English Al Qamar Urdu جون 21, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

یوکرین سے روسی فوج کے انخلا پر امریکا اور برطانیہ کا روس کے ارادوں پر تحفظات کا اظہار

القمر

روس نے کہا ہے کہ یوکرین کے اردگرد موجود مزید افواج دستبردار ہو کر واپس بلائی جا رہی ہیں لیکن امریکا اور برطانیہ نے روس کے ارادوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات پر یقین نہیں ہے کہ انخلا حقیقی ہے یا نہیں۔

خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق یوکرین میں وزارت دفاع نے کہا کہ اس کے ویب پورٹل کو لگاتار دوسرے دن ایک بڑے سائبر حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

روسی وزارت دفاع نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ٹینک، گاڑیوں اور خودکار توپ خانے کو جزیرہ نما کریمیا سے نکلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

نومبر میں یوکرین کی سرحدوں کے قریب روسی افواج کی تعیناتی کے بعد سے تناؤ میں مستقل اضافہ ہوتا جارہا تھا اور حال ہی میں امریکا اور برطانیہ نے خبردار کیا تھا کہ روس جلد حملہ کر سکتا ہے۔

روس نے ان انتباہات کا مذاق اڑایا اور منگل کو اعلان کیا تھا کہ کچھ یونٹ مشقیں مکمل کرنے کے بعد اڈے پر واپس آرہے ہیں۔

عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انخلا کے حوالے سے سب سے اہم عنصر یہ ہوگا کہ مشرق بعید کے روسی دستے اس ہفتے بیلاروس میں ہونے والی بڑی مشقوں میں حصہ لے کر ہزاروں میل دور اپنے اڈوں پر واپس جاتے ہیں یا نہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے منگل کو کہا کہ ڈیڑھ لاکھ سے زائد روسی فوجی ابھی بھی یوکرین کی سرحدوں کے قریب جمع ہیں اور انخلا کی تصدیق نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے تجزیہ کار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ روسی فوجی دستے اب بھی زیادہ خطرناک پوزیشن میں ہیں۔

برطانوی وزیر دفاع بین والیس نے بدھ کے روز ‘ٹائمز’ ریڈیو کو بتایا کہ ہم نے انخلا کے حوالے سے کوئی ثبوت نہیں دیکھا۔

برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زمینی حقائق کی بنیاد پر ہم جو مشاہدات دیکھ رہے ہیں وہ روس کے حالیہ بیانات کے برعکس ہیں۔

دوسری جانب یوکرین میں وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ہیکرز اب بھی ان کی ویب سائٹ پر حملے کر رہے ہیں اور پروگرامنگ کوڈ میں کمزوریوں کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

اگرچہ یوکرین نے یہ نہیں بتایا کہ اس واقعے کے پیچھے کون سے عناصر ہے تاہم اپنے ایک بیان میں انہوں نے روس پر انگلیاں اٹھائی ہیں۔

یوکرین سینٹر فار اسٹریٹیجک کمیونیکیشنز اینڈ انفارمیشن سیکیورٹی نے کہا کہ اس بات کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ حملہ آور نے گندی چالوں کے حامل ہتھکنڈے استعمال کیے کیونکہ ان کے جارحانہ منصوبے بڑے پیمانے پر کام نہیں کر رہے۔

روس کی فیڈرل سیکیورٹی سروس نے فوری طور پر رائٹرز کی جانب سے تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے منگل کو وائٹ ہاؤس سے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے بیان میں کہا کہ اگر روس، امریکا یا ہمارے اتحادیوں پر غیر متناسب ذرائع سے ہماری کمپنیوں یا اہم انفرااسٹرکچر کے خلاف سائبر حملے کرتا ہے تو ہم جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

روس نے ہمیشہ یوکرین پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی تردید کی ہے لیکن وہ مغرب سے حفاظتی ضمانتوں کا مطالبہ کرتا ہے جن میں ایک اہم مطالبہ یہ ہے کہ پڑوسی ملک یوکرین کبھی بھی نیٹو میں شامل نہیں ہوگا۔

امریکا اور اس کے اتحادی یہ مطالبے مسترد کرتے رہے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ ہتھیاروں کے کنٹرول اور اعتماد سازی کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات پر بات کرنے کو تیار ہیں۔

پیوٹن نے منگل کو جرمن چانسلر اولاف شولز سے ملاقات کے بعد کہا کہ مغرب، روس کے اہم مطالبات کو نظر انداز کر رہا ہے لیکن ہم سلامتی کے معاملات پر بات چیت جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔

یورپی یونین کونسل کے سربراہ چارلس مشیل نے بدھ کے روز روس پر زور دیا کہ وہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

امریکا اور برطانیہ کی طرح نیٹو نے بھی روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یوکرین کی سرحد سے فوجی انخلا کے ثبوت دے۔

منبع: ڈان نیوز

The post یوکرین سے روسی فوج کے انخلا پر امریکا اور برطانیہ کا روس کے ارادوں پر تحفظات کا اظہار appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے