لاہور کے علاقے انارکلی میں دھماکے کے بعد پولیس و دیگر سیکیورٹی اداروں نے لاہور میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنے والے بلوچ طلبہ کو پکڑنا شروع کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پولیس کی جانب سے لاہور انار کلی حملے کے شبہ میں بلوچستان سے لاہور پڑھنے آئے طالب علم عمران ولد شبیر احمد اور آدم ولد محمد علی کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ بلوچستان تربت سے تعلق رکھنے والے بلوچ طلباء پنجاب کالج، لاہور میں زیر تعلیم تھے جنہیں جمعہ کی صبح تقریباً 4 بجے پولیس کی وردی میں ملبوس افراد کے ساتھ سول لباس میں ملبوس افراد نے ہاسٹل سے اٹھایا۔
Imran s/o Shabbir Ahmed Adam s/o Mohammad Ali, Baloch students from Turbat, studying at Punjab college, Lahore, were picked up by men in civil clothing w/ others in police uniform, at around 4am on Friday. Their whereabouts remain unknown. #endenforceddisappearances pic.twitter.com/4wZfcdOLfB
— Rabia Mehmood – رابعہ (@Rabail26) January 22, 2022
عمران اور آدم تربت کے علاقے تجابان سے تعلق رکھتے ہیں اور فرسٹ ایئر کے طالب علم ہیں۔ انہیں مسلم ٹاؤن میں ان کے ہاسٹل سے اٹھایا گیا۔
Imran and Adam are first year students of Tijaban area in Turbat. They were picked up from their hostel in Muslim Town. These young men came to Punjab to study, but instead they are brutalised due to their ethnicity area of origin.
— Rabia Mehmood – رابعہ (@Rabail26) January 22, 2022
دوسری جانب لاہور دھماکے کے بعد لاہور انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے پنجاب یونیورسٹی میں ہاسٹلوں کی تلاشی کی گئی ہے۔
پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ نے الزام عائد کیا ہے کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات 12 بجے کے بعد پولیس نے صرف بلوچ اور پشتون طلبہ کے کمروں کی تلاشیاں لی ہیں۔
مذکورہ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ درجنوں طالبعلم ایک جگہ پر جمع ہیں اور ایک طالبعلم کا کہنا تھا کہ ”رات 12“ بجے کے بعد یہ لوگ یہاں آگئے ہیں اور صرف بلوچ اور پشتون طلبہ کے شناختی کارڈوں کی تصویریں بنا کر لے گئے ہیں، انہیں یہاں سے کچھ بھی نہیں ملا ہے۔
گزشتہ رات سیکیورٹی اداروں نے پنجاب یونیورسٹی میں رات گئے چھاپہ مارا جس میں بلوچ اور پشتون طلبہ کو ہراساں کیا گیا۔ pic.twitter.com/3ctY0H0Yyx
— The Students’ Herald (@HeraldStudents) January 21, 2022
بلوچ سٹوڈنٹس پنجاب و وفاق نے اپنے بیان میں پنجاب میں بلوچ طلبہ کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں تعلیمی اداروں کی قلت کہ وجہ سے بلوچ طلبہ پنجاب کا رخ کرتے ہیں۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ وہ پنجاب میں بھی محفوظ نہیں۔ جو طالب ایک روشن مستقبل کا خواب لیے پنجاب آئے اب یہاں سے گرفتاری کے بعد لاپتہ ہو رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی کارکن رابعہ محمود نے ٹوئٹر میں لکھا کہ یہ نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے لیے پنجاب آئے تھے، لیکن اس کے بجائے ان کی نسل اور علاقے کی وجہ سے ان پر ظلم کیا جاتا ہے
خیال رہے کہ لاہور دھماکے کی ذمہ داری بلوچ علیحدگی پسند تنظیم بی ایل اے نے قبول کی ہے۔
