بھارت کے عزیم غزل گلوکار جگجیت سنگھ کے جنم دن پر اُن کے مداح آج پھر انہیں یاد کررہے ہیں۔ جگجیت ہندوستان کے سب سے بڑے کلاسیکل موسیقار تھے۔ جگجیت نے پگڑی پہن کر اور داڑھی رکھ کر اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ میوزک اندسٹری میں قدم جمانے کی کوشش کی لیکن پندرہ سال تک انتہائی باصلاحیت جگجیت کا مذاق اڑایا گیا اور ان کی مذہبی شناخت کی وجہ سے انہیں نظر انداز کیا گیا۔

1951 کے بعد سے جگجیت نے ممبئی میں فن کی دنیا کے ہر شعبے میں جدوجہد کی۔ اداکاری ہو یا گلوکاری یا موسیقی لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔
-اسے ‘ہز ماسٹرز وائس’ ریکارڈنگ کمپنی نے بتایا کہ ان کا میوزک ایک شرط پر ریکارڈ اور ریلیز کیا جائے گا کہ وہ اپنی مذہبی شناخت (پگڑی اور داڑھی) سے چھٹکارا حاصل کر لیں۔
انھیں بتایا گیا کہ اگر وہ کامیابی اور شہرت چاہتا ہے تو یہ ضروری ہے۔ اس کی موسیقی اور مہارت جو بے مثال تھی اس کا انحصار اس بات پر تھا کہ وہ اونچی ذات کے ہندوؤں کے اصولوں کی پاسداری کرتے۔
یہ 60 کی دہائی کی بات ہے جب بظاہر بھارت مکمل طور پر سیکولر تھا، اب تصور کریں، اب اقلیتوں کے لیے اپنے لیے جگہ بنانا کتنا مشکل ھے۔
ہندوستانی سنیما کے سب سے بڑے اسٹار کو بھی امتیازی سلوک سے نہیں بخشا گیا۔ ہم دلیپ کمار پشاور میں محمد یوسف خان کے نام سے پیدا ہوئے۔ وہ فن اور ثقافت کے مرکز، بمبئی میں بطور اداکار اپنی قسمت آزمانا چاہتے تھےلیکن پروڈیوسر دیویکا رانی، جو کہ بامبے ٹاکیز کی سربراہ تھیں، نے بڑی چالاکی سے انہیں اس بات پر راضی کیا کہ اگر وہ شہرت چاہتے ہیں تو اپنا نام بدل کر دلیپ کمار رکھ لیں چونکہ دلیپ کمارکا نام ایک “سیکولر اپیل” ہوگا،
جس میں زیادہ تر ہندوؤں پر مشتمل ہے۔
شاہ رُخ خان کا حال تو اُس کے بیٹے کے ساتھ برتاؤ اور کل لتا کی میت پر ھونے والے سلُوک میں ایک بار پھر کھل کر نظر آچُکا ہے۔
No related posts.
