English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بن بلائے بریانی کی دعوت کھانے سے خارجہ تعلقات بہتر نہیں ہوتے، من موہن کا مودی پر گہرا طنز

القمر

سابق بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ مودی حکومت کو اقتصادی پالیسی کی کوئی سمجھ نہیں اور وہ خارجہ پالیسی کے معاملہ میں بھی ناکام رہی ہے، چین ہماری سرحد پر بیٹھا ہے اور اس معاملے کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے، عالمی لیڈروں کو زبردستی گلے لگانے، جھولنے یا بغیر بلائے بریانی کھانے سے ملکوں کے تعلقات بہتر نہیں ہوتے۔

انہوں نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ مودی کی غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ملک معاشی بحران کی لپیٹ میں آ گیا، آج پورے ملک میں بے روزگاری عروج پر پہنچ چکی ہے۔ کسان، تاجر، طالب علم، خواتین سب پریشان ہیں، ملک کے کسان اناج کے محتاج ہو رہے ہیں، ملک میں معاشرتی ناہمواری بڑھ رہی ہے، لوگوں پر قرضے مسلسل بڑھ رہے ہیں، جبکہ آمدنی کم ہو رہی ہے، امیر اور امیر ہوتے جا رہے ہیں اور غریب اور غریب ہوتے جا رہے ہیں لیکن یہ حکومت اعداد و شمار کی بازیگری کر کے سب کچھ ٹھیک ہونے کا دعویٰ کر رہی ہے۔

منموہن سنگھ نے کہا کہ آج کی صورتحال بہت تشویشناک ہے۔ کورونا کے درمیان مرکزی حکومت کی غیر دور اندیش پالیسیوں کی وجہ سے ایک طرف لوگ گرتی ہوئی معیشت، بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری سے پریشان ہیں تو دوسری طرف ہمارے حکمران آج سات سال حکومت چلانے کے بعد بھی اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں درست کرنے کے بجائے لوگوں کی پریشانیوں کے لئے ہمارے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ملک کی 5 ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کے درمیان سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی ابوہر ریلی سے عین قبل ایک ویڈیو پیغام جاری کر کے مرکز کی مودی حکومت پر براہ راست لفظی حملہ کیا. انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ میری بڑی خواہش تھی کہ میں پنجاب، اتراکھنڈ، گوا، اتر پردیش اور منی پور کے بھائیوں اور بہنوں کے پاس جا کر ملک کے حالات پر بات کروں، لیکن موجودہ حالات میں ڈاکٹروں کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے میں اس ویڈیو پیغام کے ذریعے آپ سے بات کر رہا ہوں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اس حکومت کی پالیسی اور نیت دونوں میں خامی ہے۔ ہر پالیسی خود غرضی سے پر رہتی ہے، اور نیت میں نفرت اور تقسیم ہوتی ہے۔ اپنے مفاد کے حصول کے لیے لوگوں کو ذات پات، مذہب اور علاقے کے نام پر تقسیم کیا جا رہا ہے، انہیں آپس میں لڑایا جا رہا ہے۔ اس حکومت کی جعلی قوم پرستی جتنی کھوکھلی ہے، اتنی ہی زیادہ خطرناک بھی ہے۔ ان کی قوم پرستی ‘پھوٹ ڈالو اور راج کرو’ کی برطانوی پالیسی پر منحصر ہے۔ جو آئین ہماری جمہوریت کی بنیاد ہے پر اس حکومت کا کوئی عقیدہ نہیں ہے اور آئینی اداروں کو مسلسل کمزور کیا جا رہا ہے۔

منموہن سنگھ نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ اب برسراقتدار حکمرانوں کو یہ بات سمجھ آ گئی ہوگی کہ لیڈروں کو زبردستی گلے لگانے، جھولنے یا بغیر بلائے بریانی کھانے سے ملکوں کے تعلقات بہتر نہیں ہوتے۔ حکومت کو یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ چہرہ بدلنے سے اس کی حیثیت نہیں بدلتی۔ جو سچ ہے، وہ ہمیشہ کسی نہ کسی شکل میں سامنے آتا ہے۔ بڑی بڑی باتیں کہنا بہت آسان ہے لیکن ان باتوں کو عملی جامہ پہنانا بہت مشکل ہے۔

اس وقت پنجاب سمیت ملک کی پانچ ریاستوں میں انتخابات ہو رہے ہیں۔ پنجاب کے سامنے بڑے چیلنجز ہیں جن کا صحیح طریقے سے مقابلہ کرنا بہت ضروری ہے۔ پنجاب کی ترقی، زراعت میں خوشحالی کا مسئلہ اور بے روزگاری کا مسئلہ حل کرنا بہت ضروری ہے اور یہ کام صرف کانگریس پارٹی ہی کر سکتی ہے۔ میں پنجاب کے عوام سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنا قیمتی ووٹ کانگریس پارٹی کو ہی دیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے