
بیجنگ (اے پی پی،صباح نیوز)وزیراعظم عمران خان نے بھارت کے جارحانہ رویے اور ہندوتوا نظریہ کے غلبہ کو علاقائی امن کیلیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی برادری کو بھارت کے غیر قانونی زیرتسلط جموں و کشمیر میں مظالم پر توجہ دینی چاہیے، افغانستان میں امن و سلامتی کو یقینی بنانے کیلیے تعاون پاکستان اور چین کے باہمی مفاد میں ہے، درپیش چیلنجوں کے پیش نظر دنیا اب ایک اور سرد جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ جمعہ کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق دورہ چین کے دوران وزیراعظم عمران خان نے چین کے معروف تھنک ٹینکس ، یونیورسٹیوں اور پاکستان اسٹڈیز سینٹرز کے سربراہان اور نمائندوں کے ساتھ خصوصی اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے پاک ،چین تعلقات کی اہمیت اور علاقائی استحکام و خوشحالی کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کثیر الجہتی فورمز پر پاک،چین مشترکہ موقف کو اجاگر کرتے ہوئے ون چائنہ پالیسی اور بنیادی مفادات کے حامل دیگر امور پر پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے تنازع کشمیر پر چین کی غیر متزلزل حمایت پر بھی شکریہ ادا کیا۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے علاقائی استحکام اور خوشحالی کو یقینی بنانے میں پاک،چین تعلقات کی اہمیت پر اظہار خیال کیا۔ وزیراعظم نے چین کے ساتھ پاکستان کی سدا بہار تزویراتی شراکت داری کا اعادہ کرتے ہوئے صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے ایک اہم منصوبہ کے طور پر سی پیک کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ جہاں سی پیک کا پہلا مرحلہ بنیادی ڈھانچہ کی ترقی اور رابطہ پر مرکوز تھا وہیں اگلے مرحلہ میں صنعت کاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تعاون اور زرعی شعبہ پر توجہ دی جائے گی۔ علاقائی تناظر کو زیر بحث لاتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں امن و سلامتی کو یقینی بنانے میں تعاون پاکستان اور چین کے باہمی مفاد میں ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ افغانوں کو اس مشکل وقت میں تنہا نہ چھوڑا جائے۔ انہوں نے امن، ترقی اور روابط کے مشترکہ مقاصد کو آگے بڑھانے کیلیے پاکستان اور چین کی افغانستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے بھارت کے جارحانہ رویے اور ہندوتوا نظریہ کے غلبہ کو علاقائی امن کیلیے خطرہ اور خطے کے دیرپا عدم استحکام کا سبب قرار دیتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے مسلسل مظالم کی طرف توجہ دلائی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی مظالم پر توجہ دے۔ دریں اثناء وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان آزمودہ دوست ہیں، پاکستان اور چین کے تعاون پر مبنی تزویراتی شراکت داری ہر آزمائش پر پوری اتری ہے،چین کے قومی ترقی اور اصلاحات کمیشن کا تعاون قابل تحسین ہے،سی پیک سے دونوں ملکوں کے عوام مستفید ہو رہے ہیں، سی پیک کے جلد مکمل ہونے والے منصوبوں سے پاکستانی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ دریں اثناء سرمایہ کاری بورڈ (بی او آئی)پاکستان اور نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن (این ڈی آر سی) چین نے جمعہ کو سی پیک کے تحت صنعتی تعاون سے متعلق فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے جمعہ کو بیجنگ میں چیئرمین این ڈی آر سی ہی لیفنگ سے ون ٹو ون ملاقات کی جس میں سی پیک منصوبوں کی پیشرفت پر غور کیا گیا جس کے بعد صنعتی فریم ورک معاہدے پر دستخط کی تقریب ہوئی۔یہ معاہدہ جو سی پیک فیزII اور اس کے مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، سرمایہ کاری بورڈ،این ڈی آر سی کے درمیان دستخط کیا گیا ہے۔ وزیر مملکت اور چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ، محمد اظفر احسن اور این ڈی آر سی کے چیئرمین He Lifeng نے معاہدے پر دستخط کیے۔چیئر مین سرمایہ کاری بورڈ نے کہا یہ سی پیک کے لیے ایک کوانٹم لیپ ہو گا اور پاکستان کو صنعت کاری کے ایک نئے دور میں لے جائے گا۔ فریقین نے گوادر پر16 ویں جوائنٹ ورکنگ گروپ اجلاس کے منٹس پر دستخط کیے۔ پاکستان کی جانب سے منصوبہ بندی ، ترقی وخصوصی اقدامات کے وفاقی وزیر اسدعمر اور چین کی جانب سے این ڈی آر سی کے وائس چیئرمین ننگ جینزی نے دستخط کیے۔قبل ازیںوزیراعظم عمران خان نے چینی کارپوریٹ رہنمائوں کو سرمایہ کاری کیلیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے حکومتی اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے سی پیک خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کیلیے کاروبار دوست پالیسیوں سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی ہے۔ جمعہ کو وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے بیجنگ میں چین کی سرکردہ سرکاری و نجی کمپنیوں کے رہنمائوں سے ملاقات کی۔ ملاقات کرنے والوں میں چائنا کمیونیکیشن کنسٹرکشن کمپنی، ہائوزانگ ٹیکنالوجی، زی جیانگ سی پورٹ گروپ، چیلنج فیشنز، ہونان سن واک گروپ، رائل گروپ، چائنا روڈ اینڈ برج کارپوریشن، زنگ بانگ گروپ اور چائنا مشینری انجینئرنگ کارپوریشن کے اعلیٰ حکام شامل تھے۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے چینی کمپنیوں کی پاکستان میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کو سراہا۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) خالد منصور نے کہا ہے کہ چینی سرکاری اور نجی کمپنیاں گوادر میں 3.5 بلین ڈالر کا ری پروسیسنگ پارک اور لاہور کے قریب 350 ملین ڈالر کا ٹیکسٹائل کلسٹر قائم کریں گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو دورہ چین کے دوران میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ تین چینی کمپنیوں کے کنسورشیم نے دھات اور کاغذ کی تعمیر پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ گوادر میں دو سے تین سال میں پروسیسنگ پارک قائم کیا جائے گا۔ مزید برآں چینی کھاد بنانے والی کمپنیاں مکئی اور سویابین کی برآمد پر مبنی نمو کے علاوہ دودھ اور دیگر ڈیری مصنوعات کی برآمدات کو بڑھانے کے لیے ڈیری سیکٹر میں دلچسپی رکھنے والی ایک اور کمپنی بھی سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک اور چینی ٹیکسٹائل فرم جو اعلی برآمدی معیار کے ملبوسات کے لیے مشہور ہے، نے بھی 350 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرکے لاہورقصور روڈ پر 100 ایکڑ اراضی پر ٹیکسٹائل کلسٹر بنانے کا منصوبہ بنایا جس سے تقریبا 20,000 ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی۔ قبل ازیںچین کے دارالحکومت بیجنگ میں سرمائی اولمپکس 2022 کا آغاز رنگارنگ افتتاحی تقریب کے ساتھ ہوا، افتتاحی تقریب میں وزیراعظم عمران خان نے وفد کے ساتھ شرکت کی۔سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں چین کے صدر شی جن پنگ کے علاوہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن، پاکستان کے وزیراعظم عمران خان، ازبکستان کے صدر سمیت 20 سے زائد ممالک کے سربراہان شریک ہوئے،وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری، وفاقی وزیر اسد عمر ودیگر نے وزیراعظم کے ساتھ تقریب میں شرکت کی۔افتتاحی تقریب کا آغاز چین کے صدر شی جن پنگ اور انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے چیئرمین تھامس بیچ کے برڈز نیسٹ اسٹیڈیم میں داخل ہوتے ہی ہوا ،جہاں گیمز میں شریک 91 ممالک کے جھنڈے لہرا رہے تھے۔افتتاحی تقریب میں 3 ہزار فن کاروں نے سرمائی اولمپکس میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا، جو بیجنگ اور قریبی صوبے ہیبے کے عام فن کار تھے اور اس کا عنوان اسٹوری آف ا سنوفلیک تھا۔سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں آتش بازی کا شاندار مظاہرہ کیا گیا، مختلف ممالک کے ایتھلیٹس مارچ پاسٹ میں حصہ لیا۔ پاکستان کے ایک ایتھلیٹ اور 4 آفیشلز نے سبز ہلالی پرچم لہرایا۔چین پہلی بار ونٹر اولمپکس کی میزبانی کر رہا ہے۔ یہ ونٹر اولمپکس کا 24واں یڈیشن ہے، ونٹر اولمپکس میں 15 کھیلوں میں 109 مقابلے ہوں گے۔ ونٹر اولمپکس کے مقابلے 20 فروری تک جاری رہیں گے۔
