اسلام آباد(آن لائن)عدالت عظمیٰ نے خیبر پختونخوابلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ موخر کرنے سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائراپیل نمٹا دی۔عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کو نئے شیڈول پر انتخابات سے روکنے سے متعلق کے پی کے حکومت کی استدعا مسترد کر تے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 31 مارچ 2022 ءکو کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات کا نیا شیڈول دے دیا ہے،نئے شیڈول کے بعد اپیلیں غیر موثر ہوچکی ہیں،صوبائی حکومت اور فریقین الیکشن کمیشن کے سامنے موقف پیش کریں۔عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کو کے پی کے حکومت سمیت تمام فریقین کا موقف سننے کی ہدایت کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ الیکشن کمیشن منگل کو تمام فریقین کو سن کر مناسب حکم جاری کرے۔پیر کو عدالت عظمیٰ میں معاملے کی سماعت کے آغاز پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انتخابات کے شیڈول میں تبدیلی کر دی ہے،صوبائی حکومت نے25 مارچ کی تاریخ
خود دی تھی۔اس دوران ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے نے31مارچ کو دوسرے مرحلے کےلیے پولنگ کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شیڈول کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ نئے شیڈول پر مشاورت نہیں کی گئی،قانون کے مطابق شیڈول صوبائی حکومت کی مشاورت سے جاری ہونا تھا،یہ کہنا غلط ہے کہ ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو سنے بغیر فیصلہ کیا۔وکیل درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ الیکشن کمیشن سے انصاف کی توقع نہیں۔جس پر جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیے کہ ذاتی مفادات کے لیے اداروں پر عدم اعتماد نہ کریں ، نیا شیڈول آنے کے بعد کیس غیر موثر ہوچکا ہے،الیکشن شیڈول معطل کرکے غلط مثال قائم نہیں کریںگے ، شیڈول کا فیصلہ عدالت عظمیٰ نے کرنا ہے تو کیا الیکشن کمیشن کو بند کردیں،انتخابی شیڈول کا اجرااور انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے،کے پی کے حکومت خود شیڈول دے کر بھاگ رہی ہے، الیکشن کے معاملات میں عدالت عظمیٰ کیوں مداخلت کرے ،ابھی کہتے ہیں رمضان بعد الیکشن کرا د یں، رمضان بعد کہیں گے عید آ گئی،پھر بڑی عید کا کہہ دیں گے ، بڑی عید بعد محرم آ جائے گا اس طرح تو الیکشن ہوگا ہی نہیں۔
