English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

وزیراعظم وزرا کے وفد کے ہمراہ چین کے 4 روزہ اہم سرکاری دورے پر روانہ

القمر

وزیراعظم عمران خان وزرا کے وفد کے ہمراہ چین کے 4 روزہ اہم سرکاری دورے پر روانہ ہوگئے۔

وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ موجود وزرا کے وفد میں وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر شامل ہیں۔

ان کے ہمراہ موجود وفد میں مشیر قومی سلامتی معید یوسف، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد اور معاون خصوصی برائے پاک ۔ چین اقتصادی راہداری خالد منصور بھی شامل ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان دورے میں چین کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے اور چین کے تجارتی وفود سے بھی ملاقات کریں گے۔

عمران خان دورہ چین کے دوران بیجنگ میں منعقد ہونے والے سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے۔

قبل ازیں دورے سے متعلق بات کر تے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’21 مختلف شعبہ جات کی نشاندہی کی گئی ہے جن پر وزیراعظم چینی قیادت سے گفتگو کریں گے۔

وزیر اعظم کے دورہ چین کے دوران زیر بحث آنے والے شعبہ جات میں سی پیک کے تحت قائم کیے جانے والے خصوصی اقتصادی زونز، تجارت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت اور بڑی پیمانے پر چینی صنعتوں کی پاکستان منتقلی شامل ہیں۔

ایک بیان میں وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا وزیر اعظم، چینی صدر شی جن پنگ اور چینی وزیر اعظم لی چیانگ سے دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے۔

بیان میں کہا گیا کہ ’ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے سربراہان دوطرفہ تعلقات کا مکمل جائزہ لیں گے، جس میں سی پیک سمیت تجارت اور اقتصادی تعاون پر خصوصی توجہ دی جائے گی‘۔

دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم چینی قیادت کی دعوت پر چین کا دورہ کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ یہ تاثر عام ہے کہ 3 سال قبل پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے اقتدار میں آنے کے بعد سی پیک پر کام سست روی کا شکار ہے۔

تاہم، حکومت کی جانب سے توقع کی جارہی ہے کہ وزیر اعظم کے دورے سے زیر تعمیر منصوبوں یا سی پیک کے تحت شروع کیے گئے دیگر منصوبوں کی تعمیر و ترقی میں تیزی دیکھی جائے گی۔

وزیر اعظم عمران خان بارہا کہہ چکے ہیں کہ حکومت نے سی پیک کی توجہ سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے سے بدل کر صنعتوں، توانائی اور زراعت پر مبذول کردی ہے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سی پیک خالد منصور نےبتایا تھا کہ اس وقت وہ بھرپور تیار ہیں اور اس حوالے سے چینی سرمایہ کاروں کو فراہم کی جانے والی ممکنہ سہولیات کا بہترین تقابلی تجزیہ کر چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے مشترکہ ورکنگ گروپ اجلاس کے لیے 10 مختلف شعبہ جات پر گفتگو کی تھی لیکن بااثر چینی صنعتکاروں کے ساتھ ملاقاتیں ترتیب دے دی گئی ہیں جو وزیراعظم سے ان کے دورے کے دوران ملاقات کریں گے۔

دفتر خارجہ کے مطابق وزیر اعظم بیجنگ کے دورے کے دوران معروف کاروباری شخصیات، چینی تھینک ٹینک کی سربراہی کرنے والے نمائندگان، اکیڈمی اور میڈیا نمائندگان سے ملاقاتیں کریں گے۔

دریں اثنا اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کے دوران وزیر اعظم نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔

حکومت کو وزیر اعظم کے دورہ چین سے سی پیک میں نئی توانائی آنے کی توقع

حکومت کو امید کہ وزیر اعظم عمران خان کا آج (جمعرات) سے شروع ہونے والا 4 روزہ دورہ چین پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے میں نئی روح پھونکے گا۔

وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے سلسلہ وار اجلاسوں کے بعد گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’21 مختلف شعبہ جات کی نشاندہی کی گئی ہے جن پر وزیراعظم چینی قیادت سے گفتگو کریں گے‘۔

وزیر اعظم کے دورہ چین کے دوران زیر بحث آنے والے شعبہ جات میں سی پیک کے تحت قائم کیے جانے والے خصوصی اقتصادی زونز، تجارت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، اور بڑی پیمانے پر چینی صنعتوں کی پاکستان منتقلی شامل ہیں۔

ایک بیان میں وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے وزیر اعظم چینی صدر شی جن پنگ اور چینی وزیر اعظم لی چیانگ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔

بیان میں کہا گیا کہ ’دونوں ممالک کے سربراہان دو طرفہ تعلقات کا مکمل جائزہ لیں گے، جس میں سی پیک سمیت تجارت اور اقتصادی تعاون پر خصوصی توجہ دی جائے گی‘۔

دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم چینی قیادت کی دعوت پر چین کا دورہ کر رہے ہیں۔

سے یہ تاثر عام ہے کہ 3 سال قبل پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے اقتدار میں آنے کے بعد سی پیک پر کام سست روی کا شکار ہے۔

تاہم، حکومت کی جانب سے توقع کی جارہی ہے کہ وزیر اعظم کے دورے سے زیر تعمیر منصوبوں یا سی پیک کے تحت شروع کیے گئے دیگر منصوبوں کی تعمیر و ترقی میں تیزی دیکھی جائے گی۔

وزیر اعظم عمران خان بارہا کہہ چکے ہیں کہ حکومت نے سی پیک کی توجہ سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے سے بدل کر صنعتوں، توانائی اور زراعت پر مبذول کردی ہے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سی پیک خالد منصور نے بتایا کہ اس وقت وہ بھر پور تیار ہیں اور اس حوالے سے چینی سرمایہ کاروں کو فراہم کی جانے والی ممکنہ سہولیات کا بہترین تقابلی تجزیہ کر چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے جوائنٹ ورکنگ گروپ اجلاس کے لیے 10 مختلف شعبہ جات پر گفتگو کی تھی لیکن بااثر چینی صنعتکاروں کے ساتھ ملاقاتیں ترتیب دے دی گئی ہیں جو وزیراعظم سے ان کے دورے کے دوران ملاقات کریں گے۔

دفتر خارجہ کے مطابق وزیر اعظم بیجنگ کے دورے کے دوران معروف کاروباری شخصیات، چینی تھینک ٹینک کی سربراہی کرنے والے نمائندگان، اکیڈمی اور میڈیا نمائندگان سے ملاقاتیں کریں گے۔

دریں اثنا، اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کے دوران وزیر اعظم نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے