English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاکستان ڈائری

القمر

زینب وحید عرف اسوہ زینب پاکستان کا ابھرتا ہوا نام ہیں آج کی پاکستان ڈائری میں ان سے ملاقات

 پاکستان کی سرزمین بہت زرخیز ہے جس نے نامور شخصیات کو جنم دیا۔ اس وقت بھی پاکستان کی نئ نسل دنیا بھر میں اپنی دھرتی کا نام روشن کررہی ہے۔ زینب وحید بھی ان میں سے ایک ہیں ہونہار طالبہ جوکہ پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کررہی ہیں ۔

زینب سوشل میڈیا ایکٹویسٹ اور کلائیمٹ چینج ایکٹویسٹ ہیں۔اس وقت وہ اوتھری میں زیرتعلیم ہیں۔سکول میں یہ انکا آخری سال ہے ۔ کراچی میں پیدا ہونے والی زینب اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے کام کررہی ہیں اور آگاہی دے رہی ہیں۔ کلاس ۸ میں انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے ایک مقابلے کو جیتا جس کو جرمنی کے سفارت خانے نے معنقد کروایا تھا۔اس کے بعد سے اسوہ زینب نے کام کرنا شروع کردیا اور وہ اب ماحولیاتی تبدیلوں کے حوالے سے آگاہی دیتی ہیں۔

انہوں نے ٹی آر ٹی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس زمین اور ماحول سے پیار کرنے کے لئے کسی کو پی ایچ ڈی ہونے کی ضرورت  نہیں بطور انسان آپ کا یہ فرض بنتا ہے کہ آپ کرہ ارض سے پیار کریں۔ہر انسان کو زمین کا خیال کرنے کی ضرورت ہے اگر کوئی بھی چیز زمین کو نقصان دے رہی ہے اس کو روکیں اسکے حوالے سے کام کریں۔ وہ ہارٹیکلچر سوسائٹی کی اعزازی سفیر بھی ہیں اور وہ شجرکاری کو فروغ دینے کے لئے بھی کام کررہی ہیں۔

نوجوان سماجی کارکن نا ٖصرف گراونڈ پر کام کررہی ہیں بلکے وہ سوشل میڈیا پر بھی پاکستان اور ماحولیات کے لئے ایک موثر آواز ہیں۔ انکے ٹویٹس ملک کے مثبت امیج کو اجاگر کرتے ہیں۔اقوام متحدہ نے انکی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انکو عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کے لئے ہونی والی کانفرنس کے لئے منتخب کیا۔وہ اٹلی گئ اور چار سو مندوبین کے درمیان انہوں نے پاکستان کی نمائندگی کی۔ انہوں نے پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلوں کی وجہ سے ہونے والے اثرات پر دنیا کو آگاہ کیا۔ اب انہوں نے کالم نویسی بھی شروع کردی ہے اور انکا موضوع ماحولیات اور شجرکاری ہوتے ہیں۔ انکے او لیولز کے فائنل امتحانات آرہے ہیں تو وہ اسکی تیاری کررہی ہیں وہ کہتی ہیں کہ پڑھنا لکھنا ہی ان کا مشغلہ ہے۔ اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ہم سب کو پتہ ہے ماحولیاتی تبدیلیاں کیا ہیں اور یہ ہم سب کو متاثر کرے گا لیکن ہم سب کو کام کرکے اسکے اثرات کو کم کرنا ہوگا

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے