جنت نظیر وادی کہلانے والے کشمیر کا بے مثال حسن جبر، گھٹن اور ظلم کی مسلسل سیاہ رات نے کچھ اس طرح گہنایا ہے کہ کشمیرکی دھرتی لہو رنگ اور کشمیر کے چنار سلگ رہے ہیں۔
یہ صدیوں پر پھیلا قصہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں۔ کشمیر کو اپنی جاگیر سمجھ کر غاصبوں کے حوالے کرنے کا جو سلسلہ ڈوگرہ راج میں شروع ہوا تھا وہ آج بھی اپنی مکروہ ترین شکل میں موجود ہے۔
کبھی چنار کے درخت، زعفران کے کھیت اور جھیل ڈل میں تیرتے شکارے کشمیر کے حسن میں چار چاند لگاتے تھے اور دنیا بھر کو کشمیر کی کشش کھینچ لاتی تھی۔ لیکن بھارت کے غاصبانہ قبضے نے مقبوضہ وادی کا حسن صرف ماند ہی نہیں کیا بلکہ اسے بری طرح پامال بھی کردیا ہے۔
بھارت کے طاقت کے زور پر کشمیریوں کو غلام بنانے کے جنون نے کشمیریوں سے معمول کی زندگی گزارنے کا حق بھی چھین لیا ہے۔ بھارتی محاصروں اور ناکہ بندیوں نے کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل میں تبدیل کردیا ہے جس میں 80 لاکھ پر مشتمل پوری کی پوری آبادی محصور ہے۔
عالمی قوانین اور قاعدوں کو اپنے پیروں تلے روندنے والے بھارت کو اگر عالمی غنڈے سے تشبیہ دی جائے تو کچھ غلط نہ ہوگا۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ بھارت کو ظلم سے روکنے والا کوئی نہیں۔ عالمی اور انسانی حقوق کے چمپئین بننے والوں کا ضمیر لاکھوں کشمیریوں کی شہادتیں بھی جھنجھوڑنے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔
مقبوضہ کشمیر کے باسی انصاف کےلیے دنیا کی طرف دیکھ رہے ہیں لیکن تجارت کی منڈی میں انسانوں کو تولنے والی سرمایہ دار عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں نہ انسانی حقوق کی پامالی دکھائی دیتی ہے اور نہ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے بھارتی فوج کے درندے۔
