کٹھ منڈو (انٹرنیشنل ڈیسک) نیپال کے دارالحکومت میں ایٹم بم کی تیاری میں استعمال ہونے والے جوہری مواد یورینیم کی اسمگلنگ اور افزودگی میں ملوث 2بھارتی شہریوں سمیت 8 مقامی افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کٹھ منڈو پولیس نے خفیہ اطلاع پر چھاپہ مار کارروائی کے دوران یورینیم افزودہ کرنے والے 8 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ چھاپا مار کارروائی ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں کی گئی جہاں پارکنگ میں کھڑی کار سے ایٹمی مود برآمد کیا گیا۔ ملزمان اپندرا کمار مشرا اور راجو ٹھاکر کا تعلق بھارتی ریاست بہار سے ہے اور وہ افزودہ یورینیم کو 35 کروڑ بھارتی روپے میں فروخت کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ پولیس کے مطابق کار سے گرفتار ہونے والے بھارتی شہریوں نے تفتیش کے دوران مزید 6 مقامی افراد کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل گزشتہ برس بھارتی ریاست جھار کھنڈ کے شہر بکارو کی پولیس نے 2افراد سے 7کلو گرام یورینیم بر آمد کرنے کا دعوی کیا تھا۔ اس کیس میں پولیس نے اب تک 7افراد کو گرفتار کیا ہے اور ان سب کے خلاف اٹامک انرجی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس واقعے کے سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں بھارت کے ایٹمی پروگرام کے غیر محفوظ ہونے پر شدید خدشات کا اظہار کیا تھا، تاہم مودی سرکار نے بے پروائی سے اسے مسترد کردیا۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان سے ضبط شدہ مواد کی تفتیش کی گئی تو پتا چلا ہے کہ وہ کوئی جوہری یا تابکاری مادہ نہیں ہے۔
