English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

تعلقہ موومنٹ کا باڈہ کو تحصیل کا درجہ نہ دینے کیخلاف احتجاج

القمر

 

باڈہ (نمائندہ جسارت) باڈہ کو تحصیل کا درجہ نہ مل سکا اور میونسپل کمیٹی کے درجے سے بھی محروم رکھا گیا۔ گزشتہ ڈھائی سالوں سے شہری ہر اتوار کو باڈہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے حکمرانوں سے باڈہ تحصیل کا حق مانگ رہے ہیں مگر حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ ہر اتوار کو کیے جانے والے احتجاج کے سلسلے میں اس ہفتے بھی باڈہ تعلقہ موومنٹ کی جانب سے ڈپٹی کنوینر زیب علی ساریو، کامریڈ قادر بروہی اور رواداری تحریک سندھ کے صدر کامریڈ پنھل ساریو کی رہنمائی میں ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاج میں باڈہ شہر کی سیاسی سماجی، علمی ادبی اور کاروباری تنظیموں کے رہنماؤں کامریڈ عزیز بروہی، اصغر نوناری، دودو دیشی، علی انور عسکری، اصغر ساریو، کامریڈ منور نوناری، نظام کولاچی، نثار ہیسبانی، فنکار راجا سومرو، ہیموں بھٹی، سلیم ساگر ساریو، کوڑل ملاح، علی رضا نوناری، نبی رضا بلوچ، جمال خاصخیلی، محمد امین سیال، عبدالستار منگی، پینٹر زبیر سومرو، شہزادو لاکیر، مسلم جانی ساریو، افضل سانبھل، کاشف جونیجو، ایاز شیخ، منظور نوناری، سوڈھل ماچھی اور دیگر شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے باڈہ تحصیل کے حق میں زوردار نعرے بازی کی۔ اس موقعے پر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ باڈہ شہر کو تحصیل اور میونسپل کمیٹی کا درجہ نہیں مل سکا نہ ہی بائی پاس اور کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ دیا گیا جس وجہ سے ماضی کا خوبصورت اور کاروباری شہر کھنڈرات بن گیا ہے اور ایک دوسرے موئن جو دڑو کے مناظر پیش کررہا ہے۔ مزید انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی کرپشن اور شہر میں سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے کاروباری طبقہ شیخ، دیوان برادریاں باڈہ شہر سے دوسرے شہروں کی اور ہجرت کر چکے ہیں اور شہر کا کاروبار شدید متاثر ہو چکا ہے۔ مزید انہوں نے کہا کہ باڈہ شہر پیپلز پارٹی کا گڑھ مانا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو باڈہ سے بڑی تعداد میں الیکشن جیت کر اعلیٰ ایوانوں تک پہنچے اور آج بھی پیپلز پارٹی گزشتہ 15 سالوں سے حکومت کر رہی ہے۔ الیکشن آتے ہی مقامی ایم پی ای اور ایم این ای باڈہ واسیوں سے باڈہ کو تحصیل کا درجہ دلانے کے وعدے کرکے ووٹ لیتے ہیں اور اقتدار ملتے ہی اقتدار کے نشے میں دہت ہوکر وہ اپنے وعدے بھول جاتے ہیں اور باڈہ واسیوں سے ملنا تک گوارہ نہیں کرتے۔ مزید انہوں نے کہا کہ نہ فقط ایم پی ای اور ایم این ای بلکہ پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول زرداری، سندھ کے دو وزرا اعلیٰ سابقہ وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ اور موجودہ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے بھی باڈہ کو تحصیل کا حق دینے کے وعدے کیے جو پانی پر لکیریں ثابت ہوئے۔ موجودہ وقت میں سندھ اندر چھوٹے بڑے شہروں کو میونسپل کے درجے ملے اور ڈیڑھ لاکھ آبادی والا شہر محروم رہ گیا جس وجہ سے باڈہ واسیوں میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے اور وہ منتخب نمائندگان اور سندھ حکومت سے ناراض ہیں اور اپنے ووٹ کے تقدس کو پامال ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ آخر میں انہوں نے حکمرانوں سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ فی الفور باڈہ شہر کو تحصیل اور میونسپل کا درجہ دے کر بائی پاس بنوایا جائے اور شہر میں بنیادی سہولیات میسر کرکے شہریوں میں پہیلی ہوئی نفرت اور ناراضگی کو ختم کیا جائے نہیں تو آنے والی بلدیاتی الیکشن میں باڈہ واسیوں کا ردعمل آپ کے سامنے ہوگا۔ مزید انہوں نے کہا کہ جب تک باڈہ کو تحصیل کا درجہ نہیں دیا جائے گا اور باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جائے گا تب تک ہماری جدجہد جاری رہے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے