English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

فضا تحریک عدم اعتماد کی

القمر

تحریر: آفتاب مہمند

پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کو بنے بہت کم عرصہ ہوا تھا جب حزب اختلاف کی جماعتیں وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر متفق ہو گئیں۔ جیسے ہی عدم اعتماد کی تحریک قومی اسمبلی میں پیش کی گئی تو تلاوت قرآن پاک کے بعد پیپلز پارٹی کا ایک رکن فوری طور پر کھڑا ہو گیا اور کہا کہ انہیں زبردستی کچھ لوگ مری لے گئے تھے مگر وہ اپنی لیڈر اور اپنی جماعت کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس تحریک کے خلاف ہیں۔ یہ اپوزیشن کے لئے پہلا دھچکا تھا۔
تاریخ کہتی ہے جب اس تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوئی تو حکومت کے حق میں چار ووٹ اضافی ہی نکلے تھے۔ یہ یکم نومبر 1989ء کو پاکستان کے پارلیمانی اور سیاسی دور کا ایک اہم دن تھا جب ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک منتخب وزیر اعظم بینظیر بھٹو کیخلاف تحریک عدم اعتماد آئی تھی۔
پارلیمان میں بینظیر بھٹو کی دس ماہ کی حکومت کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے کے بعد اس پر ہونیوالی ووٹنگ کے نتائج کے مطابق حزب اختلاف کی طرف سے 107ووٹ ڈالے گئے تھے۔
بینظیر کی حکومت بارہ ووٹوں سے بچ گئی تھی۔اسی دور کی میڈیا رپورٹس کے مطابق اپوزیشن اپنے اراکین مری لے گئی تھی جبکہ پیپلز پارٹی کے خیبر پختونخوا میں وزیر اعلیٰ آفتاب احمد خان شیرپاؤ اپنے اراکین کو سوات لے گئے تھے تاکہ کوئی وفاداری تبدیل نہ کر سکے۔
گو کہ تحریک کے پیچھے اس وقت ایک کہانی ضرور تھی لیکن یہ الگ موضوع ہے تاہم پارلیمان میں لائی گئی تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی اور حزب اختلاف کو شکست کامنہ دیکھنا پڑا تھا۔
یکم اگست 2019ء کو چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کیخلاف جب اپوزیشن کے 64 ارکان سینیٹ نے تحریک عدمِ اعتماد پیش کی جبکہ خفیہ ووٹنگ میں اُنکے خلاف صرف 50 ووٹ آئے۔ صادق سنجرانی تو بچ گئے لیکن اپوزیشن نہ بچ سکی اور پُر اُمید ہونے کے باوجود اپنے 14 ارکان کے ہاتھوں شکست کھا گئی۔ ناکامی پر اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کی جانب سے وجوہات جاننے کیلئے تحقیقات کا اعلان ہونے کے باوجود آج تک خاموشی ہی ہے۔
یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے جب 1993ء میں اس وقت کے صدر پاکستان غلام اسحاق خان نے پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کی چھٹی کرائی تو سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی روشنی میں نواز شریف کی حکومت بحال کرائی گئی تھی تو اس وقت نواز شریف نے بطور وزیر اعظم پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لیا تھا۔ اسی طرح مارچ 2021ء میں وزیر اعظم عمران خان کو بھی تب اعتماد کا ووٹ لینا پڑا جب اس سے چند روز قبل یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ انتخابات میں سابق وزیر خزانہ حفیظ شیخ کو ہرا دیا تھا۔
سال 2018ء میں جب عام انتخابات ہو گئے تو مرکز، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہو گئی لیکن روز اول سے ہی تمام سیاسی جماعتوں کا یہی مؤقف رہا کہ موجودہ حکومت دھاندلی کے نتیجے میں قائم ہوئی ہے۔نتائج کے بعد فوری طور پر جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا کہ اسمبلیوں میں حلف نہیں لینا تاہم اس وقت پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے ساتھ نہ دینے پر جمعیت علمائے اسلام نے کچھ عرصہ بعد سولو فلائٹ لیتے ہوئے ملین مارچ شروع کیا بالآخر حکومت کیخلاف آزادی مارچ کے نام سے اکتوبر 2019ء کو اسلام آباد پہنچے۔
20 سمتمبر 2020ء کو چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی میزبانی میں ہونیوالی اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے نتیجے میں 11 سیاسی جماعتوں کے اتحاد پر مشتمل “پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ” تشکیل دیا گیا جس کی صدارت مولانا فضل الرحمان کو سونپی گئی۔اس ہی روز تحریک میں شامل تمام جماعتوں نے 26 نکاتی ایجنڈا تیار کر کے پیش کیا جس میں حکومت کیخلاف لانگ مارچ، اسمبلیوں سے استعفے اور تحریک عدم اعتماد جیسے نکات بھی شامل تھے۔
تحریک کی تشکیل کے فوری بعد گجرانوالہ سے ملک گیر جلسوں کا آغاز کیا گیا تاہم ایک مرحلے پر جب حکومت کیخلاف حتمی طور پر لانگ مارچ اور اسمبلیوں سے استعفوں کا اعلان کرنا تھا، اتفاق رائے نہ ہونے پر قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان نے ایک اعلان کے ذریعے بتایا کہ لانگ مارچ کو ملتوی سمجھا جائے۔ کئی تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک کے باعث حکومت دباؤ میں ضرور آئی تھی تاہم اس مرحلے کے بعد خود پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کا زوال شروع ہو گیا۔ تحریک آج بھی قائم ہے لیکن اجلاسوں یا اعلانات کے علاوہ ابھی تک اس کی کارکردگی سامنے نہیں آئی ہے۔
کچھ نتائج دکھائے یا نہیں البتہ ایک موقع پر بلاول بھٹو کی حکومت کے خاتمے کی ڈیڈ لائن کا اعلان اور مریم نواز کا آر یا پار جیسا بیان آج بھی یاد کئے جا رہے ہیں۔ تحریک میں شگاف پڑ جانے کی کہانی اس وقت سامنے آئی جب نواز لیگ نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی پر بلوچستان کی ایک سیاسی جماعت یعنی باپ کے سینیٹرز کی حمایت حاصل کرنے کا الزام لگایا جس کے حوالے سے پیپلز پارٹی کا الگ ایک مؤقف ہے۔
پیپلز پارٹی کی اپنی جد و جہد ہو یا پی ڈی ایم کی سطح پر ہونیوالی تحریک، دونوں ہی کچھ حاصل کئے بغیر رواں دواں ہیں۔
کچھ دنوں سے حالات نے ایک نیا رخ تب اختیار کیا جب ملک میں پھر سے حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی باتیں شروع ہو گئیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے آپس میں روابط بڑھنے شروع ہو گئے۔ مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے بلاول بھٹو اور آصف زرداری کو خصوصی دعوت پر بلا لیا۔ اسی طرح آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان کی چوہدری برادران سے ملاقاتیں، مولانا اور شہباز شریف کی ایم کیو ایم کے وفود سے ملاقاتیں، 14 سال بعد شہباز شریف کی چوہدری برادران سے ایک اہم ملاقات سے روابط کا سلسلہ کافی تیز ہو گیا ہے۔مسلم لیگ ن کے مطابق پارٹی قائد میاں نواز شریف اس حوالے سے
پوری طرح آن بورڈ ہیں۔
مسلم لیگ ن کا دعوی ہے کہ ہاکستان تحریک انصاف کے کئی ارکان اسمبلی اور وزراء انکے ساتھ رابطے میں ہیں۔ وہ بھی عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے کی صورت میں اپوزیشن کا ساتھ دیں گے۔ اسی حوالے سے سینئر اینکر پرسن سلیم صافی کا کہنا ہےکہ واقعی اگر ایسا ہے تو پھر تو اپوزیشن کو حکومتی اتحادیوں کی بھی ضرورت نہیں۔ بعض جگہ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی تو روز اول سے تحریک عدم اعتماد کا کہتی آرہی ہے ن لیگ پہلے ساتھ کیوں نہیں دے رہی تھی؟؟
بہرحال جہاں تک حکومت کا تعلق ہے تو اتحادی جماعتیں بظاہر اس کے ساتھ کھڑی ہیں۔ اس بارےمیں ق لیگ کے رہنماء مونس الہی نے وزیر اعظم عمران خان کو حکومت کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اسی طرح اپوزیشن جماعتیں بھی حکومتی اتحادیوں کے تحریک میں ساتھ دینے کیلئے پر امید ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری ہوں، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک یا دیگر رہنماء ، وہ کہتے تو یہی آ رہے ہیں کہ اپوزیشن شوق سے تحریک لے آئے اسے ناکامی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ گزشتہ روز مریم نواز نے ایک ٹویٹ کیا جس میں طنزیہ انداز میں حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے انکا
کہنا تھا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران کا سی ای سی اور میڈیا سٹریٹجی ٹیم کا اجلاس بلانا بتاتا ہے کہ کون گھبرایا ہوا ہے۔
