English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

معاشی نمو مستحکم مہنگائی کا زور کم ہورہا ہے،مزید کمی آئیگی ،اسٹیٹ بینک

کراچی: گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر مانیٹری پالیسی پیش کررہے ہیں

کراچی (کامرس رپورٹر) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود کو 9.75 فیصد کی موجودہ سطح پر برقراررکھتے ہوئے رواں برس مہنگائی میںکمی اور معاشی ترقی میںاضافے کی نوید سنا دی ہے ۔گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے پیر کو اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں زر ی پالیسی کمیٹی کے فیصلوںسے آگاہ کیا ۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ معاشی گروتھ مستحکم ہے‘ ملک میں مہنگائی کا زور کم ہو رہا ہے جس میں مزید کمی آئے گی‘ کورونا کی نئی لہر کے باوجود جی ڈی پی کی شرح 4 تا 5 فیصد رہنے کی توقع ہے‘معاشی ترقی کی رفتار میں اضافہ رہے گا‘ جاری کھاتوں کا خسارہ 13سے 14ارب ڈالرز کے درمیان رہ سکتا ہے‘ فنانس (ضمنی) ایکٹ میں بعض اشیا پر ٹیکس پر چھوٹ کے خاتمے سے اگلے چند مہینوں کے دوران سال بسال مہنگائی بڑھنے کا امکان ہے جو مالی سال 22ء کی اوسط مہنگائی کی 9 تا 11 فیصد کی پیش گوئی کی بالائی حد کے قریب ہے‘ ضمنی فنانس بل کی منظوری سے مالی خسارہ کم ہوگا اور طلب کی نمو کم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی مالی اور اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی میں بہتر کوآرڈینیشن کی وجہ سے اب مانیٹری پالیسی کو مہنگائی کم کرنے کے لیے بطور ٹول موثر طریقے سے استعمال کرنے کی اتنی ضرورت نہیں اور آئندہ مالی سال کے لیے مہنگائی کی توقعات کم ہوئی ہیں‘ جاری کھاتہ کے خسارے میں زیادہ بڑا حصہ تیل کی درآمدات کا ہے‘ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالرز تک پہنچنے کی صورت میں زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ پڑے گا لیکن اس کے لیے خاطر خواہ ذخائر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بینک کو نہیں کہا کہ حکومت کو قرض نہ دے، البتہ ضمنی فنانس بل کی منظوری کے بعد حکومت کا بجٹ خسارہ کم ہوگا اور اسے قرض لینے کی کم ضرورت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کے بعد بھی 3 اولین مقاصد مہنگائی میں کمی، معاشی نمو کو پائیدار بنانا اور قیمتوں میں استحکام جیسے مقاصد پر توجہ مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی پیداوار میں کمی کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ‘ بینکوں میں مسابقت کے ذریعے بینکاری خدمات کی بہتری کو یقینی بنا رہے ہیں‘ڈیجیٹل بینک کے لائسنس سے مسابقت بڑھے گی اور صارفین کو فائدہ ہوگا‘ پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے ساتھ کسٹمرز کی تصدیق کے لیے معلومات کے حصول کے یکساں نظام پر بات کر رہے ہیں جس سے ہر بینک کے لیے کسٹمر کو طویل پرفارمے بھر کر ذاتی معلومات کی فراہمی کی ضرورت نہیں رہے گی اور ایک بینک کی معلومات تمام بینک استعمال کرسکیں گے۔ مالی سال 22ء کی پہلی ششماہی کے دوران ایف بی آر کی ٹیکس وصولی میں مضبوطی سے اضافہ ہوا اور وہ 32 فیصد (سال بسال) بڑھ گئی، نتیجتاً جولائی تا اکتوبر مالی سال 22ء کے دوران مالیاتی خسارہ سکڑ کر جی ڈی پی کے 1.1 فیصد تک آ گیا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں جی ڈی پی کا 1.7 فیصد تھا۔ بنیادی فاضل رقم بھی0.1 فیصد درجے بہتر ہو کر جی ڈی پی کے 0.4 فیصد تک آ گئی‘ مستقبل میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 0.5 فیصد کے لگ بھگ رہنے کی توقع ہے جو مالی سال 22ء کے لیے قبل ازیں متوقع سطح سے کم ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ مالی سال 22ء کی پہلی ششماہی کے دوران جار ی کھاتے کا خسارہ 9 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ پاکستان دفترِ شماریات کے ڈیٹا کے مطابق درآمدات بڑھ کر 40.6 ارب ڈالر ہوگئیں، یعنی 66 فیصد (سال بسال) اضافہ ہوا، اور اس اضافے میں نصف سے زاید حصہ توانائی کی درآمدات اور کووڈ ویکسین کا تھا‘ برآمدات تقریباً 25 فیصد (سال بسال) اضافے سے 15.1 ارب ڈالر ہو گئیں جنہیں ٹیکسٹائل کی ریکارڈ بلند کھیپ کے ساتھ چاول کی مضبوط برآمدات کا سہارا ملا۔ دریں اثنا، مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران ترسیلات زر 11.3 فیصد (سال بسال) بڑھ کر اب تک کی بلند ترین سطح 15.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ مانیٹری پالیسی اعلامیہ کے مطابق مالی سال 22ء کی پہلی ششماہی کے دوران نجی شعبے کے قرضے میں مجموعی طور پر 13.4 فیصد اضافہ ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے