بھارتی ریاست کرناٹک میں طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی کے خلاف احتجاج کے دوران بند کیے گئے ہائی اسکولز کھول دیے گئے۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق کرناٹک کے حکام کی جانب سے اسکول کی لڑکیوں کے حجاب پہننے پر لگائی گئی حالیہ پابندی پر ایک عدالت غور کر رہی ہے۔
اس تازہ ترین تنازع کا تعلق بھارت کی مسلم اقلیت سے ہے جو اس ہندو اکثریتی ملک کی ایک ارب 30 کروڑ آبادی کا تقریباً 13 فیصد ہیں۔
چند باحجاب لڑکیوں سمیت سبز یونیفارم پہنی طالبات آج اڈوپی ضلع کے گورنمنٹ گرلز سینئر اسکول پی یو میں داخل ہوتی نظر آئیں جہاں رواں ماہ احتجاج شروع ہوا تھا۔
مرد اور خواتین پولیس اہلکار پہرے پر تعینات تھے۔
گزشتہ ہفتے کرناٹک کی ہائی کورٹ کی جانب سے اسکولوں کو مزید ہدایات تک کلاس رومز میں مذہبی لباس پہننے پر پابندی لگانے کے حکم کے باوجود آج باحجاب لڑکیوں سمیت تمام طالبات کو آ اسکول آنے کی اجازت دی گئی۔
عدالت بدھ کو (آج) مزید دلائل سنے گی۔
سینئر ضلعی عہدیدار کرما راؤ ایم نے بھارتی نیوز ایجنسی ‘اے این آئی’ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے فیصلے پر کمیونٹی میں بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالت کے عبوری حکم کے نفاذ پر ہم نے تمام مذہبی رہنماؤں اور مختلف اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملاقات کی ہے۔
جنوبی ریاست کرناٹک میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت ہے اور اس سال ریاستی اسمبلی کے کئی اہم انتخابات کی مہم کے دوران یہ تنازع پیدا ہوا ہے۔
کرناٹک کے ریاستی انتخابات اگلے سال ہوں گے جبکہ بھارت میں اگلے عام انتخابات مئی 2024 میں ہوں گے۔
کرناٹک میں موجود مسلم خاندانوں کا کہنا ہے کہ حجاب پر پابندی سے مسلمان کمیونٹی کو دیوار سے لگایا جارہا ہے جس کے تحت کچھ اسکولوں نے حجاب پہننے والی لڑکیوں اور خواتین کو داخل ہونے سے انکار کردیا ہے۔
کچھ مسلم طلبہ اور والدین نے حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاج کیا جس کے ردعمل میں ہندو طلبہ نے اپنے گلے میں زعفرانی رنگ کے دوپٹے ڈال کر مظاہرہ کیا جو عام طور پر ہندو پہنتے ہیں۔
طالب علم عفرا اجمل عصابی نے حجاب پر پابندی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ یہ انتہائی غیر منصفانہ ہے، ہم ہمیشہ حجاب پہن کر کلاسز میں شرکت کرتے رہے ہیں۔
ریاست میں احتجاج کے سبب حکام کی جانب سے بند کیے جانے والے جونیئر اور مڈل اسکولز پیر کو دوبارہ کھول دیے گئے تھے۔
انتہا پسند ہندوؤں کی اذان کے وقت لاؤڈ اسپیکر پر تیز میوزک چلانے کی دھمکی

بھوپال: بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں انتہاپسند ہندوؤں نے مسجد کے عین سامنے والے گھر پر لاؤڈ اسپیکر نصب کرکے اذان کے وقت تیز میں میوزک چلانے کی دھمکی دی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت میں حجاب پر پابندی کے بعد اب مسلمانوں کو مساجد سے اذان دینے سے بھی روکا جا رہا ہے اور یہ سب اس وقت کیا جا رہا ہے جب الیکشن کا زمانہ ہے اور مودی سرکار کو ہندو ووٹرز کی حمایت درکار ہے۔
ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع رتلام میں انتہا پسند ہندوؤں نے مسجد کی انتظامیہ کو لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے سے روک دیا اور اس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں لاؤڈ اسپیکر پر میوزک چلانے کی دھمکی دیدی۔
जब से UP चुनाव की घोषणा हुई हैं, मध्य प्रदेश के दर्जनों जिलों जैसे खण्डवा, इंदौर, उज्जैन में "अज़ान" के खिलाफ़ मुहीम छेड़ कर दी गई हैं। रैलीयां निकाल कर भड़काऊ नारे लगाए जा रहे हैं।
बावजूद इसके, रैली की परमिशन मिल रही है
Thread-
वीडियो MP के रतलाम का हैं। @DGP_MP @SP_RATLAM_MP pic.twitter.com/nI3EBGvflO
— काश/if Kakvi (@KashifKakvi) February 4, 2022
ٹوئٹر پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک شخص کو مسجد سے بلند آواز میں اذان ہونے کی صورت میں لاؤڈ اسپیکر سے تیز آواز میں میوزک چلانے کی دھمکی دیتے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ شخص اس گھر کی جانب بھی اشارہ کرتا ہے جہاں لاؤڈ اسپیکر نصب کیے گئے تھے۔
اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے ضلع کی پولیس نے موقع پر پہنچ کر انتہا پسند ہندؤں کی جانب سے ایک گھر پر نصب لاؤڈ اسپیکر کو اتار دیا لیکن کسی انتہا پسند کو گرفتار نہیں بلکہ الٹا مسجد انتظامیہ کو فی الحال اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال سے روک دیا۔
مودی سرکار کے بھارت میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اقلیتوں پر عرصہ حیات تنگ ہوگیا ہے اور مذہبی آزادی کو سلب کرلیا گیا ہے۔
منبع: ڈان نیوز/ایکسپریس نیوز
The post کرناٹک میں حجاب تنازع کے بعد بند ہائی اسکولز دوبارہ کھل گئے appeared first on شفقنا اردو نیوز.
