English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکی یونیورسٹیوں  میں بین الاقوامی طلبا کے داخلے کی پالیسیوں میں تبدیلی 

صدرجو بائیڈن کی انتظامیہ نے امریکی معیشت کو مزید مسابقتی بنانے کی وسیع تر کوششوں کے سلسلے میں جمعے کو سائنس ، ٹیکنالوجی، انجنیئرنگ اور ریاضی کے شعبوں میں بین الاقوامی طلباٗ کو راغب کرنے کے لیے پالیسیوں میں تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔

انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کے مطابق محکمہ خارجہ ان شعبوں میں جنھیں "ایس ٹی ای ایم "،اسٹیم کے نام سے جانا جاتا ہے، اہل طلبا کو چھتیس ماہ تک کی تعلیم و تربیت مکمل کرنے کی اجازت دے گا۔اس کے علاوہ ان طلبا کو امریکی کاروباری اداروں سے منسلک کرنے کے لیے مزید نئےاقدامات بھی کئے جائیں گے۔ حکام کا اصرار تھا کہ ان کےنام ظاہر نہ کئے جائیں لیکن ان تبدیلیوں کے سرکاری اعلان سے قبل اس موضوع پر بات چیت کو آگے بڑھایا جائے۔

ہوم لینڈ سیکورٹی کا محکمہ غیر ملکی طلباٗ کی امریکہ میں کلاوڈ کمپیوٹنگ ، ڈیٹا ویژیولائزیشن اور ڈیٹا سائنس سمیت تعلیم کے 22نئے شعبوں کو اپنی فہرست میں شامل کرے گا۔

یہ ایک ایسا پروگرام ہے جو امریکی یونیورسٹیوں کے بین الاقوامی گرویجویٹس کو مقامی آجروں کے ساتھ تربیت میں مزید تین سال تک گزارنے کی اجازت دیتا ہے،اس پروگرام کے تحت مالی سال 2020میں 58 ہزار درخواستیں موصول ہوئیں۔

سینٹاکلارا کیلی فورنیا میں قائم یونیورسٹی کا ایک منظر۔ فائل فوٹو

سینٹاکلارا کیلی فورنیا میں قائم یونیورسٹی کا ایک منظر۔ فائل فوٹو

یہ پروگرام اس کوبات یقینی بنانے کےلیے ترتیب دیا گیا ہے کہ دنیا بھر کے ٹیلنٹ کے لیے امریکہ کشش کا باعث بن جائے۔یہ سائنسدانوں اور محققین کو اپنی جانب متوجہ کرے گا، جن کی کامیابیاں معیشت کوترقی دینے کے قابل بنائیں گی۔سرکاری اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی طلبا بڑھتی ہوئی تعلیمی تحقیق کا محور ہیں۔

سرکاری قومی سائنس بورڈ نے اس ہفتے رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق معاشیات، کمپیوٹر سائنس، انجنیرنگ اور میتھمٹکس میں امریکی ڈاکٹریٹ کی نصف ڈگریاں عارضی ویزے پر آنے والے بین الاقوامی طلبا اور سائنسدانوں کے پاس ہیں۔

لیکن چین سائنس اور انجنیرنگ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگریوں کے فرق کو تیز ی سے ختم کررہا ہے اورتقریباً اتنے ہی گریجویٹس تیار کررہا ہے جتنے امریکہ نے2018میں کیے تھے۔

(اس خبر میں مواد خبررساں ادارے اے پی سے لیا گیا ہے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے