خبریں ہیں کہ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا جیل نہ جانا مشیر احتساب شہزاد اکبر کے استعفے کی بنیاد بنی ہے۔ لیگی رہنما عطاء اللہ تارڑ نے 17 جنوری کو ہی دعویٰ کر دیا تھا کہ شہزاد اکبر کے گھر جانے کا وقت آگیا ہے۔ عمران خان کی شدید خواہش ہے کہ شہباز شریف جیل جائیں، اگر ایسا نہ ہوا تو شہزاد اکبر خود کو عہدے پر برقرار نہیں رکھ سکیں گے۔
اے آر وائی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا تھا کہ شہاز شریف کی گرفتاری وزیراعظم عمران خان کی شدید خواہش ہے اور اگر اس پر عمل درآمد نہ ہوا تو انہوں نے شہزاد اکبر کو فارغ کر دینا ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا تھا کہ شہزاد اکبر کو فارغ کرنے کے بعد اس عہدے پر ایک اور بندے کا انتخاب بھی کر لیا گیا ہے۔ ان کا بس چلے تو اگلے آدھے گھنٹے میں ہی شہباز شریف کو گرفتار کرکے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیں تاہم یہ اتنا آسان نہیں ہوگا۔ ہم اس کیلئے بھرپور قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔
آج سے ٹھیک ایک ہفتہ قبل یہ بات کی تھی۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ کیا شہزاد اکبر سے قوم کا پیسہ اور وقت ضائع کرنے کا حساب لیا جائے گا؟ ایسٹ ریکوری یونٹ نے قوم کے اربوں روپے خرچے اور نتیجہ کچھ نہ نکلا۔ @ShazadAkbar قومی مجرم ہیں۔ انتقامی کارروائیوں کا مداوا کون کرے گا؟@WaseemBadami https://t.co/rwVb3cNlN9
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) January 24, 2022
ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ اس کام کو پایہ تکیمل تک پہنچانے کیلئے الٹے تک ہو چکے ہیں کہ کسی طرح سے شہباز شریف کو حراست میں لے لیا جائے۔ تاہم ہم نے اپنے پورے قانونی ہتھیار تیار کر رکھے ہیں، ہم اس مرتبہ ایسا کوئی کام ہونے نہیں دیں گے۔ اس سے پہلے بھی شہباز شریف کو دو مرتبہ گرفتار کیا گیا لیکن نکلا کچھ نہیں، کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں مسلم لیگ ن کے رہنما عطاء تارڑ نے لکھا کہ آج سے ٹھیک ایک ہفتہ قبل یہ بات کی تھی۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ کیا شہزاد اکبر سے قوم کا پیسہ اور وقت ضائع کرنے کا حساب لیا جائے گا؟ ایسٹ ریکوری یونٹ نے قوم کے اربوں روپے خرچے اور نتیجہ کچھ نہ نکلا۔ شہزاد اکبر قومی مجرم ہیں۔ انتقامی کارروائیوں کا مداوا کون کرے گا؟
یہ بات ذہن میں رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ملک میں جاری احتساب کےعمل پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے مشیر احتساب شہزاد اکبر کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔
وزیراعظم شہزاد اکبر کی کارکردگی سے مطمئن نہيں تھے۔ انہوں نے ایک اجلاس میں ملک میں جاری احتساب کے عمل پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ واضح کیس بھی عدم پیروی کے باعث التوا کا شکار ہیں۔
یہ بھی درست ہے اور اس کے علاوہ اور بھی بڑا کچھ درست ہے۔ اگر کہتے ہو تو تمہاری تبیعت بھی درست کئے دیتا ہوں۔ تم بھی ملک چھوڑ کے بھاگنے کے منصوبے بنا رہے ہو چھپ چھپ کے@SHABAZGIL https://t.co/vnZgpnSjWO
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) January 24, 2022
وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ اربوں کی چوری کرنے والے تاثر دے رہے ہیں کہ اُن کا دامن صاف ہے اور اس کی وجہ اوپن اینڈ شٹ کیسز کے تاحال منطقی انجام تک نہ پہنچانا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے شہزاد اکبر کے متبادل کی تلاش شروع کرتے ہوئے کئی افراد کی انٹرویو بھی کر لئے ہیں۔ ان افراد نے احتساب کا عمل آگے بڑھانے کے لئے وزیراعظم کو بریفنگ بھی دی ہے۔
اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت نے اب تک کوئی وعدہ پورا نہیں کیا نہ اس وقت کوئی ادارہ بہتر کام کررہا ہے۔ وزیرعظم عمران خان کو اپنے علاوہ کسی پر اعتماد نہیں، یہ ان کی ناکامی کی علامت ہے، وہ اپنی ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالنا چاہتے ہیں۔
مسلم لیگ کے رہنما زبیر عمر کا کہنا تھا کہ مشیر احتساب شہزاد اکبر نے کرپشن کی اربوں ڈالر کی نشاندہی کا دعویٰ کیا تھا، مگر اس میں اب تک ایک روپیہ ریکور نہیں کیا جا سکا۔ اپوزیشن کیخلاف جھوٹے کیس بنائے گئے، کوئی بھی ہوتا تو اس نے ناکام ہی ہونا تھا۔