اپوزیشن تو کہتی ہے کہ اب امپائر نیوٹرل ہو گیا ہے اور حکومتی بے ساکھیاں جلد ہی اڑا دی جائینگی۔
مسلم لیگ ق کے رکن قومی اسمبلی طارق بشیر چیمہ کا بیان کہ انکی وفاداری تو ریاست سے ہے اسی طرح بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر
آغا عمر احمد زئی نے گزشتہ روز ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہمیں اب اپنی لڑائی خود لڑنے کا کہا گیا ہے۔ یا یہ بات کہ میں ان کے لئے اندر سے باہر زیادہ خطرنک ثابت ہوں گا جیسے بیانات بھی اہمیت کے حامل سمجھے جا رہے ہیں۔ ایسے میں جہانگیر ترین گروپ بھی خاصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ترین سے مولانا فضل الرحمان کی ایک اہم ملاقات بھی ہوئی ہے۔
گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان نے بعض وزراء کو کارکردگی کی بناء پر ایوارڈز سے نوازا جس پر ایم کیو ایم کے ایک رہنما کا یوں بیان سامنے آیا کہ حکومتوں میں ایسا نہیں ہوتا۔ حکومتی کارکردگی کی ریٹنگ تو میڈیا جیسے اداروں کا کام ہے۔ اسی حوالے سے سلیم صافی کا کہنا ہےکہ لگتا ہے حکومت کو خود بھی احساس ہو رہا ہے کیونکہ ایسی تقاریب تو الوداعی ہوتی ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے چاہے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کیخلاف تحریک عدم اعتماد تھی یا موجودہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کیخلاف ۔۔۔ تاریخ تو یہی رہی ہے کہ دونوں تحاریک ناکامی کی شکار ہوئیں۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بینظیر بھٹو کیخلاف لائی جانیوالی تحریک عدم اعتماد اس وقت ایک سازش کا حصہ تھی لیکن آج ملکی معیشت، بیروزگاری، لاقانونیت، احتساب و میرٹ کا معیار، ملکی داخلہ و خارجہ پالیسی سمیت کئی نکاتی ایجنڈے پر اپوزیشن ایسا قدم اٹھانے پر پوری طرح متفق ہے۔
سینئر صحافی سہیل وڑائچ کے مطابق اپوزیشن تحریک لانا تو چاہتی ہے لیکن اس کے لئے یہ اتنا آسان کام بھی نہیں ہو گا۔
جہاں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا 50 دن کی اہمیت کے بارے میں بیان کا تعلق ہے تو اسی حوالے سےسینئر اینکر نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ اس بیان میں کافی وزن ہے۔پچاس دن میں اگر کچھ ہوا تو بھی ٹھیک ، نہیں ہوا تو پھر اپریل میں ملکی سیاسی حالات کچھ اور ہی رخ اختیار کر سکتے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پھر کچھ اہم اعلانات بھی ہو سکتے ہیں جس سے ملکی سیاست کا ڈھانچہ ہی تبدیل ہو سکتا ہے۔
سینئر اینکر پرسن حامد میر کے مطابق اپوزیشن جماعتیں مطمئن ہیں اور وہ اپنے پتے بالکل شو نہیں کر رہیں۔حامد میر کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں ٹائمنگ پر اعتراض ضرور ہے۔ اپوزیشن کو تحریک ایک ماہ کے اندر لانی ہو گی۔ ملک کو ہر محاذ پر اس وقت جن چیلنجز کا سامنا ہے لیکن اپوزیشن کے پاس بھی تو جامع پلان موجود نہیں۔
کئی سینئر تجزیہ کار کہتے آ رہے ہیں کہ اپوزیشن جماعتیں اس مرتبہ نہایت محتاط اور بہتر حکمت عملی کیساتھ آگے بڑھ رہی ہیں لیکن یہ واضح نہیں کہ تحریک پہلے پنجاب یا مرکز، چیئرمین سینیٹ، سپیکر یا ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کیخلاف لائی جائے گی۔ بلاول بھٹو، مریم نواز، مولانا فضل الرحمان سمیت تمام اپوزیشن رہنماؤں کے مطابق تو حکومت جانیوالی ہے۔
اب تحریک عدم اعتماد کب لائی جاتی ہے اس کا انتظار خود حکومت کو بھی ہے۔
جہاں اپوزیشن بھی مطمئن اور بظاہر حکومت بھی مطمئن دکھائی دے رہی ہے لہذا فروری کا مہینہ یا زیادہ سے زیادہ مارچ کے پہلے دو ہفتے ملکی سیاست کیلئے انتہائی اہم تصور کئے جا رہے ہیں۔ بس اب دیکھنا یہ ہے کہ کس کو کامیابی اور کس کو ناکامی ہو گی، اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ دونوں صورتوں میں یقینا آنیوالے دنوں کی مجموعی ملکی سیاسی صورتحال بھی واضح ہو جائیگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے