English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اومیکرون انسانی جلد پر دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ وقت تک زندہ رہ سکتی ہے، تحقیق

القمر

کورونا وائرس کی دیگر اقسام کے مقابلے میں اومیکرون کو زیادہ متعدی خیال کیا جاتا ہے۔

اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ سابقہ اقسام کے مقابلے میں وہ پلاسٹک اور جلد پر زیادہ دیر تک بچنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

یہ بات جاپان میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

اس تحقیق میں لیبارٹری ٹیسٹوں میں دریافت کیا گیا کہ اومیکرون قسم پلاسٹک کی سطح اور انسانی جلد پر دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ وقت تک زندہ رہ سکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق اس قسم کا بہتر ماحولیاتی اسستحکام اس کے متعدی ہونے کی صلاحیت کو برقررا رکھتا ہے اور اسی کے نتیجے میں اومیکرون کو ڈیلٹا کی جگہ لینے میں مدد ملی اور وہ برق رفتاری سے پھیل گئی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ پلاسٹک کی سطح پر کورونا وائرس کی اصل قسم ایلفا، گیما اور ڈیلٹا کے زندہ رہنے کا اوسط وقت بالترتیب 56 گھنٹے، 191.3 گھنٹے، 156.6 گھنٹے، 59.3 گھنٹے اور 114 گھنٹے ہے۔

اس کے مقابلے میں اومیکرون کا وقت 193.5 گھنٹے دریافت ہوا۔

جلد کے نمونوں میں وائرس کی اوریجنل قسم کے زندہ رہنے کا اوسط وقت 8.6 گھنٹے تھا جبکہ ایلفا کا 19.6 گھنٹے، بیٹا کا 19.1 گھنٹے، گیما کا 11 گھنٹے، ڈیلٹا کا 16.8 گھنٹے اور اومیکرون کا 21.1 گھنٹے تھا۔

مگر تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ وائرس کی تمام اقسام الکحل ملے ہینڈ سینیٹائزر کے استعمال سے 15 سیکنڈ میں مکمل طور پر ناکارہ ہوجاتی ہیں۔

محققین نے کہا کہ اس کو دیکھتے ہوئے ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے جیسا عالمی ادارہ صحت نے بھی مشورہ دیا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے بلکہ پری پرنٹ سرور bioRxiv میں جاری کیے گئے۔

اس سے قبل طبی جریدے جرنل کلینیکل انفیکشیز ڈیزیز میں شائع تحقیق میں بتایا تھا کہ کورونا وائرس انسانی جلد پر 9 گھنٹے تک زندہ رہ سکتا ہے، اس کے مقابلے میں فلو کا باعث بننے والا وائرس انسانی جلد پر 2 گھنٹے تک ہی رہتا ہے۔

خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ ہاتھوں کی صفائی یا ہینڈ سینی ٹائزر سے یہ دونوں وائرس فوری طور پر ناکارہ ہوجاتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق یہ وائرس براہ راست رابطے پر زیادہ پھیل سکتا ہے کیونکہ یہ فلو وائرس کے مقابلے میں جلد پر زیادہ مستحکم رہتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس دریافت سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ ہاتھوں کی مناسب صفائی اس وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اہم ہے۔

یہ وائرس نظام تنفس کو متاثر کرتا ہے اور ہوا میں موجود ذرات سے پھیلتا ہے جو کسی متاثرہ فرد کی کھانسی یا چھینک سے خارج ہوتے ہیں جو قریب موجود انسان کی ناک یا منہ پر گرتے یا سانس لینے کے دوران اندر چلے جاتے ہیں۔

مگر کسی میں اس سے متاثر ہونے کا خطرہ اس وقت بھی ہوتا ہے جب وہ کسی ایسی چیز کی سطح کو چھوئے جس پر یہ وائرل ذرات موجود ہوں اور اس کے بعد اپنے منہ، ناک یا آنکھوں کو چھوئیں۔

فائزر کی اومیکرون کے خلاف نئی ویکسین کی آزمائش شروع

فائزر نے کورونا وائرس کی قسم اومیکرون کے خلاف تیار کردہ نئی ویکسین کی آزمائش شروع کردی ہے۔

فائزر اور بائیو این ٹیک کی جانب سے ایک بیان میں اوریجنل کووڈ 19 ویکسین اور نئی ویکسین کے موازنے پر مبنی تحقیق شروع کرنے کا اعلان کیا۔

کووڈ ویکسینز تیار کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے اومیکرون کے مقابلے کے لیے اپنی ویکسینز کو اپ گریڈ کرنے پر کام کیا جارہا ہے۔

اب تک کے شواہد سے عندیہ ملتا ہے کہ اومیکرون قسم کورونا کی دیگر اقسام کے مقابلے میں ویکسینیشن کرانے والے افراد کو بیمار کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتی ہے۔

حالیہ تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ اوریجنل ویکسینز کی 3 خوراکوں سے اومیکرون سے متاثر ہونے پر بیماری کی سنگین شدت اور موت کے خطرے سے ٹھوس تحفظ ملتا ہے۔

فائزر کی ویکسین ریسرچ سربراہ کیتھرین جینسین نے بتایا کہ ہمیں اس طرح کے حالات کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ وقت کے ساتھ تحفظ کی سطح میں کمی آتی ہے اور اومیکرون و دیگر نئی اقسام کی روک تھام کرنی ہے۔

فائزر کی اس تحقیق میں 18 سے 55 سال کی عمر کے 1420 صحت مند افراد کو شامل کیا جائے گا۔

ان افراد میں اومیکرون کے لیے مخصوص ویکسین کو بوسٹر ڈوز یا مکمل ویکسینیشن کے طور پر آزمایا جائے گا۔

محققین کے ویکسین کی افادیت کے ساتھ اس کے محفوظ ہونے کی جانچ پڑتال کریں جبکہ اوریجنل ویکسین سے موازنہ بھی کریں گے۔

تحقیق کے مکمل نتائج جاری ہونے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں کیونکہ رضاکاروں کو کئی بار ویکسین کی خوراکیں استعمال کرائی جائیں گی اور محققین جائزہ لیں گے وائرس سے لڑنے والی اینٹی باڈیز کی سطح کتنے عرصے تک زیادہ رہتی ہے۔

تحقیق میں 600 افراد کا ایک گروپ ایسا ہوگا جس میں شامل افراد نے موجودہ فائزر ویکسین کی 2 خوراکیں 3 سے 6 ماہ کے دوران استعمال کی ہوں گی اور انہین نئی ویکسین کی ایک یا 2 خوراکیں استعمال کرائی جائیں گی۔

600 افراد کا ایک اور گروپ بھی تحقیق کا حصہ ہوگا جو پہلے ہی فائزر ویکسین کی 3 خوراکیں استعمال کرچکے ہوں گے اور پرانی یا نئی ویکسین کی مزید ایک خوراک انہیں دی جائے گی۔

تحقیق کے لیے کچھ ایسے افراد کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی جن کی ویکسینیشن نہیں ہوئی ہوگی اور انہیں اومیکرون ویکسین کی 3 خوراکیں استعمال کرائی جائیں گی۔

منبع: ڈان نیوز

The post اومیکرون انسانی جلد پر دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ وقت تک زندہ رہ سکتی ہے، تحقیق appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے