اساتذہ یونینز کا سب سے بڑا مسئلہ داخلی انتشار اور تقسیم ہے: خلیل الرحمٰن خٹک
جنوری 21, 2022
القمر
خلیل الرحمٰن خٹک درس و تدریس کے شعبے سے 1985 میں منسلک ہوئے اور ایک طویل عرصہ اساتذہ یونین میں اپنی خدمات سرانجام دیں اور پھر یونین کے صدر بھی رہے۔ ان کے شاگرد طب، دفاع، انجینرنگ، مذہبی اداروں اور دیگر بہت سارے شعبوں میں اپنی خدمات سرانجام دے رہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ اساتذہ کے حقوق کی جنگ لڑنے میں پیش پیش دکھائی دیتے ہیں۔ ادارہ اس خصوصی انٹرویو کے لیے ان کا شکرگزار ہے۔
شفقنا اردو: اساتذہ یونین میں آنے کا خیال کیونکر آیا؟
خلیل الرحمٰن خٹک: سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں شعبہ معلمی کے بارے میں یہ یہ بات مشہور ہے کہ لوگ مجبورا اس شعبے میں آتے ہیں( شاید اس کی وجہ اس شعبے کی ہمارے ملک میں بے توقیری ہے) مگر مجھے میرا شوق اس شعبے میں کھینچ لیا۔ آغاز میں تو بہت اچھا لگا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جوں جوں تجربات میں اضافہ ہوا اور بہت ساری گتھیاں سلجھنا شروع ہوئیں تو تلخیوں نے گھیرنا شروع کر دیا ۔ محکمانہ چالاکیوں،پھرتیوں اور استحصالی رویوں سے دل بجھنا شروع ہو گیا ۔ محمکمہ تعلیم کے افسران کا رویہ ماتحت اساتذہ سے اس قدر ہتک آمیز تھا جیسے وہ شودر ہوں اور پھر یہی صورتحال ان کے دفاتر کے کلریکل سٹاف کی تھی۔ اس صورتحال پہ دل بہت کڑھتا تھا اور اساتذہ کی بزدلی پر چاروناچار غصہ بھی آتا تھا کہ وہ اپنے حقوق کے لیے کیوں اٹھ کھڑے نہیں ہوتے؟ یہی وہ حالات تھے جنہوں نے مجھے مجبور کیا کہ میں خود میدان میں آؤں اور اساتذہ کے حقوق کی جنگ لڑوں۔
شفقنا اردو: پہلی مرتبہ آپ نے یونین انتخابات میں کب حصہ لیا؟
قریبا 90 کی دہائی میں میری تعیناتی اٹک کی ایک تحصیل حضرو کے ہائی سکول میں تھی۔ اس دورانایک روز میرے پڑوسی شفیق امین ( مرحوم)، جو خود بھی معلم تھے اور بڑی متحرک شخصیت تھے، میرے گھر تشریف لائے اور بتایا کہ وہ الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جس کے لیے انہیں میرا تعاون درکار ہے ( یہ غالبا 94-1992 کی بات ہے )۔ میں نے انہیں ہرطرح کے تعاون کی یقین دہانی کرائی اور ان کے ساتھ مکمل کھڑا رہا مگر شومئی قسمت وہ یہ انتخابات چند ووٹوں سے ہار گئے ( یاد رہے کہ یونینز کے انتخابات بھی ایسے ہی شفاف ہوتے ہیں جس طرح سیاسی انتخابات) ۔ شفیق مرحوم ایسی ہمہ گیر شخصیت تھے کہ اس شکست کے باوجود مجھے ساتھ لے کہ نکل پڑے کہ پورے ضلع میں اپنے مہربانوں کا شکریہ ادا کریں گے اور ان کا یہ عمل میں ساری زندگی نہیں بھول پایا۔ اس کے بعد 2010 میں مجھے پنجاب ایس ای ایس ٹیچرز ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم پہ انتخابات لرنے کا موقع ملا اور میں ضلع اٹک کا ضلعی صدر منتخب ہوا۔ جس کے بعد میں ایک دہائی تک اس جدوجہد کا حصہ رہا۔
شفقنا اردو: یونین صدر کے طور پر آپ کو کن مشکلات و مسائل کا سامنا رہا؟
خلیل الرحمٰن خٹک: میں نے ایک طویل عرصہ پنجاب ایس ای ایس ٹیچرز ایسوسی ایشن کے ضلعی صدر کی حیثیت سے اساتذہ کے حقوق کی قانونی و آئینی جنگ لڑی ۔ کبھی احتجاجی مظاہرے کر کے اساتذہ کے حقوق کا علم بلند کیا، کبھی میڈیا کو اپنا ذریعہ آواز بنایا اور کبھی عدالت کے دروازے پر دستک دی۔ مگر اس جدوجہد میں سب سے زیادہ افسوس اساتذہ کی جانب سے جانی و مالی عدم تعاون کا تھا اور پھر انتظامی مسائل جن میں دھمکیاں اور بہت کچھ شامل تھا وہ الگ مسائل تھے مگر اللہ کا شکر ہے کہ میں اپنے cause سے کبھی پیچھے نہیں ہٹا۔
شفقنا اردو: اس وقت آپ کے خیال میں اساتذہ یونینز کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟
خلیل الرحمٰن خٹک : یونینز کا سب سے بڑا مسئلہ اساتذہ برادری کا انتشار ،نا اتفاقی اور عدم اعتماد ہے۔ مختلف ناموں سے رجسٹرڈ و غیر رجسٹرڈ یونینز کی بھر مار ہے اور ہر ایک نے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ سے بنا رکھی ہے۔ اور یہ کبھی بھی اساتذہ کے کاذ کے لیے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے نہیں ہوئے۔ اس تقسیم کی ایک بڑی وجہ حکام بالا کی انگریز سرکار کی پالیسی” تقسیم کرو اور راج کرو”کا چابکدستی سے استعمال تھا۔ یعنی حکام بالا بعض یونینز کو قریب کرتے ہیں اور بعض کو دھتکارتے ہیں اور پھر اسی طرح دھتکارنے والوں کو قریب کرتے ہیں اور قریب والوں کو دھتکارتے ہیں اور پھر ان میں موجود ایجنٹوں کے ذریعے بھی ان کو تقسیم کرتے ہیں۔ تیسرا اور سب سے بڑا مسئلہ مالی تعاون کا فقدان ہے، کوئی بھی یونین، ایسوسی ایشن یا تنظیم چندے کے بغیر نہیں چلتی اور اساتذہ کرام کی جانب سے مالی تعاون سرے سے تھا ہی نہیں جب کہ احتجاجی مظاہروں میں بھی ان کی شرکت خال خال ہی ہوتی تھی۔ جس کی بڑی وجہ مصلحت، خوف اور بعض اوقات یونینز پر عدم اعتماد بھی تھا۔ اور ایک اور بڑا مسئلہ یہ بھی تھا کہ یونینز کے بعض عہدیدار ذاتی مفاد کے لیے افسران بالا کے آلہ کار بھی بن جاتے ہیں اور ذاتی فائدہ اٹھا کر یہ جا وہ جا۔
شفقنا اردو: آپ اساتذہ کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟
خلیل الرحمٰن خٹک: خواہش ہے کہ اساتذہ اپنے مقام ،مرتبے اور قدر و منزلت سے آ شنا ہو جائیں تو انہیں کسی یونین اور کسی ایسوسی ایشن کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہی نہ پڑے ۔ میرے دور میں میرا اساتذہ سے یہی مطالبہ رہا ہے کہ پہلے فرض کی ادائیگی ہے بعد میں حقوق کی جنگ ۔ جب ہم فرائض کو ترجیح دیں گے تو کوئی بھی ہمارے حقوق غصب نہیں کر سکے گا ۔ اور اگر کسی نے ایسا کیا تو ایسو سی ایشن چٹان بن کر کھڑی ہو جائے گی۔ میں اگرچہ ریٹائر ہوچکا ہوں تاہم پھر بھی جب تک بقید حیات ہوں اساتذہ کے حقوق کی جنگ لڑتا رہوں گا۔