برکینا فاسو میں فوجیوں نے پیر کو سرکاری ٹیلی ویژن پر اعلان کیا ہے کہ انہوں نے مغربی افریقی ملک میں اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق فوج نے اعلان کیا کہ ملک کی حکومت اور پارلیمنٹ اب سے تحلیل ہو چکی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے ملک کی سرحدیں بند کر دی ہیں اور “مناسب وقت” کے اندر “آئینی نظام کی طرف واپسی” کا وعدہ کیا ہے۔
عالمی جریدے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق دو دن کی بدامنی کے بعد فوج کی جانب سے برکینا فاسو کے صدر روچ کابور کو ہٹانے اور حراست میں لینے سے حکومت مخالف مظاہرین میں جشن کا ماحول پیدا ہوا جبکہ گزشتہ سال مغربی اور وسطی افریقہ میں ہونے والی چوتھی فوجی بغاوت کے بعد بین الاقوامی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گٹیرس نے ایک بیان میں کہا کہ وہ “اسلحے کے زور پر حکومت پر قبضے کی کسی بھی کوشش کی شدید مذمت کرتے ہیں”، انہوں نے ان واقعات کو بغاوت قرار دیا۔
انہوں نے ایک ٹویٹر پوسٹ میں کہا، ’’بغاوت کرنے والے رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور صدر کی حفاظت اور ملکی اداروں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔‘‘
I am following developments in Burkina Faso with deep concern strongly condemn any attempt to take over a government by the force of arms.
Coup leaders must lay down their arms ensure the safety of the President and the protection of the country’s institutions.
— António Guterres (@antonioguterres) January 24, 2022
