English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

آئی ایم ایف بورڈ نے پاکستان کیلئے پروگرام کی چھٹی قسط کی منظوری دے دی ہے، شوکت ترین

القمر

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت پاکستان کے لیے اپنے پروگرام کے چھٹے جائزے کی تکمیل کی منظوری دے دی۔

اس سلسلے میں واشنگٹن سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اس جائزے کے مکمل ہونے سے پاکستان کو 75 کروڑ ایس ڈی آر (تقریباً ایک ارب ڈالر) ملیں گے جس کے بعد حالیہ آئی ایم ایف پروگرام سے اب تک ملنے والا قرض 2 ہزار 144 ملین ایس ڈی آر یعنی 3 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا، جو ملک کے کوٹے کے 106 فیصد کے برابر ہوگا۔

خیال رہے کہ آئی ایم ایف اُس ملک کو ای ایف ایف قرض کی سہولت فراہم کرتا ہے جو ساختی کمزوریوں کی وجہ سے درمیانی مدت کے ادائیگیوں کے توازن کے سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہو جنہیں دور کرنے میں وقت لگتا ہے۔

پاکستان نے 4 ارب 26 کروڑ 80 لاکھ ایس ڈی آر یعنی 6 ارب ڈالر کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ جولائی 2019 میں 39 ماہ پر محیظ ای ایف ایف انتظامات کیے تھے جو کوٹے کا 210 فیصد ہے۔

اس پروگرام کا مقصد پاکستان کی معیشت میں مدد کرنے اور کووڈ-19 کی وبا کے درمیان زندگیوں اور روزگار معاش کو بچانے، معاشی اور قرضوں کی پائیداری اور اسٹرکچرل اصلاحات کو آگے بڑھانا ہے تاکہ مضبوط، روزگار سے بھرپور اور دیرپا ترقی کی بنیادیں ڈالی جائیں جس سے تمام پاکستانیوں کو فائدہ پہنچے۔

قبل ازیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں شوکت ترین نے کہا کہ ‘میں خوشی کے ساتھ اعلان کر رہا ہوں کہ آئی ایم ایف بورڈ نے پاکستان کے لیے اپنے پروگرام کی چھٹی قسط کی منظوری دے دی ہے’۔

وزیرخزانہ کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ٹوئٹ میں کہا کہ ‘الحمدللّٰہ آئی ایم ایف بورڈ نے پاکستان کا چھٹا نظرثانی بورڈ مکمل کر لیا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی قسط کے اجرا کا فیصلہ کیا ہے اور اس فیصلے سے معیشت کے استحکام اور اصلاحات کے عمل میں مدد ملے گی’۔

یاد رہے کہ شوکت ترین نے یکم نومبر 2021 کو پاکستان سنگل ونڈو لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کے آئی ایم ایف کے ساتھ 6 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ کی بحالی کے معاملات طے ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ اسٹیٹ بینک سے متعلق قانون کے لیے آئینی ترامیم کی ضرورت ہے جس کے لیے ہمارے پاس حکومت میں دو تہائی اکثریت نہیں ہے اور’مذاکرات میں آئی ایم ایف کو ہم نے یہی بات سمجھانے کی کوشش کی ہے‘۔

واضح رہے کہ پاکستانی حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ڈیڈ لاک اس وقت ٹوٹ گیا تھا جب دونوں فریقین نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی خود مختاری کے معاملے پر اپنے اپنے مؤقف میں لچک کا فیصلہ کیا تھا۔

مارچ 2021 میں پاکستان نے اسٹیٹ بینک کو خود مختاری دینے کے حوالے سے فنڈ کے ساتھ معاہدہ کیا تھا جس کی آئی ایم ایف بورڈ نے بھی منظوری دی تھی۔

شوکت ترین کی سربراہی میں پاکستان کی اقتصادی ٹیم نے فنڈ کے حکام سے مذاکرات کے کئی دور کیے تاکہ انہیں پارلیمنٹ کے ایوان زیریں اور ایوان بالا میں حکمران پاکستان تحریک انصاف کی عددی طاقت سے آگاہ کیا جا سکے جہاں اسٹیٹ بینک کو خود مختاری دینے کے لیے آئین میں ترمیم کرنی ہے۔

یاد رہے کہ حکومت نے 28 جنوری کو اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود سینیٹ میں اسٹیٹ بینک ترمیمی بل صرف ایک ووٹ کی اکثریت سے منظور کروایا تھا، یوں حکومت ضمنی مالیاتی بل سمیت عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے جائزے کے لیے درکار دونوں بلز منظور کرانے میں کامیاب ہوئی تھی۔

سینیٹ میں مذکورہ بل وزیر خزانہ شوکت ترین نے پیش کیا جس کے حق میں 43 جبکہ مخالفت میں 42 ووٹ آئے جس پر چیئرمین سینیٹ نے بل کو منظور قرار دیا۔

اس سے قبل حکومت کو اسٹیٹ بینک کا بل بدھ کو سینیٹ سے منظور کروانا تھا تاکہ آئی ایم ایف بورڈ 28 جنوری کو ہونے والے اپنے اجلاس میں چھٹے جائزے کی تکمیل پر غور کر سکے لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔

جس پر آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کی درخواست پر چھٹا جائزہ مکمل کرنے کا عمل مؤخر کردیا تھا۔

پاکستان کو 6 ارب ڈالر کے قرض پروگرام پر نظرثانی کے لیے آئی ایم ایف بورڈ کا اجلاس 12 جنوری کو شیڈول تھا، جسے پاکستان کی درخواست پر پیشگی اقدامات کے اطلاق کا وقت دینے کے لیے ری شیڈول کرکے 28 جنوری کیا گیا تھا۔

پاکستان کی معاشی تبدیلی کیلئے اقتصادی راہداری کی ترقی کا ماڈل اپنانے پر زور

ایشیائی ترقیاتی بینک نے ایک تحقیق میں کہا ہے کہ اگر پاکستان اقتصادی راہداری کی ترقی کے ماڈل پر عمل کرتا ہے تو وہ وسط، جنوبی اور مغربی ایشیائی ممالک کے لیے اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ تحقیقی رپورٹ میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ پاکستان اقتصادی ترقی کے ماڈل کے ذریعے اقتصادی چیلنجز سے کیسے نمٹ سکتا ہے۔

پیش لفظ میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے وسط اور مغربی ایشیا کے محکمے کے ڈائریکٹر جنرل یوجین زوکوف نے نوٹ کیا کہ پاکستان ابھی تک پائیدار ترقی کا راستہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے تاکہ اپنی تاریخی پسماندگی اور جمود سے آگے بڑھ سکے۔

انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں اصلاحات کے ذریعے پاکستان کو اپنی معیشت کو برآمدات کے ذریعے ترقی کی رفتار تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، ایک متحرک نجی شعبے کے ساتھ مسابقت کی حامل معیشت اور پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کے علاوہ اس تبدیلی کو سپورٹ کرنے کے لیے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا بہت ضروری ہے۔

ڈائریکٹر جنرل نے مزید کہا کہ پاکستان نے اپنی بنیادی ترقی اور نمو کے فریم ورک کے حصے کے طور پر اقتصادی راہداری کی ترقی کے ماڈل پر مبنی حکمت عملی کو اپنایا اور اسے نافذ کیا ہے۔

یوجین زوکوف نے کہا کہ اقتصادی راہداری کی ترقی کا ماڈل حکومت کو 2025 تک بالائی متوسط آمدنی والے درجے تک پہنچنے کے اپنے سماجی و اقتصادی مقاصد کو حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ معیشت کو برآمدات کے ذریعے ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے نجی شعبے کی ترقی اور ایک منصفانہ اور مؤثر ٹیکس نظام کی بھی ضرورت ہے۔

اقتصادی راہداری کی ترقی کے ماڈل کی تعریف کرتے ہوئے تحقیق میں کہا گیا کہ اس کا مقصد مختلف اقتصادی ایجنٹوں کو متعین جغرافیائی علاقوں کے ساتھ جوڑ کر اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

تحقیق میں کہا گیا کہ گھریلو روابط کو بڑھا کر اور پسماندہ علاقوں کو شہری ترقی کے مراکز سے جوڑ کر اقتصادی راہداری کی ترقی کے ماڈل کو وسط، جنوبی اور مغربی ایشیائی ممالک کے لیے اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز بننے میں مدد دے سکتا ہے۔

اس سلسلے میں مزید کہا گیا کہ ملک معاشی مراکز کی سہولت کے ذریعے مضبوط انفرااسٹرکچر اور کاروبار کے قابل بنانے والے پالیسی فریم ورک کی بنیاد پر ایک مؤثر ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کے ذریعے اپنی اقتصادی ترقی کو دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔

تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں فی الحال اقتصادی راہداری کی ترقی کے ماڈل کو مؤثر طریقے سے منظم کرنے کے لیے انتظامی مشینری کی کمی ہے۔

مطالعے میں سی پیک کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر اسے کامیابی سے لاگو کیا گیا تو یہ بہت سے اقتصادی مقاصد کو حاصل کر سکتا ہے۔

تاہم اس حوالے سے خبردار کیا گیا کہ سی پیک اکیلے معیشت کو بہتر نہیں بنا سکتا اور اس کی حقیقی صلاحیت کے حصول کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے ذریعے مدد کی ضرورت ہوگی۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے