اسلام آباد(جسارت نیوز)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ نے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر کی جانب سے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کو حکومت مخالف لکھے گئے خط پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر میاں رضا ربانی نے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر سے استفسار کیاکہ یہ خط آپ نے کس لیے لکھا؟ اس خط کاآپ کی اٹانومی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، اس خط میں آپ نے اتنے لمبے چوڑے الزامات لگائے ہیں، آپ ایک فارن آرگنائزیشن کو حکومت کے بارے میں اتنا جارحانہ اورذلت آمیز خط کیسے لکھ سکتے ہیں؟ کمیٹی نے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے معاملہ آئندہ اجلاس میں دوبارہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ آنے والے سیف گیمز کا معاملہ بھی کمیٹی میں زیر بحث لانے کا فیصلہ کیا ہے۔جمعہ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر میاں رضا ربانی کی صدارت میں ہوا،اجلاس کے آغاز پر چیئرمین کمیٹی نے کمیٹی کو وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ کی طبیعت ٹھیک نہ ہونے اور ان کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے سے متعلق آگاہ کیا۔ اجلاس میں پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر عارف حسن کی جانب سے کمیٹی کو پاکستان اولمپک ایسوسی سے متعلق بریفنگ دی گئی، انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ مالی سال پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن پر58ملین روپے کے کل اخراجات ہوئے، پاکستان اولمپک ایسوسی کے منتخب آفیشلز کو کوئی تنخواہیں نہیں دی جاتیں ، انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ آئی او سی نے ہمارا اسپیشل آڈٹ کیا تھا۔رکن کمیٹی عرفان الحق صدیقی نے کہا کہ ہمیں بتائیں ایسوسی ایشن کی کارکردگی کیا رہی ہے ،14پندرہ،بیس سال میں پرفارم کیا کیا ہے؟ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ فیڈریشن کھلاڑی منتخب کرتی ہے، پی او اے یہ کرتا ہے کہ نام آئے،فہرست بنائی اور ان کو آگے بھیج دیا۔اجلاس کے دوران پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر کی جانب سے 20 اگست 2021کو انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کو لکھے گئے خط کامعاملہ بھی زیر غور آیا،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگر پی او اے اور حکومت کے درمیان کوئی تنازع ہے تو یہ اندرونی مسئلہ ہے،یہ خط آپ نے کس لئے لکھا؟ اس خط کاآپ کی اٹانومی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، اس خط میں آپ نے اتنے لمبے چوڑے الزامات لگائے ہیں، آپ ایک فارن آرگنائزیشن کو حکومت کے بارے میں اتنا گراہوا اور الزامات بھرا خط کیسے لکھ سکتے ہیں؟سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ نے کمیٹی کو بتایا یہ میرے اوپر ایک چارج شیٹ ہے میرے پاس اس کی کاپی بھی نہیں تھی۔سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے کہا کہ اس خط سے پتہ چلتا ہے یہ پہلا خط نہیں ہے،عرفان الحق صدیقی نے کہا کہ جب ہم باہر جاتے ہیں پتہ چلتا ہے دس پندرہ سال سے ہم کوئی میڈل نہیں لے پا رہے،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ خط کا مسئلہ ہم کمیٹی میں دوبارہ اٹھائیں گے ، ہم مطمئن نہیں ہیں،آنے والے سیف گیمز کا معاملہ بھی کمیٹی میں اٹھائیں گے۔
