لاہور (وقائع نگار خصوصی)امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ ملکی پائیدار امن، ترقی، خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ بلدیاتی اداروں کو مکمل طور پر فعال کیا جائے۔خیبر پختونخوا کے بعد اب پنجاب میں بھی بلدیاتی الیکشن جلد کروائے جائیں۔ محض زبانی کلامی اقدامات سے کچھ نہیں ہوگا۔ موجودہ حکمرانوں نے بھی ماضی کی حکومتوں کی طرح بلدیاتی نظام کی راہ میں رکاوٹیں حائل کی ہیں۔ جماعت اسلامی کے سوا تمام جماعتیں شخصی آمریت اور موروثیت کا شکار ہیں۔فرسودہ نظام کے رکھوالے کسی طور پر بھی نہیں چاہتے کہ بلدیاتی نظام کے ذریعے نئے لو گ آگے آئیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت با اختیار بلدیاتی ادارے قائم کر نے کی پابند ہے اور اس پر عمل درآمد کروانا بھی حکمرانوں کی اولین ذمے داری بنتی ہے مگر صد افسوس، جس طرح سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے بلدیاتی اداروں کے کچھ اختیارات واپس لے کر صوبائی حکومت کو تفویض کردیے، وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ الحمد للہ وہاں بھی جماعت اسلامی نے 29دن کا دھرنا دے کر پیپلز پارٹی کو کالا قانون واپس لینے پر مجبور کردیا۔ جماعت اسلامی نے ہمیشہ ملک و قوم کی آواز کو بلند کیا ہے اور آئندہ بھی کرتی ر ہے گی۔انہوں نے کہا کہ میڈیا کی رپورٹ کے مطابق لاہور شہر میں بلدیاتی انتخابات سے قبل ارکان اسمبلی کوکروڑوں روپے کے فنڈز جاری کردیے گئے ہیں۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی، ن لیگ اور تحریک انصاف تینوں میں کوئی فرق نہیں۔ یہ سب لوگ ایک ہی گھڑے کی مچھلیاں ہیں۔ سینیٹ میں اسٹیٹ بینک کے حوالے سے ہونے والی قانون سازی سے ان کے اصل چہرے نمایاں ہو کر سامنے آگئے ہیں۔ان لوگوں سے خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ ملک میں محب وطن دیانتدار قیادت کا فقدا ن ہے، عوام نے جس تبدیلی کی امید لگا کر تحریک انصاف کو ووٹ دیے تھے، وہ بھی قصہ پارینہ ہوچکی ہے۔
