لاہور/ تہران (نمائندہ جسارت+ صباح نیوز) انارکلی بم دھماکے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اہم کامیابی مل گئی، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مبینہ 2 سہولت کاروں کو جمعہ کی صبح راوی روڈ سے حراست میں لیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ سہولت کاروں کو نامعلوم مقام پر منتقل کرکے تفتیش جاری ہے جبکہ مبینہ سہولت کاروں کو سی سی ٹی وی کیمروں کو بیک ٹریک کر کے حراست میں لیا گیا۔علاوہ ازیں ذرائع کے مطابق دھماکے کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد مل گئے ہیں۔ غیرملکی ہاتھ ملوث ہونے پر تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پان منڈی میں دکانداروں کا ڈیٹا اکٹھا کرنا شروع کر دیا جبکہ پان منڈی میں زیادہ تر پان کا پتا بھارت سے منگوایا جاتا ہے۔ جائے حادثہ پر ایکسپرٹس کی مدد سے شواہد اکٹھے کیے جارہے۔ دھماکے میں تباہ شدہ سامان کا بھی فرانزک کرایا جائے گا۔مزید برآںایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے ایک پیغام میںلاہور میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک بار پھر دہشت گردوں نے اس قسم کے اقدامات سے حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی اور امن و صلح کی برقراری کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گرد گروہوں کے نیٹ ورک کو تباہ کیا جائے۔ایران کی وزارت خارجہ کے پیغام میں جاں بحق ہونے والوں کے اہلخانہ، حکومت اور پاکستانی عوام سے ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔
