برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 2021 کے بدعنوانی کی فہرست میں اسرائیل کو 180 ممالک میں چھتیسویں نمبر پر رکھا ہے۔ عالمی انسداد بدعنوانی تنظیم کے مطابق اسرائیل کا شمار دنیا کے کرپٹ ترین ممالک میں ہوتا ہے ، کیوں کہ کسی بھی ملک میں کرپشن کا اسکور 50 فی صد سے زیادہ ہونے سے یہ پتا چلتا ہے کہ وہ ملک پرلے درجے کا بدعنوان ہے۔مشرق وسطیٰ کے ممالک میں متحدہ عرب امارات اور قطر اسرائیل سے اوپر ہیں ،جب کہ جنوبی سوڈان، شام، وینزویلا، یمن، شمالی کوریا اور افغانستان سب سے نچلی سطح پر آئے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ پر کرپشن کے کیس ملک میں بدعنوانی کی واضح مثال ہیں۔ اس کے علاوہ کورونا وائرس کے دوران متنازع اقدامات نے حالت مزید خراب کردی ہے۔ دوسری جانب اسرائیل اور اردن کے درمیان ہونے والے سمجھوتے کی تفصیلات سامنے آگئیں۔ گزشتہ برس نومبر میں دستخط کیے گئے معاہدے کو ’پانی کے بدلے بجلی‘ کا نام دیا گیاتھا۔اسرائیل ، اردن اور امارات کی ٹیموں نے اپنی پہلی میٹنگ میں منصوبے پر تفصیلی منصوبہ پیش کرنے کے لیے سال کے وسط کا وقت مقرر کیا۔ معاہدے میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ اسرائیل متحدہ عرب امارات اور امریکا کی سرپرستی میں بجلی کے بدلے اردن کو پانی برآمد کرے گا۔ ادھر اردن کی پارلیمان کے ارکان کی اکثریت نے حکومت پرعدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے معاہدے سے دستبرداری کا مطالبہ کیا ہے۔
The post اسرائیل میں بد عنوانی میں اضافہ ، عالمی فہرست میں چھتیسواں نمبر appeared first on Daily Jasarat News.
