حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی سندھ محمد حسین محنتی کا نواب شاہ پیپلز میڈیکل یونیورسٹی سمیت سندھ کے تعلیمی اداروں کی صورتحال پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت سندھ فوری نوٹس لے‘گزشتہ روز نواب شاہ کی پیپلزیونیورسٹی کی نرسنگ افسرپروین رند کے ساتھ وہاں کے درندوں نے جو سلوک کیا اور دھمکیاں دیں وہ پریس کلب پہنچی اور تھانے جاکر رپورٹ درج کرائی یہ عمل انتہائی تشویشناک ہے ۔ پروین رند کا واقعہ پہلا نہیں اس سے قبل نائلہ رند‘ نمرتا کماری اور نوشین کے واقعات سب کے سامنے ہیں جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کررہے ہیں کہ سندھ کے تعلیمی اداروں میں اس طرح کا ماحول کیسے او رکیوں بنا؟ تعلیمی ادارے ملک کی ترقی وخوشحالی کے لیے بنائے جاتے ہیں ان میں ایسے درندہ صفت لوگ بچیوں کو ہراساں کرتے ہیں سندھ کی درس گاہوں کو لڑکیوں کے لیے مقتل بنایاجارہاہے حکومت سندھ فوری نوٹس لے اور ملوث عناصر کو نشان عبرت بنائے۔ دریں اثناء امیرجماعت اسلامی سندھ محمدحسین محنتی نے سندھ میں طلبہ یونین کی بحالی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ 38 برس بعد سندھ میں طلبہ یونین کی بحالی کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ جمہوری و اسلامی روایات کے مطابق طلبہ تنظیموں کو کام کرنے کا موقع دیا جائے۔ طلبہ یونین کی بحالی سے نہ صرف تشدد و غیرجمہوری اقدامات کی روک تھام ہوگی بلکہ اپنی مرضی کی قیادت کو منتخب کرنے کا حق اورملک و قوم کو اہل،نڈرو بہادر قیادت ملے گی۔
