English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

میکرون نے دورہ روس سے کیا حاصل کیا ہے؟ شفقنا بین الاقوامی

القمر
جب سے روس نے یوکرینی سرحد کے قریب اپنی عسکری سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے تب سے مغربی نیٹو ریاستیں ایک متحدہ مؤقف اور پالیسی اپنانے میں ناکام رہی ہیں۔ فرانسیسی صدر ایمانویل میکران کے حالیہ دورہ ماسکو سے اس بے اتقاقی میں بہت معمولی کمی آئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میکرون کے دورے کا مقصد نہ صرف یوکرین اور روس جنگ کو روکنے کی کوشش کرنا ہے بلکہ اس کے ساتھ اس کو فرانس کی اس وسیع حکمت عملی سے بھی جوڑنا چاہیے جس کا مقصد امریکہ کے پنجوں سے نکل کر یورپین خودمختاری کو بحال کرنا ہے۔ اگر نیٹو کی ذہنیت کو دیکھا جائے تو اس کے خیال میں یوکرین کی خودمختاری کو محفوظ رکھنے کے لیے میکرون یوکرین کا دورہ کرتے اور یوکرین کے صدرولودومیر زیلینسکی سے بات چیت کر کے حکمت عملی طے کرتے مگر میکرون نے روس کا دورہ کر کے پیوٹن سے ملاقات کی اور روسی مطالبات کو کیو تک پہنچایا۔
درحقیقت ایمانوئیل میکرون نے ماسکو اور کیف کے درمیان ہنگامی طور پر مصالحت کار کا کردار ادا کرتے ہوئے روس کے ساتھ یوکرین کے معاملے پر تناؤ کم ہونے کی امید ظاہر کی ہے۔ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ کریملن میں پانچ گھنٹے طویل اجلاس کے ایک دن بعد یوکرین کے صدر ولڈیمیر زیلینسکی سے کیف میں مذاکرات کیے۔فرانس کے رہنما نے کہا کہ وہ مشرقی یوکرین میں بڑھتے ہوئے تنازع پر ماسکو اور کیف کے درمیان مذاکرات کے امکانات کو دیکھ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں مغرب اور روس کے مابین کشیدگی کم کرنے میں ٹھوس اور عملی حل کی طرف پیشرفت ہوسکتی ہے۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ میکرون نے روس کی غلطیوں کو پس پشت ڈال کر نیٹو ایک طرف کیا ہے۔ فرانسیسی صدر ایک طویل عرصے سے اس بات کے قائل رہے ہیں کہ روس اور یورپین افواج کے ساتھ قریبی تعلقات نیٹو سے یورپ کو خودمختاری دلانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ درحقیقت میکرون اس وقت اپنے یورپیں ہم عصروں سے یہ چاہتے ہیں کہ وہ یوکرین، شام اور جارجیا کے خلاف روسی حارحیت کو نظر انداز کریں۔ میکرون کا یہ بیان کہ نیٹو ذہنی طور پر مردہ ہے کو ماسکو نے بہت سراہا تھا۔ تاہم سوال یہ ہے کہ میکرون ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ درحقیقت میکرون نیو نپولینک پالیسیز کا تصورلے کر چل رہے ہیں جس کے تحت روس کو چند رعائیتیں دے کر امریکی اثرو رسوخ کو کم کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ فرانسیسی صدر آوکس کا بدلہ بھی لے رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی اور آسٹریلیا کے مابین ایک ڈیل سبوتاژ ہوئی۔
اس طرح کے اقدامات سے فرانس یورپ کا کنگ میکر بن سکتا ہے تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ میکرون کی پالیسیاں بارآور ثابت ہوں۔ دوسری جانب اس دورے کے دوران روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے بھی خود کو ” مضبوط آدمی” بنا کر پیش کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے بیٹھنے کی طویل میز، مشترکہ پریس کانفرنس میں طاقت کا توازن اور پیوٹن کی جانب سے میکرون کی طرف سفارتی اشاروں کی کمی تمام طے شدہ چیزیں نظر آرہی تھیں۔ تاہم  پوتن نے ماسکو آنےکیلئے فرانسیسی لیڈر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میکروں نے بہت ساری تجاویز پیش کی ہیں جو قابل غور ہیں۔پوتن کا کہنا تھا’’ان کے بہت سارے خیالات اور تجاویزآئندہ کے اقدامات کیلئے بنیاد فراہم کرسکتی ہیں اور ہم ایسے سمجھوتے کرنے کی راہ تلاش کریں گے جو سب کے لیے سود مند ہو۔ تاہم روسی ترجمان دمیتری پیسکو کا کہنا تھا کہ فرانس یوروپین یونین اور نیٹو کا رکن ہے نہ کہ ان کا سربراہ اور اس بلاک میں ایک اور ملک سربراہ ہے پس اس لیے کسی قسم کے معاہدے کو بارے میں بات چیت نہیں کی جاسکتی۔ المختصر پیوٹن نے میکرون کو بیرل پر چڑھا دیا ہے ۔ پیوٹن نے نہ صرف میکرون کی تذلیل کی ہے اور نیٹو میں فرانس کی حیثیت کو کم تر کیا ہے۔
یاد رہے کہ ترکی کے صدر اردوگان نے نے بھی شامی تناؤ کے وقت روس کا دورہ کیا تھا تاہم دونوں دوروں میں بہت فرق ہے اور شاید اس کی وجہ ترکی اور روس کے مابین سابقہ تعاون ہے۔ بہرحال ہوسکتا ہے کہ میکرون اس دورے سے کوئی سبق حاصل کریں۔
جمعتہ المبارک، 11 فروری 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post میکرون نے دورہ روس سے کیا حاصل کیا ہے؟ شفقنا بین الاقوامی appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے