کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی کے نیشنل کوچنگ سینٹر میں سندھ باکسنگ کنوینشن کا انعقاد ، کراچی ، حیدرآباد ،لاڑکانہ ،میرپورخاص ، جامشورو، بدین سے تعلق رکھنے والی اولمپک، انٹرنیشنل ، نیشنل وکلب لیول تا انٹرنیشنل لیول تک کی باکسنگ شخصیات نے شرکت کی۔ کنوینشن میں اولمپئن باکسر وایشین گیمز ، ایشین چمپئن مہر اللہ لاسی، ایشین چمپئن وانٹرنیشنل کوچ علی بخش بلوچ، انٹرنیشنل باکسرز پرویز ،عباس خان نیازی ، ابو طالب، کریم بخش ،جاوید جان، انجینئر احسن خان ،اولمپک ریفری غلام حسین ، کوچز سید احمد علی ، دوست محمد ، یونس قمبرانی ، فدا حسین، خان محمد، رفیع الدین ، آصف حسن نے باکسنگ کی ترقی ہوئی صورت حال اور اس کے ذمے دار بلخصوص سندھ اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کے مثبت کردار اورباکسنگ کی کرپٹ مافیا کی پشت پناہی پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ سندھ اور پاکستان باکسنگ کی قومی وبین الاقوامی پوزیشن پر پاکستان باکسنگ کے حقیقی رہنما محمد اکرم خان نے شرکاء کو معلومات دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے دعویداران کو نہ انٹرنیشنل باڈی تسلیم کرتی ہے اور نہ ہی پاکستان کی وزارت آئی پی سی نے تسلیم کیا ہے ، اس لیے اس کی آڑ میں بنائے گئی تمام صوبائی یونتس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ سندھ میں باکسنگ کے نام پر کرپشن کی انتہا ہورہی ہے۔ اس کی تصدیق خود اس کنوینشن میں موجود کلب کوچز وآفیشلز نے کردی ہے۔ اکرم خان نے ڈائریکٹر جنرل پاکستان اسپورٹس بورڈکرنل آصف کا شکریہ ادا کیاجنہوں نے باکسنگ کے حقیقی ستاروں کو یکجہا کیا۔ پاکستان باکسنگ کی سینئر بین الاقوامی شخصیت علی اکبر نے تمام شرکاء کو پاکستان باکسنگ کی تاریخ ،کراچی تانیشنل و انٹرنیشنل لیول تک باکسنگ کی تنظیموں میںمرحوم استاد محمد سٹو، مرحوم اقبال قریشی ، مرحوم ڈاکٹر اے ٹی شیخ کے انتھک محنت اور مرحوم پروفیسر انور چوہدری کے سندھ وپاکستان سمیت ایشیا کی ناقابل فراموش خدمات بیان کیں۔ علی اکبر نے کہاکہ پاکستان باکسنگ کی تباہی کی یہ حالت ہے کہ جنوبی ایشیا کا باکسنگ میں نمبر 1ملک اب چوتھی پوزیشن پر آگیا ۔ پوری دنیا میں ریفری جج تھری اسٹار نہیں، 2010میں اکرم خان کے بنائے گئے دو تھری اسٹار کوچز علی بخش اور ارشد حسین کے بعد 12برس میں کوئی تیسرا کوچ نہ بن سکا۔ 2010کے بعد پاکستان کانام ونشان ایشیا اورانٹرنیشنل باکسنگ باڈی کی ہر کمیٹی سے مٹادیاگیا۔ کرپشن ،عہدوں کے لالچ ، من پسند سلیکشن نے باکسنگ کھیل کو برباد کردیا ہے۔ اب باکسنگ سوشل میڈیاور پریس ریلیز تک محدود ہوچکی ہے۔ کنوینشن میں حکومت سندھ کے لیے 9اوروفاقی حکومت کے لیے 12قرار دادیں بھی متفقہ طورپر منظور کی گئیں۔ اس موقع پر امید ظاہر کی گئی کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر بنائی گئیں اسپورٹس پالیسیوں میں باکسنگ کھیل میں بھی ترقی اورنمایاں کارکردگی نظر آئے گی۔
