English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

جدید تعلیم سے بہترین سائنسدان اور ماہرین پیدا کیے جا سکتے ہیں، سندھ زرعی یونیورسٹی

القمر

 

حیدر آباد (اسٹاف رپورٹر) سندھ زرعی یونیورسٹی اور پاکستان سائنس فائونڈیشن نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ سیکینڈرسطح کے تعلیمی نظام میں جدید سائنسی نصاب ناگزیر ہیں۔ بنیادی تعلیم میں مزید جدید سائنسی علوم کے نفاذ سے مختلف شعبوں میں بہترین سائنسدان اور ماہرین پیدا کیے جا سکیں گے، پاکستان سائنس فانڈیشن کی جانب سے ’’سائنس ای ٹیلنٹ فارمنگ لیب موبائل بس‘‘کے جائزے کے دوران ماہرین سے گفتگو کرتے ہوئے سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کے وائس چانسلر ڈاکٹر فتح مری نے کہا کہ دنیا اسکول کی سطح پر تعلیم پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ بنیادی تعلیم کمزور ہونے کی وجہ سے طلبا کو اعلیٰ تعلیم کے دوران بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں، پرائمری، ثانوی اور اعلیٰ ثانوی تعلیم کے دوران فزکس، بائیولوجی، کمپیوٹر کے ساتھ ساتھ سائنس، کمپیوٹر اور انجینئرنگ سے متعلق نصاب کوجدید بنانا ہو گا اور طلبا کی دلچسپی بڑھانے کے لیے مطالعہ کے جدید طریقے استعمال کرنا ہوں گے۔ انہوں نے تجویز دی کہ والدین، اساتذہ اور ماہرین موبائل فون کے پازیٹو استعمال کے متعلق طلبا کی رہنمائی میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے طلبا کو سائنس کی طرف راغب کرنے میں پاکستان سائنس فانڈیشن کی کوششوں کو سراہا، پاکستان سائنس فانڈیشن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور سائنس کاروان ٹنڈوجام کے نگراں خالد حسین سومرو نے کہا کہ اسکول کے طلبا کو نہ صرف لیکچر، سائنسی نمائش اور بحث مباحثے کی تربیت دی جاتی ہے، بلکہ انہیں تجربات بھی کروائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سائنس کارواں کے ذریعے ہم طلبا کو اسکولوں میں سائنس کی اہمیت سے آگاہ کر رہے ہیں، پی ایس ایف کی کوشش ہے کہ طلبا کو سائنس کا بنیادی علم ہونا چاہیے، اس سلسلے میں سندھ زرعی یونیورسٹی ہمارے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے