مسلم لیگ ن کی رہنما حنا پرویز بٹ نے عورت مارچ پر پابندی کے حوالے سے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نور الحق کے خط کیخلاف پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کرا دی ہے۔
لیگی رہنما حنا پرویزبٹ نے اپنی قرارداد میں خط پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کا یہ مقدس ایوان عورت مارچ پر پابندی لگانے کی تجویز پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔
حنا پرویز بٹ نے قرارداد میں کہا کہ حکومت خواتین کے حقوق کا تحفظ کرنے کی بجائے ان کی آواز دبانا چاہتی ہے۔ اسلام اور پاکستانی آئین میں عورت کے حقوق واضح ہیں۔ حکومت عورت پر بڑھتے تشدد، تعصب منفی رویے اور نفرت کا تاثر ختم کرے۔
انہوں نے اس خط میں عورت مارچ پر پابندی سے متعلق کہا کہ یہ ایوان وفاقی وزیر کی جانب سے عورت مارچ پر پابندی کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت عورت مارچ کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے۔ حنا پرویز بٹ نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ عورت مارچ کے شرکا کی فول پروف سیکیورٹی یقینی بنائی جائے۔
وزیر مذہبی امور کی جانب سے عورت مارچ پر پابندی کی تجویز پر اظہار تشویش کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرا دی pic.twitter.com/KGtvwTkZUK
— Hina Parvez Butt (@hinaparvezbutt) February 18, 2022
یاد رہے کہ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور کی جانب سے ایک خط صدر پاکستان اور وزیراعظم کو لکھا گیا ہے جس میں عورت مارچ کو سماجی روایات اور مذہبی اقدار کے مطابق کرنے کا پابند بنائے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور مندرجات میں وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ عورت مارچ میں اسلامی شعائر، معاشرتی اقدار، حیا و پاکدامنی، پردہ و حجاب پر کیچڑ اچھالنے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ مجھے عورت مارچ مجھے ان کے نعروں پر اعتراض ہے، عورت مارچ والوں کے کچھ نعرے قابل اعتراض تھے۔ اسلام کا جو میانہ روی کا فلسفہ ہے میں اس کے ساتھ چلنے والا آدمی ہوں، ہم تنوع کے خلاف نہیں، دین اور معاشرتی اقدار پر حملوں کے خلاف ہیں۔
