہ سمجھتی ہے کہ دیش میں بسنے والے مسلمان اور عیسائی چونکہ طویل عرصے تک حکمرانی کرتے رہے ہیں انہوں نے ہندوستان کے اصل باشندوں (جو ہندو تھے) کو دبا کر رکھا لہذا اب ان دونوں قوموں سے بدلپ لینے کا وقت آگیا ہے۔ اب انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔بھارت میں مذہبی بنیادوں پر فسادات پہلے بھی ہوتے تھے مگر انکو حکومتی اور ریاستی آشیر باد کبھی بھی حاصل نہ تھی مگر اب ریاست خود فریق بنتی نظر آرہی ہے، مہاتما گاندھی جی اور پنڈت جواہر لعل نہرو کا مذہبی رواداری پر یقین رکھنے والا بھارت اب ہندوتوا کا پرچارک کرتا نظر آرہا ہے، بدقستمی سے 30 جنوری 1948 کو گاندھی جی کو جس ہندو انتہا پسند نے شہید کیا تھا اب انکے قاتلوں کی سرکار بن چکی ہے۔ بی جے پی کو گانگریس سے ناراض ہونے والے سردار پٹیل کی سیاسی میراث کی علم بردار اب تمام حدوں کو عبور کر چکی ہے۔
جس محنت سے بھارت کے گاندھی جی، پنڈت جواہر لعل نہرو، لال بہادر شاستری، اندرا گاندھی ،راجیو گاندھی، اٹل بہاری واجپائی، ڈاکٹر من موہن سنگھ اور سونیا گاندھی نے بھارتی سیکولر سوچ کو برقرار رکھا تھا اس کو پچھلے سات برسوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ گانگریس بی جے پی کو شکست دینے کی پوزیشن میں ابھی تک نظر نہیں آرہی میرے خیال میں 2004 سے 2014 تک کانگریس کی حکومت میں ایک کمزور پردھان منتری ڈاکٹر من موہن سنگھ نے اپنی جماعت کو بہت سیاسی نقصان پہنچایا۔ جب 2009 میں کانگریس دوسری بار لوک سبھا کے الیکشن جیتی تھی تو تب راہول گاندھی یا پریانکا گاندھی میں سے کسی ایک کو پردھان منتری بنا دینا چاہیئے تھا شاید بی جے پی اس قدر مضبوط اور کانگریس اس قدر سیاسی طور پر کمزور نہ ہوتی۔
بہرحال اب اتر پردیش کے انتخابات یہ طے کریں گے کہ 2023 میں دہلی سرکار کس کی ہو گی، اگر اس سال اتر پردیش میں کا موہکا منتری آدتیہ ناتھ یوگی الیکشن ہار گیا تو پھر مودی کے لیے اقتدار بچانا مشکل ہو جائے گا کیونکہ لوک سبھا کی سب سے زیادہ سیٹیں 80 اتر پردیش میں ہوتی ہیں، یہی ریاست لوک سبھا کے الیکشن کا فیصلہ کرتی ہے یوپی میں کہاوت ہے جس نے لکھنؤ جیتا اس نے دلی جیتا، دیکھیں اب کیا ہوتا ہے۔
بدھ، 19 جنوری 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post کیا اترپردیش کے انتخابات بی جے پی کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوں گے؟ appeared first on شفقنا اردو نیوز.
