کوئٹہ(نمائندہ جسارت)بلوچستان یونین آف جرنلسٹس نے پولیس کی جانب سے ریڈ زون میں صحافیوں کے داخلے کو ممنوع قرار دینے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت اور آئی جی پولیس ریڈزون میں تعینات افسران واہلکاروں کے صحافیوں اور عام شہریوں کیساتھ برتے جانے والے غیر مناسب رویے کا نوٹس لے کر ذمے داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں بصورت دیگر پولیس حکام کی پریس کانفرنسز میں احتجاج ریکارڈ کرانے سمیت پریس کانفرنسز کے بائیکاٹ پر غور کیا جا ئے گا۔ بلوچستان یونین آف جرنسلٹس کی جانب سے جمعہ کو جاری بیان میں پولیس کی جانب سے فرائض کی ادائیگی کیلیے ریڈ زون جانے والے صحافیوں کو داخل ہونے سے روک کر ان کے ساتھ غیر مناسب رویہ اختیار کرنے کی پر زور مذمت کی ہے بیان کہا گیا ہے کہ اس سے پہلے بھی ہم نے اعلیٰ پولیس حکام کی توجہ پولیس کی صحافیوں کے ساتھ برتے جانے والے غیر مناسب رویے کی جانب مبذول کرائی تاہم اعلیٰ پولیس حکام کی جانب سے ایسے رویوں کے تدارک کیلیے خاطر خواہ اقدامات نہ اٹھائے گئے جس کی وجہ سے پولیس کی جانب سے صحافیوں کی تذلیل کرنے کے واقعات روز کا معمول بن چکے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت بلوچستان کی جانب سے ریڈ زون کا خاتمہ کرکے اسے شاہراہ عام قرار دیا گیا ہے تاہم اسکے باوجودعام شہریوں بالخصوص صحافیوں کو ریڈ زون میں داخل ہونے سے روک کر ان کے صحافتی فرائض پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافی اپنی اسٹوریز کیلیے سی ایم سیکرٹریٹ، گورنر سیکرٹریٹ، سول سیکرٹریٹ اور ان سے منسلک دیگر حکومتی اداروں اور دفاتر میں موجود متعلقہ حکام سے رابطہ کرکے وہاں جاتے ہیں تاہم اس کے باوجود انہیں صحافی ہونے کی بنا پر روکا جارہا ہے جو کسی صورت درست نہیں۔ بی یو جے نے مطالبہ کیا ہے کہ آئی جی پولیس اور دیگر متعلقہ حکام ریڈ زون میں تعینات افسران اور عملے کی جانب سے صحافیوں اور عام شہریوں سے برتے جانے والے نا مناسب رویے کا نوٹس لیتے ہوئے ذمے داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں بصورت دیگر بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے پلیٹ فارم سے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا جس میں پولیس حکام کی پریس کانفرنسز میں احتجاج ریکارڈ کرانے سمیت ان کی پریس کانفرنسز کے بائیکاٹ کا آپرپشن پر بھی غور کیا جائے گا۔
