بھوپال(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں حجاب کے بعد اب ہندو انتہا پسندوں نے اذان پر تنازع کھڑا کر دیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق ضلع رتلام میں ہندو تنظیم کے کارکنوں نے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان دینے پر اعتراض کیا ہے۔اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جس میں ایک نوجوان کہہ رہا ہے کہ اس نے مسجد کے بالمقابل عمارت پر لاؤڈ اسپیکر لگا رکھے ہیں، اب سے جب بھی اذان ہوگی ہم لاؤڈ اسپیکر پر اونچی آواز میں گانے بجائیں گے۔بھارتی میڈیا کے مطابق ویڈیو میں نوجوان کہہ رہا ہے کہ راوتی کی مسجد میں اذان کے حوالے سے پولیس کو درخواست دینے کے بعد بھی لاؤڈ اسپیکر سے اذان دی جارہی ہے۔ ہم نے اس کا حل بھی ڈھونڈ لیا ہے۔ ہم نے مسجد کے بالمقابل عمارت میں لاؤڈ اسپیکر لگائے ہیں۔ جب بھی اذان ہوگی ہم لاؤڈ اسپیکر بجائیں گے۔ یہ پیغام پورے ہندوستان میں جانا چاہیے۔بتایا جا رہا ہے کہ آر ایس ایس سے وابستہ ہندو جاگرن منچ نے رتلام ضلع کے راوتی پولیس اسٹیشن میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جب ویڈیو منظر عام پر آئی تو پولیس نے راوتی گاؤں پہنچ کر مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ مسجد کے لاؤڈ اسپیکر کو خاموش کر دیں۔ اس کے ساتھ سامنے والی عمارت پر مقامی لوگوں کی طرف سے نصب لاؤڈ اسپیکر بھی ہٹا دیے گئے۔بھارتی میڈیا کے مطابق رتلام کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی لاؤڈ اسپیکر پر اذان پر اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ہندو جاگرن منچ نے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر کئی دیگر تھانوں میں اسی طرح کی درخواستیں دی ہیں اور مساجد میں لاؤڈ اسپیکر پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت میں حجاب پر پابندی کے بعد اب مسلمانوں کو مساجد سے اذان دینے سے بھی روکا جا رہا ہے اور یہ سب اس وقت کیا جا رہا ہے جب الیکشن کا زمانہ ہے اور مودی سرکار کو ہندو ووٹرز کی حمایت درکار ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق مودی سرکار کے بھارت میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اقلیتوں پر عرصہ حیات تنگ ہوگیا ہے اور مذہبی آزادی کو سلب کرلیا گیا ہے۔
