English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بائیڈن نے افغانستان کے منجمد اثاثے دو حصوں میں تقسیم کر دیے

صدر جو بائیڈن نے جمعے کے روز ایک صدارتی حکمنامہ جاری کر دیا ہے جس کے تحت امریکی بنکوں میں منجمد افغانستان کے سات بلین ڈالر کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ افغانستان کے اندر انسانی بحران کے لیے رقم فراہم کی جا سکے اور نائن الیون کے دہشگردی کے واقعے کے متاثرین کی مالی اعانت کے لیے بھی فنڈ قائم کیا جا سکے۔ امریکہ میں تجزیہ کار اس پیش رفت کو مثبت قرار دے رہے ہیں جبکہ طالبان نے اس اقدام کو افغانستان کے پیسے کی چوری قرار دیا ہے۔

صدر بائیڈن کی طرف سے جمعے کو جاری کردہ حکم نامے میں امریکہ کے مالیاتی اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ افغانستان کے عوام کی امداد اور بنیادی ضروریات کے لیے 3.5 ارب ڈالر تک رسائی میں سہولت فراہم کریں۔ باقی کے 3.5 بلین ڈالر امریکہ کے اندر موجود رہیں گے اور اس رقم کو نائن الیون کے دہشتگرد حملے کے امریکی متاثرین کی طرف سے دائر مقدے میں ادائیگیوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

'امریکہ افغانستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے'

‘امریکہ افغانستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے’

افغانستان کے لیے بین الاقوامی فنڈنگ اور شورش زدہ ملک کے باہر کی دنیا میں زیادہ تر امریکہ کے اندر موجود اثاثے اس وقت منجمد کر دیے گئے تھے جب طالبان نے اگست میں کابل کا کنٹرول سنبھالا اور امریکی افواج کا انخلا عمل میں آیا تھا۔

وائٹ ہاوس کا کہنا ہے کہ یہ صدارتی حکمنامہ افغانستان کے عوام تک فنڈ کی ترسیل کے لیے ایک راستہ فراہم کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے اور اس سے یہ رقوم ، بیان کے مطابق، طالبان کے بد نیت عناصر کے ہاتھوں سے دور رکھی جائیں گی۔

افغانستان میں کووڈ نائنٹین کے پھیلاو کے سبب خراب ہوتی ہوئی صورتحال، صحت کی سہولیات کے فقدان اور خشک سالی اور قحط کے سبب عوام کی پریشانی اور مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

صدارتی حکم نامے کے اجرا سے پہلے انتظامیہ کے دو عہدیداروں نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نائین الیون کے دہشتگرد حملے کے متاثرین نے عدالت میں طالبان کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے اور انتظامیہ نے افغانستان کے اثاثوں میں شامل ساڑھے تین ارب ڈالر کا فنڈ اس لیے قائم کیا ہے کہ عدالت کی طرف سے اگر معاوضے کی ادائیگی کا حکم آتا ہے تو اس کے لیے ایک فنڈ پہلے قائم ہو۔


افغان خواتین خوراک کے عالمی ادارے سے امدادی رقم وصول کرنے کے لیے اپنے نام درج کرا رہی ہیں۔ 17 نومبر، 2021ء (فائل فوٹو)

افغان خواتین خوراک کے عالمی ادارے سے امدادی رقم وصول کرنے کے لیے اپنے نام درج کرا رہی ہیں۔ 17 نومبر، 2021ء (فائل فوٹو)

طالبان نے صدر بائیڈن کے اس حکمنامے کو افغان عوام کے پیسے کی چوری قرار دیا ہے، جبکہ امریکہ میں تھنک ٹینکس کے ساتھ وابستہ ماہرین فیصلے کو سراہ رہے ہیں کہ اس سے مشکلات سے دوچار افغانستان کے عوام کو فوری ریلیف دیا جا سکے گا۔

طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان محمد نعیمی نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’

فغانستان کے عوام کا وہ پیسہ چوری کرنا جو امریکہ کے اندر منجمد تھا ایک انتہائی ہیچ قدم ہوگا، جو کسی بھی ملک کی اخلاقی اور انسانی معیار سے گری ہوئی حرکت کے مترادف ہے۔ فتح اور شکست انسانی تاریخ کا حصہ ہے۔ لیکن کسی بھی ملک کے لیے بڑی اورہتک آمیزبات وہ ہوتی ہے جب وہ عسکری لحاظ سے ہی نہیں بلکہ اخلاقی لحاظ سے بھی مات کھا جائے ‘‘

