ویب ڈیسک —
امریکہ نے جمعے کے روز پولینڈ کو 250 ٹینک فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے، جو نیٹو اتحاد کا ایک رکن ملک ہے، جس پر کئی صدیوں سے روس یا تو حملہ آور یا پھر قابض رہا ہے۔ دوسری جانب یو کرین میں موجود روسی حمایت یافتہ ایک علیحدگی پسند راہنما نے اپنے شہریوں کو روس جانے کا مشورہ دیا ہے۔
وائس آف امریکہ کے لیے کین بریڈمئر اور کارلا باب کی رپورٹوں کے مطابق امریکی اہل کاروں نے بتایا ہے کہ پولینڈ کو 250 ایم ون ابرامز ٹینک فروخت کرنے سے پولینڈ کی سیکیورٹی کو تقویت ملے گی۔ وارسا میں امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ انھوں نے اور وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے کانگریس کو باضابطہ طور پر اطلاع کردی ہے کہ پولینڈ کو ٹینک فروخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس سے قبل پولینڈ نے اعلان کیا تھا کہ وہ چھ ارب ڈالر کی لاگت سے امریکہ سے ٹینک خریدنے کا سمجھوتہ کر چکا ہے۔
امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ روس نے بڑی تعداد میں اپنی فوج تعینات کرکے ، اپنی توقعات کے برعکس علاقے میں ڈر اور خوف پیدا کرنے کی بجائے دراصل نیٹو میں ایک نئی جان ڈال رہا ہے۔
روس کے حمایت یافتہ یوکرینی علیحدگی پسندوں کا ڈونیسک کے شہریوں کو روس جانے کا مشورہ:
یوکرین کی سرکاری افواج اورخطے میں موجود روسی حمایت یافتہ باغیوں کے درمیان حالیہ دنوں میں ‘لائن آف کانٹیکٹ’ پر گولے باری کی اطلاعات موصول ہونے اور،بڑھتے ہوئے تناؤ کے پیش نظر مشرقی یوکرین کے ایک علیحدگی پسند راہنما نے اپنے شہریوں کو روس جانے کا مشورہ دیا ہے۔
مغربی ممالک کی جانب سے ایک بار پھر یوکرین کے خلاف روس کے جارحانہ اقدام کی پیش گوئی کیے جانے سے یورپ میں نئی لڑائی چھڑنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
ڈونیسک کے علاقے میں علیحدگی پسند حکومت کے سربراہ، دینش پوشلین نے جمعے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ خواتین، بچوں اور عمر رسیدہ افراد کا انخلا سب سے پہلے ہوگا اور روس انھیں رہائش کی ضروری سہولیات فراہم کر ے گا۔
عارضی سرحد پر فائرنگ کے واقعات کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے، جہاں سرحدوں کے قریب ہی ڈیڑھ لاکھ روسی فوج کی تعیناتی کے تناظر میں مغربی ملکوں کا کہنا ہے کہ روس حملے کا بہانہ تلاش کر رہا ہے۔ سال 2014 میں مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسند تنازع کے نتیجے میں 14ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
مبصرین کے خیال میں مشرقی یوکرین میں فائرنگ کا یہ واقعہ کسی بڑے حملے کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔
ایک جانب مغربی ملکوں نے امن کی ضرورت پر زور دیا ہے، جب کہ دوسری طرف اپنی عسکری طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے روس نے جمعے کے روز بڑی سطح کی جوہری مشقوں کا اعلان کی ہے۔ ادھر امریکہ نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ روس کسی بھی وقت یوکرین پر حملہ کرسکتا ہے۔ یوکرین کے مشرق میں ڈونیسک اور لہانسک دو ایسے ملک ہیں جنھوں نے یوکرین سے علیحدگی حاصل کی تھی، اور وہ روس کے زیر اثر ہیں۔
یوکرین کے ڈونیسک اور لہانسک کے علاقے محاذ جنگ کا منظر پیش کر رہے ہیں، جہاں جمعرات کے دن بھاری توپ خانے سے گولہ باری ہوئی جس سے ایک کنڈر گارٹن اسکول کی دیواریں گر گئیں اور مواصلات کے بنیادی وسائل میں خلل پڑا۔
سال 2014ء میں بھی یوکرین کا یہی مشرقی علاقہ اس وقت میدان جنگ بنا تھا، جب علیحدگی کا تنازع سامنے آیا تھا، جس میں یوکرین کی حکومت اور ماسکو کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کے درمیان گھمسان کی لڑائی ہوئی تھی۔پ
(خبر کا کچھ حصہ ایسوسی ایٹڈ پریس سے لیا گیا)
