نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس لاہور ہائی کورٹ میں جمع، سفر نہ کرنے کی ہدایت
فروری 2, 2022
القمر
سابق وزیر اعظم و مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ لاہور ہائی کورٹ میں جمع کروا دی گئی جس میں نواز شریف کو مکمل صحتیاب نہ ہوجانے تک سفر نہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ واشنگٹن ایڈوینٹسٹ ہیلتھ کیئر وائٹ اوک میڈیکل سینٹر کے انٹروینشنل کارڈیالوجی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فیاض شال نے تیار کی ہے جو امجد پرویز ایڈووکیٹ کی وساطت سے عدالت میں جمع کرائی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا وبا کے سبب سابق وزیر اعظم کو سانس کے مسائل کا سامنا بھی ہو سکتا ہے، وہ دل کے امراض میں بھی مبتلا ہیں اور وائرس کے سبب ان کی جان کو بھی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں، لہٰذا جب تک نواز شریف کی کرونری انجیوگرافی نہیں کی جاتی ان کے لیے تجویز کیا جاتا ہے وہ صحت سینٹر کے قریب ہی رہیں اور ادویات لیتے رہیں۔
میڈیکل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف اپنی ادویات جاری رکھیں اور کھلی جگہ پر چہل قدمی کریں، چہل قدمی کے دوران کورونا سے بچاؤ کے ایس او پیز سمیت دیگر اقدامات بھی کریں، عالمی سطح پر موجود کورونا وائرس کے باعث نواز شریف کو ہر طرح کے سفر یا عوامی مقامات جیسے ہوائی اڈوں پر جانے سے گریز کرنا چاہیے۔
رپورٹ میں لکھا گہا ہے کہ انہیں حال ہی میں بتایا گیا کہ نواز شریف نے ذیابیطس قابو کرنے کے لیے دوا شروع کی تھی جس کے نتیجے میں ان کے گردوں کے افعال متاثر ہو ئے، اس لیے ان کی انجیوگرافی سے پہلے اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، نواز شریف کو بہترین علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔
نواز شریف کی نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ رپورٹ میں سفر نہ کرنے کی سفارش کی گئی تھی، اب بھی وہی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
رپورٹ میں ڈاکٹر فیاض شال نے کہا ہے کہ نواز شریف کی صحت سے متعلق کسی ابہام یا سوال کے حوالے سے ان سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
شہباز گل کا رد عمل
ویراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے جمع کرائی گئی نئی میڈیکل رپورٹ پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی پتہ چلا ہے کہ اب برطانیہ میں بھی دل کے سب ڈاکٹر فوت ہو چکے ہیں، اس لئے نواز شریف نے ایک پاکستانی نژاد امریکی ڈاکٹر کو لندن بلوایا۔ پھر اس کو معائنہ کروایا۔پھر اس سے مرضی کا ایک خط لکھوایا۔
شہباز گل کا کہنا تھا کہ کیا آپکو لگتا ہے آپکی یہ مکاری عیاری اب اور چلے گی یا بے ایمانی تیرا آسرا۔ جھوٹ پر جھوٹ۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک بیان میں شہباز گل کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹر صاحب اپنے خط میں چند اہم چیزیں لکھنا بھول گئے۔ انہیں لکھنا چاہئے تھا کہ مریض کے دل کو خوش رکھنے کے لیے ان کو فورا وزیراعظم بنایا جائے، دو تہائی اکثریت دلوائی جائے، لندن میں 10 مہنگے اپارٹمنٹس لے کر دیے جائیں۔سیکیورٹی اداروں اور ججز کو برا بھلا کہنے کی اجازت دی جائے، حد ہے۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے جمع کرائی گئی میڈیکل رپورٹ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہیں تک نہیں ڈاکٹر صاحب نے بلواسطہ یہ بھی کہنے کی کوشش کی ہے کہ نواز شریف صاحب کی شادی بھی کروائی جائے۔
شہباز گل کا کہنا تھا کہ کیا ہمیشہ کی طرح یہ رام کہانی بھی ہندوستان نے لکھوا کر دی ہے؟ ڈاکٹر صاحب کا تعلق اصل میں ہندوستان سے ہے۔
معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ان ڈاکٹر صاحب کے کچھ کارنامے جو اخبار میں چھپ چکے وہ آپکے سامنے رکھتے ہیں، پریانکا چوپڑا کے مطابق ان محترم کو بھی فلمیں بنانے کا شوق ہے۔
شہباز گل نے کہا کہ یہ تو بہت فلمی سی رپورٹ ہے میاں صاحب۔
وفاقی حکومت کی ہدایت پر میڈیکل بورڈ کی تشکیل
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے معالج ڈاکٹر ڈیوڈ لارنس کی جانب سے جمع کرائی گئی میڈیکل رپورٹس کی جانچ پڑتال کے لیے 9 رکنی خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا تھا۔
پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر محمد عارف نعیم کی سربراہی میں بورڈ کی تشکیل وفاقی کابینہ کی ہدایات پر کی گئی تھی جو نواز شریف کے معالج کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹس کا جائزہ لے گا اور مریض کی جسمانی حالت اور پاکستان واپس جانے کی صلاحیت کے حوالے سے ماہرانہ طبی رائے پیش کرے گا۔
نواز شریف نومبر 2019 میں لاہور ہائی کورٹ سے علاج کے لیے 4 ہفتے کی ضمانت منظور کیے جانے کے بعد برطانیہ روانہ ہو گئے تھے۔
بورڈ کے اراکین میں پروفیسر ڈاکٹر غیاث نبی طیب، پروفیسر ڈاکٹر ثاقب سعید، پروفیسر ڈاکٹر شاہد حمید، پروفیسر ڈاکٹر بلال ایس محی الدین، پروفیسر ڈاکٹر عنبرین حامد، پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن، پروفیسر ڈاکٹر مونا عزیز اور ڈاکٹر خدیجہ عرفان خواجہ شامل ہیں۔
بورڈ کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ 5 روز کے اندر اپنی رپورٹ اور ماہرانہ طبی رائے اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر سیکریٹری کو پیش کرے۔
وفاقی حکومت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیماری کی صورتحال کی جانچ کے لیے میڈیکل بورڈ قائم کرنے کے لیے حکومت پنجاب سے درخواست کی تھی تاکہ ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹس پر ماہرانہ رائے لی جائے۔
اٹارنی جنرل آف پاکستان کے دفتر سے سیکریٹری محکمہ داخلہ کو خط لکھ کر طبی رپورٹس پر ماہرانہ رائے دینے کے لیے میڈیکل بورڈ کے قیام کی درخواست کی گئی تھی ۔
خط میں کہا گیا تھا کہ جب نواز شریف بیرون ملک گئے تو دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کی حالت تشویش ناک ہے لیکن لندن پہنچتے ہی ان کی حالت میں نمایاں بہتری آئی اور ان کی سیاسی، سماجی اور تفریحی سرگرمیاں بلاتعطل جاری ہیں جن کو روزانہ کی بنیاد پر میڈیا میں رپورٹ بھی کیا جاتا ہے جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ اگر ماضی میں انہیں کوئی سنگین بیماری تھی تو اس کی کوئی علامات اب نظر نہیں آتیں۔
