میر پورخاص (نمائندہ جسارت )آٹے کی قیمت میں ریکارڈ اضافے نے مزدور پیشہ غریب آدمی کو فاقہ کشی پر مجبور کر دیا ہے محکمہ خوراک کے افسران کی نا اہلی اور ملی بھگت سے ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں نے غریب آدمی کے منہ سے نوالہ چھین لیا ہے، سندھ حکومت اور افسران کی بدترین نااہلی کی وجہ سے گزشتہ سیزن میں ذخیرہ کی گئی سرکاری گندم سرکار کے گوداموں میں سڑ رہی ہے،مخصوص مل مالکان کو نوازنے کے بجائے تمام فلور ملز اور چکی مالکان کو سرکاری گندم کوٹہ کے مطابق مہیا کرکے آٹا سرکاری ریٹ 55 روپے کلو پر فروخت کو یقینی بنایا جائے زائد نرخوں پر آٹا فروخت کرنے والے چکی مالکان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔ان خیالات کا اظہار قائمقام امیر جماعت اسلامی میرپورخاص محمد عاصم شیخ نے آٹے کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے خلاف سخت ردعمل میں کیا۔محمد عاصم شیخ نے مزید کہا کہ بنیادی اشیا کی طلب و رسد کو برقرار رکھنا ریاست کی بنیادی ذمے داری ہوتی ہے مگر افسوس کہ ریاست اپنی ان ذمے داریوں کو پورا کرنے میں قطعاً ناکام رہی ہے ایک جانب بدترین مہنگا ئی نے عوام کی چیخیں نکال دی ہیں تو دوسری طرف حکومت اور افسران کی بدترین نااہلی نے غریب آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔
