مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے 5 وزیر ٹکٹ کی یقین دہانی پر عمران خان کو چھوڑنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنما مسلم لیگ ن احسن اقبال نے کہا کہ عمران خان کابینہ کے پانچ وزیر ن لیگ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ ارکان بتاتے ہیں کہ عمران خا ن جیسا ڈکٹیٹر اور یوٹرن لینے والا وزیراعظم پہلے نہیں دیکھا۔ ان کا کہنا ہے کہ امید ہے تمام اتحادی جماعتیں حکومت کا ساتھ چھوڑ کر عوام کا ساتھ دیں گی۔ اگر اتحادی جماعتوں نے حکومت کا ساتھ دیا تو ان کا حساب لیں گے۔ 23 مارچ کو پورے ملک سے مزدور، کسان، کارکن اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ احسن اقبال صاحب کے اس بیان کے پیچھے درحقیقت عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کا عندیہ ہے۔
پاکستان میں جتنی آسانی سے حکومتیں بنتی ہیں اتنی ہی آسانی سے رخصت بھی ہو جاتی ہیں۔ اب یہی دیکھ لیں سینٹ سے سٹیٹ بنک بل کی منظوری کے بعد مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مابین لفظی گولہ باری اور حکومتی جشن جاری تھا۔ اچانک مگر میاں شہباز شریف کی دعوت پر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو ان کی رہائشگاہ ماڈل ٹاؤن پہنچ گئے اور اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کی قیادت کی اس ملاقات میں نہ صرف حکومت کے خلاف تحریک میں تیزی بلکہ وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کا فیصلہ بھی ہو گیا۔ حالانکہ گزشتہ سال اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد پی ڈی ایم اسی وجہ سے اپنے انجام کو پہنچا تھا کیونکہ نون لیگ اور جے یو آئی سمیت اس اتحاد میں شریک تمام جماعتوں کا خیال تھا کہ لانگ مارچ کر کے اس کے اختتام پر پارلیمنٹ سے استعفے دینے سے موجودہ حکومت کو گھر بھیجا جا سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی مگر اس بات پر مصر رہی کہ استعفوں کے بجائے ان ہاؤس تبدیلی کی کوشش کرنی چاہیے۔ پیپلز پارٹی استعفوں سے اس وجہ سے ہچکچا رہی تھی کیونکہ اسے یقین تھا کہ نئے انتخابات کی صورت بھی اسے موجودہ حصے سے زیادہ نہیں ملنا لہذا اس نے رسک لینے سے انکار کر دیا۔ اس وقت ان ہاؤس تبدیلی کی تجویز پر دیگر اپوزیشن جماعتیں اس لیے متفق نہیں ہوئیں کیونکہ ان کا موقف تھا کہ جب تک حکومت کے سر پر غیبی ہاتھ موجود ہے اس قسم کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس کے بعد پارلیمنٹ میں کئی مواقع پر حکومت کی جانب سے پاس کرائے گئے قوانین سے یہ ثابت بھی ہو گیا کہ مسلم لیگ نون اور مولانا فضل الرحمن کا خیال درست تھا۔ اب مگر اچانک حکومتی حلیف ق لیگ اور متحدہ قومی موومنٹ کی اپوزیشن سے ملاقاتوں میں حکومتی کارکردگی سے متعلق تحفظات کے اظہار اور جہانگیر ترین کی شہباز شریف سے ممکنہ ملاقات کی خبروں کے بعد تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ شاید حکومت کے سر سے ہاتھ اٹھ گیا ہے اپوزیشن کو کہیں سے گرین سگنل ملا ہے۔
دو ہفتے قبل مولانا فضل الرحمان کے ایک قریبی ساتھی نے لاہور میں شہباز شریف سے ملاقات کی اور تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے امکانات کا جائزہ لیا۔ مولانا صاحب کے اُس ساتھی کا خیال تھا کہ تحریک عدم اعتماد صرف ایک ہی صورت میں کامیاب ہو سکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ فوجی قیادت نیوٹرل رہے۔ شہباز شریف نے بتایا کہ فوجی قیادت نیوٹرل ہے۔ یہ سن کہ مولانا صاحب کے ساتھی نے کہا کہ پھر تو اپوزیشن کو وزیراعظم کے لیے اپنے امیدوار کا جلدی فیصلہ کر لینا چاہیے۔ شہباز شریف نے جواب میں کہا کہ نواز شریف صاحب تحریک عدم اعتماد کو کامیاب کرانے کے لیے تو تیار ہیں لیکن نئی حکومت کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں۔ مولانا صاحب کے ساتھی نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ وزیراعظم کے لیے یا تو آپ امیدوار بنیں یا آصف علی زرداری امیدوار بنیں۔ شہباز شریف نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں آصف علی زرداری زیادہ مناسب رہیں گے لیکن فیصلہ نواز شریف کریں گے۔
آصف علی زرداری نے صورتحال کو سمجھنے کے لیے لاہور میں چودھری برادران سے ملاقات کی۔ چودھری برادران بھی محتاط تھے۔ ادھر ایم کیو ایم اور بلوچستان عوامی پارٹی نے بھی وفاقی حکومت کا ساتھ چھوڑنے کے اشارے دیے لیکن چودھری برادران کے قریبی ساتھی سینیٹر کامل علی آغا نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ اسٹیبلشمنٹ ابھی نیوٹرل نظر نہیں آ رہی۔ دوسرے الفاظ میں انہوں نے اعلان کر دیا کہ اسٹیبلشمنٹ بدستور عمران خان کے پیچھے کھڑی نظر آ رہی ہے اور اگر کسی کو تحریک عدم اعتماد میں ہماری حمایت درکار ہے تو ہمیں سگنل دلوائے۔ کامل علی آغا کے اس بیان نے ان صاحب کو پریشان کر دیا، جو لندن سے آصف علی زرداری کے لیے پیغام لائے تھے۔
کامل علی آغا کے تھرتھلی آمیز بیان کے اگلے ہی دن الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عمران خان کے قریبی ساتھی سینیٹر فیصل واوڈا کو نااہل قرار دے دیا۔ الیکشن کمیشن کا فیصلہ بہت سخت تھا کیونکہ واوڈا صاحب سے کہا گیا کہ وہ بطور رکن پارلیمنٹ اپنی تمام تنخواہیں دو ماہ کے اندر اندر واپس کریں۔ یہ کوئی راز نہیں کہ فیصل واوڈا 2018ء کے الیکشن میں رکن قومی اسمبلی کیسے منتخب ہوئے تھے؟ ان کے خلاف الیکشن کمیشن میں کیس طویل عرصے سے زیر التوا تھا لیکن عام تاثر یہ تھا کہ طاقتور حلقوں کے ساتھ ان کے تعلقات کی وجہ سے الیکشن کمیشن کوئی فیصلہ سنانے سے گریز کرتا رہا۔ تاہم اس بات کا فیصلہ اب عدالت کرے گی کہ کیا ہوتا ہے اگر فیصل واڈا اور عمر امین گنڈاپور کی نا اہلی کا فیصلہ عدالت سے معطل ہوگیا تو پھر عدم اعتماد رائیگاں ہی جائے گی مگر اس کے ساتھ یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ عمران خان نے اب سیاسی جلسوں کا آغاز بھی کر دیا ہے دیکھنا ہے کہ وہ سیاسی شہید بنتے ہیں یا نہیں۔
جمعتہ المبارک، 11 فروری 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post تحریک عدم اعتماد: عمران خسارے میں یا فائدے میں؟ appeared first on شفقنا اردو نیوز.