اس حوالے سے کہا گیا تھا کہ موجودہ حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ نواز شریف اب پاکستان واپسی کے لیے مکمل فٹ ہیں، جن کا بیان حلفی لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرایا گیا تھا۔
خط میں کہا گیا تھا کہ نواز شریف کی صحت اور جسمانی حالت کے حوالے سے کوئی بھی نتیجہ ماہرین پر مشتمل ایک آزاد طبی پینل کی رپورٹ کی روشنی میں ہی نکالا جا سکتا ہے تاکہ اس بات کا بھی تعین کیا جا سکے کہ وہ وطن واپسی کے لیے فٹ ہیں یا نہیں۔
اٹارنی جنرل کے دفتر سے جاری خط میں حکومت پنجاب سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ میڈیکل پینل قائم کرے تاکہ نواز شریف کی صحت کے تعین اور وطن واپسی کے حوالے سے فیصلہ کرنے کے لیے جمع کرائی گئی دستاویزات کا جائزہ لیا جا سکے۔
خیال رہے کہ نواز شریف نومبر 2019 سے برطانیہ میں ہیں، جب جنوری 2020 ان کے طبی ٹیسٹس ہورہے تھے تو ڈاکٹروں نے جائزہ لیا تھا کہ کیا انہیں دل کے آپریشن، بائی پاس یا اسٹنٹ کی ضرورت ہوگی۔
سابق وزیراعظم کے ماضی میں 2 مرتبہ (2010 اور 2016 میں) دل کے آپریشنز ہوئے اور 2019 میں تھرومبوکائیٹوپینیا سے گزرے جب انہیں پی ٹی آئی حکومت نے علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی تھی۔
جس کے بعد انہیں دل کے تیسرے آپریشن کی تجویز دی گئی تھی اور بظاہر لگتا ہے کہ اس کے بغیر سابق وزیراعظم کے پاکستان آنے کا امکان نہیں۔
نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کے لیے حکومتی کوششیں ناکام ہونے کا امکانپاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کی جانب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے بھائی شہباز کے خلاف قانونی دباؤ بڑھا کر ان کی حالت سے متعلق اپڈیٹ حاصل کرنے کی تازہ کوششیں شاید اتنی نتیجہ خیز ثابت نہ ہوں جتنی امید کی جا رہی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ نواز کے اندرونی اور شریف خاندان کے قریبی ذرائع سے ہونے والی بات چیت سے پتا چلتا ہے کہ حکومت نے جس قسم کی تفصیلی میڈیکل رپورٹس مانگی ہیں وہ شاید دستیاب نہ ہوں۔
کیونکہ سابق وزیر اعظم کو ابھی تک کسی ایسے طریقہ کار سے گزرنا باقی ہے جو انہیں ڈاکٹروں نے تجویز کیا تھا۔
سابق وزیراعظم کو دل کے نئے طریقہ کار سے گزرنے کا مشورہ دیا گیا تھا جو خطرے سے خالی نہیں ہے، اس مسئلے کو کووڈ 19 نے مزید پیچیدہ کردیا جس کی وجہ سے برطانیہ میں اگر سبھی نہیں تو ایسےٓی سرجریوں کو ملتوی کردیا گیا تھا جن کی جلدی نہیں تھی۔
تاہم ڈاکٹر یاسمین راشد کے خیال میں نواز شریف کے پاس علاج کے لیے کافی وقت ہے چاہے کووڈ ہو یا نہیں، اگر وہ دو سال تک صرف دواؤں پر زندہ رہ لیے تو ان کی حالت سنبھلی ہوئی ہے اور پاکستان واپس جانے کے لیے ٹھیک ہے۔
پنجاب کی وزیر صحت اس سارے عمل کا ایک اہم حصہ رہی ہیں جس میں نواز شریف کو علاج کے لیے جاتے ہوئے دیکھا اور بعد میں اس امید پر ان کی حالت پر نظر رکھے ہوئے تھیں کہ وہ پاکستانی عدالتوں میں اپنے خلاف الزامات کا سامنا کرنے کے لیے واپس آ سکیں گے۔
یاسمین راشد بتاتی ہیں کہ کارڈیک کیتھیٹرائزیشن، جس عمل سے سابق وزیر اعظم کو بیرون ملک جانے کے وقت گزرنا تھا، پاکستان میں بھی کیا جا سکتا تھا لیکن نواز شریف نے اصرار کیا کہ وہ برطانیہ میں کرانے کو ترجیح دیں گے جہاں پہلے ہی دو بار ان کا آپریشن ہو چکا ہے۔
خیال رہے کہ نواز شریف نومبر 2019 سے برطانیہ میں ہیں، جب جنوری 2020 ان کے طبی ٹیسٹس ہورہے تھے تو ڈاکٹروں نے جائزہ لیا تھا کہ کیا انہیں دل کے آپریشن، بائی پاس یا اسٹنٹ کی ضرورت ہوگی۔
تاہم ان کے ہیماٹولوجیکل مسائل کی وجہ سے خاندانی ذرائع نے اس وقت کہا تھا کہ انہوں نے نواز شریف کی پیچیدگیوں کو دور کرنے کے لیے امریکا کے سفر پر غور کیا تھا۔
صحت کے پیچیدہ مسائل
مسلم لیگ (ن) کے اندرونی ذرائع سے کی گئی بات چیت میں انکشاف ہوا کہ نواز شریف کو دل اور خون کے متعدد مسائل ہیں۔
سابق وزیراعظم کے ماضی میں 2 مرتبہ (2010 اور 2016 میں) دل کے آپریشنز ہوئے اور 2019 میں تھرومبوکائیٹوپینیا سے گزرے جب انہیں پی ٹی آئی حکومت نے علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی تھی۔
جس کے بعد انہیں دل کے تیسرے آپریشن کی تجویز دی گئی تھی اور بظاہر لگتا ہے کہ اس کے بغیر سابق وزیراعظم کے پاکستان آنے کا امکان نہیں۔
شریف خاندان کے ذرائع نے بتایا کہ چونکہ اس طریقہ کار کے لیے تجربہ کار سرجنز کی ضرورت ہوتی ہے، خاص طور پر ان پیچیدگیوں کے پیش نظر جو انہیں گزشتہ طبی پروسیجرز میں ہوئیں اس بات کا امکان نہیں کہ خاندان ان کا علاج پاکستان میں کرائے گا۔
اس کے بعد اس کے پاسپورٹ کا مسئلہ ہے جس کی معیاد ختم ہو گئی ہے جو کہ برطانیہ سے باہر سفر کو مشکل بنا دے گا۔
نامکمل رپورٹس
یاد رہے کہ حکومت پنجاب نے نواز شریف کے ڈاکٹر ڈیوڈ لارنس کی جانب سے جمع کرائی گئی میڈیکل رپورٹس کے طور پر جمع کرائے گئے دستاویز کا جائزہ لینے اور مریض کی صحت سے متعلق طبی رائے دینے اور پاکستان واپسی کی صورتحال دیکھنے کے لیے حال ہی میں 9 رکنی خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا تھا۔
تاہم، بورڈ کے ارکان نے دعویٰ کیا کہ وہ نواز شریف کی موجودہ طبی تشخیص، خون کی رپورٹس، امیجنگ کے نتائج اور طریقہ کار کی تفصیلات کے بغیر ان کی حالت یا سفر کرنے کی صلاحیت کے بارے میں کوئی منظم رائے نہیں دے سکتے۔
اگست 2021 میں ڈاکٹر لارنس نے تین صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ لکھی جس میں کہا گیا کہ ‘نومبر 2019 میں ان کو علاج کے لیے ریفر کیا گیا کیونکہ ان کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ بیماری اور اس سے منسلک پیچیدگیوں کے علاج کے لیے مخصوص مہارت، ٹیکنالوجی اور تکنیکیں دستیاب نہیں تھی۔’
پارٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ لندن میں رپورٹوں میں صرف طبی عمل اور طریقہ کار کی وضاحت کی گئی ہے، وہ سیاسی نہیں ہیں اس لیے ان میں تجزیہ یا ریاستی خطرات شامل نہیں ہیں، مثال کے طور پر اگر آپ نے تین ڈاکٹروں سے معائنہ کرایا ہے تو ان کے علاج کے لیے تین بالکل مختلف طریقے ہوں گے۔
جس کے بعد ڈاکٹر عدنان خان پاکستان میں شریف خاندان کے معالج جو نواز کے ساتھ صحت کے دورے پر گئے ہیں، نواز شریف کی صحت کی حالت کے بارے میں ایک خط لکھیں گے اور اسے بورڈ کو فراہم کریں گے۔
تاہم ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ یہ میڈیکل بورڈ کے لیے کافی نہیں ہوگا۔