امریکی ماہرین کا ردعمل:

مائیکل کوگلمین، جو واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک ولسن سنٹر کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور جنوبی ایشیا پروگرام میں سینئر ایسوسی ایٹ ہیں، صدر بائیڈن کی طرف سے افغانستان کے اثاثوں سے متعلق صدارتی حکمنامے پر وائس آف امریکہ کو اپنے تحریری ردعمل میں خبر کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ اس حکمنامے کے بعد افغانستان کے لیے تقریباً چار ارب ڈالر فوری طور پر دستیاب ہوں گے جہاں انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے اثاثوں کو تقسیم کرنا اور نائن الیون میں دہشتگردی کے شکار خاندانوں کے لیے فنڈ کے قیام کا کم ہی جواز ہے۔

افغانستان میں غربت، بیماری اور پرتشدد واقعات میں اضافہ ہو گا، امریکی تجزیہ کار

افغانستان میں غربت، بیماری اور پرتشدد واقعات میں اضافہ ہو گا، امریکی تجزیہ کار

کوگلمین کے بقول دہشتگردی کے شکار خاندان مدد کے مستحق ہیں لیکن یہ رقم اس پیسے سے نہیں آنی چاہیے جو افغان عوام ، افغانستان کے عام شہریوں کا ہے نہ کہ طالبان حکومت کا۔

کوگلمین نے کہا کہ طالبان کو اس اقدام سے اپنے فتح کے پروپیگنڈا کا موقع مل جائے گا جس میں وہ امریکہ کو بے حس گردانیں گے اور کہیں گے کہ امریکہ کو افغانستان کے وسائل واپس افغانستان بھجوانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے جس کی افغان عوام کو اشد ضرورت ہے۔

جنوبی ایشیا کے امور کے تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ امریکہ نے وہ ہتھیار بھی ضائع کر دیا ہے جو وہ طالبان پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کر سکتا تھا۔

’’ کیونکہ امریکہ نے ہمیشہ کہا ہے کہ یہ اثاثے افغانستان کے لیے دستیاب ہوں گے بشرطیکہ طالبان انسانی حقوق اور جامع حکومت پر توجہ دیں۔ لیکن اب جبکہ یہ اثاثے دیگر مقاصد کے لیے استعمال ہو گئے ہیں تو امریکہ نے یہ ہتھیار ضائع کر دیا ہے‘‘۔

واشنگٹن کے کیٹو انسٹیٹوٹ سے وابستہ ماہر ڈاکٹر سحر خان صدر بائیڈن کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہتی ہیں کہ انتظامیہ ایک درست قدم اٹھارہی ہے۔ ان کے بقول، یہ بات قابل ذکر ہے کہ پیسہ طالبان کو نہیں جارہا بلکہ ملک کے بینکنگ سسٹم میں جارہا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ اگر عالمی برادری اور خاص طور پر امریکہ افغانستان کو مکمل تباہی سے بچانا چاہتے ہیں تو انھیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ملک میں جو ادارے قائم ہیں وہ کام کرتےرہیں۔ انھوں نےکہا کہ یہ اثاثے افغانستان کے مرکزی بینک سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ خوراک، طبی سامان اور دیگر امدادی سامان کےلیے استعمال ہوں گے جن کی افغانوں کو اشد ضرورت ہے۔

غیر سرکاری تنظیم ریفیوجیز انٹرنیشنل نے اس پیش رفت پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ نائن الیون کے دہشتگرد حملے کے متاثرین کو طالبان سے معاوضہ ملنا چاہیے لیکن بائیڈن انتظامیہ نے جو بندوبست تجویز کیا ہے وہ دانشمندانہ نہیں ہے۔ اس سے افغان عوام کی مشکلات میں مزید اضافے کا خطرہ ہے۔

تنظیم کے مطابق اس تقسیم سے افغانستان کا مالی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتا ہے جس سے افغان عوام کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ایسا بندوبست کیا جانا چاہیے تھا جس سے افغانستان کا بنکنگ کا نظام طالبان کے کنٹرول میں آئے بغیر فعال ہو جاتا اور آزادانہ طور پر کام کر سکتا۔

(خبر میں شامل کچھ مواد ایسوسی ایٹڈ پریس سے لیا گیا)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے