سری نگر: بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کشمیری عوام سے کہا ہے کہ وہ بھارت کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منا کر بھارت کی ظلم و جبر کی پالیسی کے خلاف اپنا بھرپور احتجاج ریکارڈ کرائیں۔
کشمیر میڈیاکے مطابق میرواعظ عمر فاروق نے جو گھر میں نظربند ہیں سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ 75سال سے کشمیری عوام اپنے حق خودارادیت کے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں جس کا وعدہ وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو سمیت بھارتی قیادت نے ان سے نہ صرف اقوام متحدہ بلکہ بھارتی پارلیمنٹ اور سرینگر کے لال چوک میں کیاتھا۔ تاہم آج تک بھارت نہ صرف اپنا یہ وعدہ پورا نہیں کرسکا ہے بلکہ بھارت کو اس کا وعدہ یاد دلانے والوں کو گولیوں، پیلٹ گنز اورغیر قانونی نظر بندیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کے حقوق کیلئے اٹھنے والی ہر آواز کو فوجی طاقت کے ذریعے دبا دیا جاتا ہے۔ کشمیری نوجوانوں کاقتل عام کیا جارہا ہے اور کشمیریوں کیلئے احتجاج کے تمام راستے بند کر دئے گئے ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بھارت کی سیکورٹی ایجنسیوں کی طرف سے نام نہاد سیکورٹی الرٹ جاری کیاگیا ہے جس میں انہوں نے 26 جنوری کو یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت کرنے والی بڑی شخصیات پر ممکنہ حملے کے بارے میں انتباہ جاری کیا ہے۔ نو صفحات پر مشتمل نام نہاد انٹیلی جنس رپورٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی اور یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت کرنے والی دیگر اہم شخصیات کے لیے خطرہ ظاہر کیاگیا ہے،بھارت درحقیقت پاکستان، مسلمانوں اور سکھوں کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے لیے پلوامہ جیسا ڈرامہ رچا نے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بھارتی ایجنسیاں عوامی اجتماعات، اہم اداروں اور پرہجوم علاقوں کو ڈرون حملوں سے خود نشانہ بنا سکتی ہیں تاکہ بھارت اور پاکستان میںمسلمانوں اور سکھوں کے خلاف بدنیتی پر مبنی ایجنڈے کو آگے بڑھایا جا سکے۔ ماہرین نے یقین ظاہر کیا ہے کہ بی جے پی حکومت متعدد مذموم مقاصد کیلئے یوم جمہوریہ کی تقریبات کے دوران کوئی ڈرامہ رچا سکتی ہے۔

