وفاقی وزرا نے مراد سعید کے بارے میں ذومعنی باتیں کرنے پر نجی ٹیلی ویژن چینل نیوز ون اور شو کی میزبان غریدہ فاروقی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
نیو ون کے پروگرام میں مراد سعید کے بارے میں نشر کی گئی باتوں پر کئی صحافیوں نے بھی اپنے ردعمل کا اظہار کیا اور اس کے مواد کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ سینئر صحافی مبشر زیدی کا ٹویٹ میں کہنا تھا کہ اس طرح کی گفتگو کو کسی طرح سے بھی صحافت نہیں کہا جاسکتا۔
This kind of loose talk can never be classified as journalism https://t.co/gxiSQnpTUU
— Mubashir Zaidi (@Xadeejournalist) February 11, 2022
پی ٹی آئی کے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ سے کہا گیا کہ اینکر کے لئے اس طرح کی توہین آمیز زبان کے ساتھ اپنے پروگرام کی قیادت کرنا ‘انتہائی شرمناک’ ہے۔ ہم ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا اپنے ردعمل میں کہنا تھا کہ اگر کسی پروگرام کسی جرنسلٹ کے بارے میں ایسے تبصرے کئے کئے جاتے تو کیا ردعمل ہوتا؟ مراد سعید مزید اعزازات حاصل کریںگے لیکن اگر ہم نے ٹیلی ویژن سے ایسی گندگی کو نہیں روکا تو معاشرے میں تباہی پھیل جائے گی۔
جس اخلاق سے گری ہوئی مکروہ باتیں مراد سعید کے بارے میں کی گئ، اگر یہ میرے یا کسی صحافی کے بارے میں کسی پروگرام پر کی جائیں تو ہم کیا مطالبہ کرتے؟ مراد سعید تو انشاءاللہ مزید کامیابی حاصل کرے گا، لیکن ہم نے ایسی گندگی کو ٹی وی سے نا روکا تو معاشرے میں تباہی پھیلے گی
— Asad Umar (@Asad_Umar) February 12, 2022
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کا اپنے ساتھی وزیر کی حمایت میں اتفاق کیا کہ پروگرام کی میزبان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی غلاظت اور گندگی سے تب ہی چھٹکارا ممکن ہو سکتا ہے جب وفاقی کابینہ اور میڈیا ریگولیٹری قانون کی منظوری دے۔
درست بات اسی لئے 2018 سے قانون لانے کی کوشش کر رہا ہوں کابینہ قانون پاس کرے تو ہی ایسے گھٹیا اور لچر پن سے نجات ممکن ہے، #Ghaleez https://t.co/zYl55sqmOz
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) February 12, 2022
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے بھی ٹی وی چینل نیو ون کے پروگرام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
When the gutter becomes mainstream for a few moments of infamy and titillation. Most unfortunate. https://t.co/zSGt7oLbSl
— Shireen Mazari (@ShireenMazari1) February 12, 2022
دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ پروگرام کے مہمانوں کے درمیان ہونے والی گفتگو انتہائی قابل مذمت ہے۔ یہ کیسی صحافت ہے؟ تنقید آپ کا جائز حق ہے لیکن تنقید کی آڑ میں اخلاقیات سے بھٹک جانا بہت افسوسناک ہے۔
کل ایک نیوز چینل پر اینکر اور شرکاء کی جانب سے انتہائی لغو اور ذومعنی گفتگو کا استعمال شدید قابلِ مذمت ھے۔ یہ کونسی صحافت ھے؟ تنقید آپ کا جائز حق ھے لیکن تنقید کی آڑ میں اخلاقیات سے گرنا انتہائی افسوسناک ہے.
— Shah Mahmood Qureshi (@SMQureshiPTI) February 12, 2022
خیال رہے کہ غریدہ فاروقی نے پروگرام میں سوال کیا تھا کہ مراد سعید کی وزارت کے پہلے نمبر پر آنے کی حقیقی وجہ کیا ہے؟
آپ سب یہ سارا شو دیکھ لیں غریدہ نے تو کچھ بھی ایسا بولا نہی وہ تو پوچھتی رھی ھیں کہ کیا لکھا ھے کتاب میں https://t.co/e1yQ8m4x7G
— Mustansar Hussain (@c67146c76bf94d7) February 12, 2022
اس کے جواب میں محسن بیگ مرزا کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں نہیں جانتے لیکن وجہ ریحام خان کی کتاب میں لکھی گئی ہے۔ خیال رہے کہ ریحام خان وزیراعظم عمران خان کی سابق اہلیہ ہیں۔
سینئر صحافی افتخار احمد نے کہا کہ اس شخص کیخلاف الزامات اور ان کارکردگی سے کون بے خبر ہے۔
تجزیہ کار طارق محمود کا کہنا تھا کہ کچھ چیزیں خود بہت واضح ہیں لیکن غریدہ کو چاہیے کہ وہ اس موضوع پر بات نہ کریں کیونکہ پیمرا دیکھ رہا ہے۔
غریدہ فاروقی نے تاہم موضوع بحث جاری رکھا اور کہا کہ آپ لوگ کیا بات کر رہے ہیں، مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔
پروگرام میں شریک دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب بھی کسی سے پیچھے نہ رہے اور کہا کہ میں ریحام خان کی کتاب نہیں پڑھی لیکن میں نے محسن بیگ کو ضرور سنا ہے۔ میں ان کی باتوں سے اتفاق کرتا ہوں اور کچھ اور نہیں کہہ سکتا۔
کم از کم ایک بات تو واضح ہو گئی کہ میرے خلاف آٹھ/نو سال سے اور خواتین صحافیوں کیخلاف گھٹیا، غلیظ، اخلاق باختہ ٹرینڈز اور کیمپینز چلانے کے پیچھے اصل میں کون چھُپا ہے۔ چلاتے رہئیے ٹرینڈز، ھم اپنا کام کرتے رہیں گے۔ اور ہاں کتاب/لکھاری کیخلاف بین الاقوامی عدالت جانا نہ بھولئیے گا۔
— Gharidah Farooqi (@GFarooqi) February 12, 2022
ادھر غریدہ فاروقی نے نیوز ون چینل کی بندش پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ کم از کم ایک بات تو واضح ہو گئی کہ خواتین صحافیوں کیخلاف گھٹیا، غلیظ، اخلاق باختہ ٹرینڈز اور کیمپینز چلانے کے پیچھے اصل میں کون چھُپا ہے۔ چلاتے رہیے ٹرینڈز، ہم اپنا کام کرتے رہیں گے۔ اور ہاں کتاب ، لکھاری کیخلاف بین الاقوامی عدالت جانا نہ بھولئے گا۔
