English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

زراعت کی تباہی میں پانی کی قلت بھی شامل ہے،ڈاکٹر اسماعیل میمن

القمر

بدین(نمائندہ جسارت) بدین کی سیاسی سماجی علمی ادبی حلقوں نے پانی کی قلت اور آبی آلودگی کو زرعی اور معاشی تباہی کا باعث قرار دیتے ہوئے پانی کی آلودگی اور قلت کو ختم کرنے اور پانی ضائع ہونے سے بچانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ملک میں پانی کو محفوظ بنانے ضائع ہونے سے بچانے گھریلو اور جسمانی صفائی کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے عوامی آگاہی اور شعور بیدار کرنے کے لیے متحرک اور سرگرم غیر سرکاری ادارے واٹر ایڈ کے زیر اہتمام مقامی آرگنائزیشن ایل ایچ ڈی پی کے کانفرنس ہال میں منعقد مشاورتی اجلاس میں ماہی تعلیم پروفیسر ڈاکٹر اسماعیل میمن ،خادم ٹالپور فیض اوڈیجو ،بدین پریس کلب کے صدر تنویر احمد آرائیں ایڈووکیٹ، رام کوہلی، اقبال حیدر قنبرانی ، ساون خاصخیلی اوبھایو، پھنور علی بابا ،خواتین سماجی رہنمائوں ثمینہ حیدر ،قنبرانی زینت اوڈیجو صنم عباسی سمیت دیگر سیاسی سماجی وکیل اور خواتین رہنماؤں نے شرکت کی۔اس موقع پر واٹر ایڈ کی صوبائی کوآرڈینیٹر رحیمہ پھنور پروگرام منیجر فاروق حسن نے کہا کہ پانی انسانی آبی حیوانی اور جنگلی حیات کو زندہ رکھنے اور زرعی پیدوار کے لیے ایک لازمی جز ہے جس کے بغیر حیات اور پیدوار ممکن ہی نہیں ۔انہوں نے کہا کہ پانی زندہ رہنے زرعی اور دیگر معاشی ترقی کے ذرائع کو چلانے جسمانی اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمہ کے علاوہ روزمرہ زندگی کے ہر عمل میں لازمی جز کی حیثیت رکھتا ہے ملکی اور معاشی ترقی معاشرے کی خوشحالی بھی پانی کے بغیر ممکن نہیں اس لیے پانی کو ضائع اور آلودہ ہونے سے بچانے کے لیے واٹر ایڈ نے منتخب سیاسی سماجی نمائندوں دیہی اور شہری اسٹیک ہولڈرز سول سوسائیٹی خواتین تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور زیرتعلیم بچوں کی سطح تک ہم نے آگاہی اور شعور بیدار کرنے کا مشاورتی عمل شروع کر رکھا ہے تاکہ پانی کو پینے صفائی کے علاوہ دیگر روزمرہ کی ضروریات کے لیے محفوظ بنایا جا سکے۔رحیمہ پھنور نے شرکا کوبتایا کہ ادارے نے اسکولز دیہی اور غریب کچی آبادیوں میں واش رومز اور بچوں کو ہاتھوں اور جسمانی صفائی کی جانب مائل کرنے کی بھی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس موقع پر شرکا اور مقامی اسٹیک ہولڈرز نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بدین کی زرعی اور ماہی گیری معشیت کو پانی کی قلت اور آبی الودگی نے بدحالی اور تباہی کا شکار بنا رکھا ہے۔بدین ہمیشہ پانی کی قلت سمندری طوفانوں سیلابی بارشوں اور دیگر قدرتی آفتوں کے علاوہ انسانی پیدا کی گئی لیفٹ بینک آئوٹ فال ڈرین ایل بی او ڈی نقلی اور غیر معیاری زرعی ادویات کھادوں اور بیج جیسی آفتوں کی بھی زد میں ہونے کی وجہ سے معاشی بدحالی اور تباہی کا شکار ہے۔بدین کے ساحلی اور نہری ٹیل کے پانی کے حصہ پر بااثر حکومتی دیگر سیاسی شخصیات کا ڈاکہ اور پانی چوری میں محکمہ ایریگیشن ڈرینج سیڈا ایریا واٹر بورڈ کے علاوہ دیگر حکومتی مشینری شریک ہے اس لیے پانی کی چوری کو روکنا ممکن نہیں رہا موجودہ صورتحال میں ساحلی اور نہری ٹیل کے علاقوں میں انسانوں کے علاوہ مال مویشی چرند پرند کے پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں لوگ پینے کے پانی کی تلاش میں مال مویشیوں کے ہمراہ مارے مارے دربدر ہیں اور نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں. شرکا نے بتایا کہ سکھر اور کوٹری بیراج سے نکلنے والی نہروں میں چھوٹے بڑے شہروں کے نکاسی آب کا گندا پانی ہزاروں فیکٹریوں کارخانوں پولٹری فارموں مال مویشیوں کے باڑوں ذبح خانوں کا گندہ پانی زہریلہ مادہ اور فضلہ بھی ان نہروں میں ڈالے جانے کے باعث نہری پانی انتہائی بدبودار اور آلودہ ہو جاتا ہے جس کے پینے اور استعمال سے ہیپاٹائٹس بیٹ اور جلدی بیماریوں کے علاوہ دیگر خطرناک بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ شرکا نے بتایا کہ ضلع بھر میں 120 سے زائد فلٹر اور آرو پلانٹ خراب اور غیرافعال ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے