فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سابق چیئرمین شبر زیدی نے کہا کہ یہ کہنا سود مند ثابت نہیں ہوگا کہ جی ڈی پی بڑھ گئی ہے تو اب سب اچھا ہی ہوگا کیونکہ جب اس کا فرق عام آدمی کو نہیں پہنچے گا تو پھر باتوں میں وزن نہیں رہ جاتا۔
شبر زیدی کا کہنا تھا کہ جب شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار سب اچھے کی رپورٹ دیتے ہیں مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ دوسرے ممالک کی کمپنیوں نے یہاں گاڑیاں بنائیں اور وہ گاڑیاں امیر لوگوں کو بیچ دیں۔ بڑے پیمانے پر گاڑیاں فروخت ہونے سے یکس نیٹ بڑھا اور پیسہ سرکولیٹ ہوا، جس سے یہ جی ڈی پی گروتھ ایک دم سے بڑھی، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اب یہ اسی طرح بڑھتی ہی رہے گی۔
پاکستان کی معیشت میں خیرت انگیز بہتری
جی ڈی پی کے بڑھنے سے عام پاکستانی پرکیا فرق پڑے گا؟
شبر زیدی کا حکومت کو مشورہ #PMImranKhan #PTIGovt #Economy #GDP #Pakistan #AbPataChala #BOLNews @ghaziusama @GhulamMurtaza73 @BabarDogar72 @SShabbarZaidi pic.twitter.com/Ca92HGWeRA— BOLNetwork (@BOLNETWORK) January 21, 2022
سابق چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ جی ڈی پی میں ہونے والی گروتھ کبھی بھی عام آدمی کی زندگی پر کوئی اثر نہیں ڈالتی کیونکہ یہ جان لینا چاہیے کہ یہ گروتھ ہوئی کس طرح سے ہے؟ اصل میں لارج سکیل مینوفیکچرنگ کا سب سے بڑا جزو گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ ہے۔
نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ”اب پتا چلے گا” میں ایک سوال کے جواب میں شبر زیدی کا کہنا کہ معیشت میں 5.37 فیصد کی بہتری سے متعلق خبروں پر وزیراعظم کو مشورہ ہے کہ وہ اسے یہ نہ سمجھیں کہ معیشت ٹھیک ہو گئی ہے بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ کوشش کر رہے ہیں کہ معیشت ٹھیک راہ پر گامزن ہو جائے۔
